پاکستانی فوج کے ترجمان نے منگل کے روز ایک طویل پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شدت پسندی سے متعلق صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
فوج کے ترجمان نے افغان طالبان کے طرز حکمرانی پر بھی تنقید کی اور ماہرین کے مطابق اس پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان کا مؤقف واضح تھا کہ اگر افغان طالبان نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو ’پاکستان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے جبکہ دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناصرف کوششوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی جیسے حساس معاملات پر کوئی متفقہ پیغام سامنے نہیں آ سکا تو وہیں اس حوالے سے گذشتہ روز دیے گئے بیانات نے اندرونی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کی رائے جاننے سے قبل دیکھتے ہیں کہ فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا اور اس پر خیبر پختونخوا حکومت اور افغان طالبان کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا ہے۔



