شدت پسندی کے معاملے پر فوج کے ترجمان اور تحریک انصاف کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

پاکستانی فوج کے ترجمان نے منگل کے روز ایک طویل پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شدت پسندی سے متعلق صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے افغان طالبان کے طرز حکمرانی پر بھی تنقید کی اور ماہرین کے مطابق اس پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان کا مؤقف واضح تھا کہ اگر افغان طالبان نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو ’پاکستان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے جبکہ دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناصرف کوششوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی جیسے حساس معاملات پر کوئی متفقہ پیغام سامنے نہیں آ سکا تو وہیں اس حوالے سے گذشتہ روز دیے گئے بیانات نے اندرونی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کی رائے جاننے سے قبل دیکھتے ہیں کہ فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا اور اس پر خیبر پختونخوا حکومت اور افغان طالبان کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا ہے۔

شدت پسندی کے معاملے پر فوج کے ترجمان اور تحریک انصاف کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us