Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
فیلڈ مارشل امن کے پیامبر بن کر تہران گئے، میری موجودگی ضروری نہیں تھی خواجہ آصف کا مولانا کو جواببینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد بڑھا دی گئی، رپورٹ ایف ایم یو کو دینا لازم قرارحافظ آباد؛ تبلیغی جماعت کی بس سیم نالہ میں گرنے سے 5افراد جاں بحق، 27 سے زائد زخمیتھرپارکر: اسپتال میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے حاملہ خاتون سمیت 10 افراد جاں بحقبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری؛ فتنۃ الہندوستان کا دہشتگرد ہلاکخیبر پختونخوا؛ تحریک انصاف حکومت میں ہونیوالی قانون سازی کا جائزہ لینے کا فیصلہحکومت کا غربت ناپنے کا پیمانہ تبدیل کرنے پر غوربلوچستان میڈیا فورم ضلع کوئٹہ کے عہدیداروں کا اعلان ، شاھین بارانزئی صدر ، بلال چترالی جنرل سیکرٹری، نعیم بلوچ فنانس سیکرٹری ہوگئےغیر آئینی اقدامات سے پارلیمنٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے،مولانا عبدالقادر لونیروہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے کا واقعہ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سکھر کا جائے حادثہ کا دورہ، 2 افراد جاں بحق، 4 زخمیفیلڈ مارشل امن کے پیامبر بن کر تہران گئے، میری موجودگی ضروری نہیں تھی خواجہ آصف کا مولانا کو جواببینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد بڑھا دی گئی، رپورٹ ایف ایم یو کو دینا لازم قرارحافظ آباد؛ تبلیغی جماعت کی بس سیم نالہ میں گرنے سے 5افراد جاں بحق، 27 سے زائد زخمیتھرپارکر: اسپتال میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے حاملہ خاتون سمیت 10 افراد جاں بحقبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری؛ فتنۃ الہندوستان کا دہشتگرد ہلاکخیبر پختونخوا؛ تحریک انصاف حکومت میں ہونیوالی قانون سازی کا جائزہ لینے کا فیصلہحکومت کا غربت ناپنے کا پیمانہ تبدیل کرنے پر غوربلوچستان میڈیا فورم ضلع کوئٹہ کے عہدیداروں کا اعلان ، شاھین بارانزئی صدر ، بلال چترالی جنرل سیکرٹری، نعیم بلوچ فنانس سیکرٹری ہوگئےغیر آئینی اقدامات سے پارلیمنٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے،مولانا عبدالقادر لونیروہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے کا واقعہ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سکھر کا جائے حادثہ کا دورہ، 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی

کوئٹہ میں پانی کا بحران: آخر شہری کب تک پیاسے رہیں گے؟

تحریر کردہ: بھار شاہ، کوئٹہ، بلوچستان

صاف پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر کوئٹہ کے ہزاروں شہری آج بھی اس بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ذمہ دار ادارے کب عملی اقدامات کریں گے؟پانی زندگی ہے، پانی صحت ہے اور پانی انسانی بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں صاف پانی کی فراہمی کو انسانی زندگی کے معیار سے جوڑا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پانی کا بحران ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ کہیں لوگ کئی کئی دن پانی کی فراہمی کے منتظر رہتے ہیں تو کہیں مہنگے داموں ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جانے والا پانی بھی ہر جگہ پینے کے قابل ہونے کی ضمانت نہیں رکھتا۔یہ صورتِ حال صرف پانی کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت، معاشی مشکلات، سماجی انصاف اور حکومتی ترجیحات سے جڑا ہوا ایک اہم معاملہ ہے۔پانی کی قلت: ایک بڑھتا ہوا بحران
کوئٹہ میں پانی کے بحرا کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی، بارشوں میں بے قاعدگی، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور پانی کے وسائل کا غیر مؤثر انتظام اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی پر بڑھتے ہوئے انحصار اور اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال نے بھی مستقبل کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔اگر پانی کے موجودہ ذخائر کو سائنسی بنیادوں پر منظم نہ کیا گیا اور متبادل ذرائع پیدا نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانی کی قلت کو محض عارضی انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک طویل المدتی چیلنج کے طور پر لیا جائے۔آلودہ پانی، بیماریاں اور عوامی مشکلات. پانی کی کمی اپنی جگہ ای بڑا مسئلہ ہے، لیکن صاف پانی کے بجائے غیر محفوظ پانی کا استعمال اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آلودہ پانی اسہال، پیچش، ہیضے اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں بچے، بزرگ اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔جب شہری پانی کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں تو ان کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ فراہم کیا جانے والا پانی کس ذریعے سے حاصل کیا گیا ہے اور آیا وہ انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ کریں، ٹینکروں کی صفائی یقینی بنائیں اور غیر محفوظ پانی کی فراہمی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر شہری مہنگے داموں پانی خریدنے کے باوجود اس کے محفوظ ہونے کے بارے میں مطمئن نہیں، تو ان کی صحت اور جان کی حفاظت کون یقینی بنائے گا؟حکومت سے چند اہم سوالات حکومت بلوچستان، کوئٹہ کے متعلقہ اداروں اور پانی کی فراہمی کے ذمہ دار حکام کو اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور قابلِ عمل اقدامات کرنے چاہییں۔ سب سے پہلے شہر میں پانی کی طلب، دستیابی اور تقسیم سے متعلق مستند اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ مسئلے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے۔پانی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، خراب پائپ لائنوں کی مرمت کی جائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ پانی کے غیر قانونی استعمال اور زیرِ زمین ذخائر کے بے تحاشا استحصال کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، پانی کو زمین میں جذب کرنے کے منصوبوں اور دیگر موزوں آبی وسائل پر توجہ دی جائے۔ طویل المدتی منصوبہ بندی کے بغیر اس بحران کا مستقل حل ممکن نہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کے نظام کی نگرانی کرے، پانی کے معیار کی جانچ کے نتائج عام کرے اور کم آمدنی والے خاندانوں کو صاف پانی مناسب قیمت پر فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک مؤثر نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔عوام کی ذمہ داری بھی اہم ہے. حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ شہریوں کو پانی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرنا چاہیے، گھروں میں رساؤ کی مرمت کرنی چاہیے اور پانی ذخیرہ کرنے والی ٹینکیوں اور برتنوں کو صاف رکھنا چاہیے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے مناسب طریقے اپنانے اور پانی کی بچت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عوام سے پانی بچانے کی توقع اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب انہیں پانی کی مناسب اور منصفانہ فراہمی میسر ہو۔ شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے ساتھ ریاستی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔اب عملی اقدامات کا وقت ہےکوئٹہ میں پانی کا بحران کسی ایک ادارے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے وابستہ معاملہ ہے۔ صاف پانی کی فراہمی محض ایک سہولت نہیں، بلکہ انسانی صحت، عزتِ نفس اور بہتر زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتی اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، منصوبوں پر شفاف انداز میں عمل درآمد ہو اور عوام کو بتایا جائے کہ پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کوئٹہ کے شہریوں کو خیرات نہیں، صاف پانی کی منصفانہ فراہمی اور اپنے بنیادی مسائل کا پائیدار حل درکار ہے۔ اگر آج پانی کے تحفظ اور فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔پانی زندگی ہے، اور زندگ کے اس بنیادی حق کے تحفظ کے لیے حکومت، عوام اور تمام متعلقہ اداروں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *