Banner
Daily Sahafat Quetta
September 13, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندیدنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی

ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4

ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4

احمدخان اچکزئی

ایک گیٹ کے اندر داخل ہوئے۔ وہاں پہنچ کر مجھے اور اس دوسرے شخص کو (جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ منان تھا، یعنی طیارہ اغوا کرنے والا) گاڑی میں ہی چھوڑ دیا گیا اور باقی لوگ کہیں چلے گئے۔ گاڑی کی کھڑکیاں بند تھیں اور شدید گرمی تھی۔ 15 منٹ بعد ہمیں گاڑی سے اتارا گیا اور ایک شخص نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہمیں ایک تاریک جگہ کی طرف لے جانا شروع کیا۔ چلتے ہوئے میرا پاؤں پھسل گیا۔ بڑی کوشش کے بعد میں گرنے سے بچ گیا، مگر پھر بھی میرے پاؤں میں موچ آ گئی۔ میں نے احتجاج کیا اور کہا کہ میں آنکھوں پر پٹی بندھے ہونے کے باعث کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا، کم از کم مجھے یہ تو بتایا جاتا کہ سامنے سیڑھیاں ہیں۔مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں تیل کی تیز اور ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ فرش مکمل طور پر گیلا اور پھسلن والا تھا۔ جب مجھے بیٹھنے کا حکم دیا گیا تو میں نے ہاتھوں کی مدد سے خشک جگہ تلاش کی۔ میں ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص آیا اور مجھے لات ماری اور کہا”کیا تم سمجھتے ہو یہاں دسترخوان بچھا ہے؟ ایسے بیٹھے ہو جیسے کوئی دعوت ہو رہی ہو۔ کھڑے ہو جاؤ!”اس کے حکم پر میں خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔ میں تقریباً 10 منٹ تک کھڑا رہا، پھر ایک اور شخص آیا اور مجھے دوبارہ بیٹھنے کا کہا۔ اس کے بعد آخرکار میری آنکھوں کی پٹی اور ہتھکڑیاں کھولی گئیں۔ وہاں سب سے پہلے جس شخص کو میں نے دیکھا، اسے شاہ جی کہا جاتا تھا۔ اس کا قد تقریباً پانچ فٹ دس انچ تھا، رنگ گورا تھا اور اس کا عہدہ نائیک تھا۔ وہ سامنے کھڑکی بند کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کمرہ تقریباً چھ بائی آٹھ فٹ کا تھا اور چاروں طرف تیل چھڑکا ہوا تھا۔ کئی جگہوں پر فرش میں نوکیلے اور بڑے پتھر آدھے دبے ہوئے تھے۔بعد میں شاہ جی نے آ کر مجھے ایک کمبل دیا اور کہا کہ اسے بچھا لو۔ میں نے کمبل بچھایا اور اس پر بیٹھ گیا۔ شدید گرمی اور روزے کی حالت میں مجھے سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔ افطار کے وقت انہوں نے مجھے مناسب افطاری فراہم کی۔ میں نے نماز ادا کی۔تقریباً رات 10 بجے مجھے دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر کوٹھڑی سے باہر لے جایا گیا۔ جب پٹی کھولی گئی تو میں خود کو ایک کمرے میں ایک ایسے شخص کے سامنے بیٹھا ہوا پایا جس کا چہرہ بالکل سپاٹ، بے تاثر اور کلین شیو تھا۔ اس کی شخصیت اس قدر خوفناک تھی کہ وہ انسان سے زیادہ کسی درندے کا روپ معلوم ہوتا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا نام میجر اختر تھا۔ایک بار پھر تفتیش کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہ اس بات پر اڑا ہوا تھا کہ طیارہ اغوا کرنے کا پورا منصوبہ تو نے تیار کیا تھا۔ جو بھی الزامات وہ مجھ پر عائد کرتا، میں دو ٹوک انداز میں انکار کر دیتا، کیونکہ وہ سراسر جھوٹ تھے۔ میں بار بار کہتا رہا کہ نہ میں نے کچھ کیا ہے اور نہ ہی مجھے کسی بات کا علم ہے۔ تفتیش تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ اس کے بعد مجھے دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی، مگر میں وہیں بیٹھا رہا۔ اسی دوران میجر اختر نے اچانک میری داڑھی پکڑی (جو اس وقت تک خاصی بڑھ چکی تھی) اور زور زور سے جھٹکے دیتے ہوئے سخت لہجے میں کہا”میں دیکھتا ہوں تم کیسے اقرار نہیں کرتے!”پھر اس نے ایک اہلکار کو حکم دیا کہ مجھے واپس کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے۔ وہ اہلکار، جسے میں اس کی مونچھوں سے پہچانتا تھا، مجھے ایک راہداری سے لے جا رہا تھا کہ اچانک میجر اختر نے چلا کر حکم دیا”اسے ایسے لے جا رہے ہو جیسے مال روڈ پر سیر کر رہے ہو، اسے دوڑاؤ!”چنانچہ اہلکار نے مجھے دوڑایا اور تقریباً پچاس قدم دور واقع کوٹھڑی میں لے جا کر بند کر دیا۔ وہاں اس نے میری آنکھوں کی پٹی کھول دی۔ میں اس قدر تھکا ہوا تھا کہ فوراً سو گیا۔ کچھ دیر بعد زور دار دھماکے کے ساتھ کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا اور بتایا گیا کہ سحری کا وقت ہے۔ میں اٹھا، سحری کی اور دوبارہ سو گیا۔ ابھی میں نے آنکھ لگائی ہی تھی کہ دروازہ پھر کھلا اور پوچھا گیا”نماز پڑھنی ہے؟”میں نے ہاں کہا، تو میرے سر پر تولیہ ڈال کر مجھے وضو کے لیے غسل خانے لے جایا گیا۔ وضو کے بعد دوبارہ میری آنکھوں اور سر پر تولیہ ڈال دیا گیا اور مجھے واپس کمرے میں لے آیا گیا۔ دروازہ بند ہوتے وقت میں نے وقت پوچھا تو اہلکار نے بہت آہستہ سے بتایا کہ ساڑھے چار بجے ہیں۔ نماز ادا کرنے کے بعد میں نے قرآن مجید مانگا۔ کافی دیر بعد وہ قرآن لے آئے۔ میں نے تلاوت کی اور تقریباً صبح دس بجےسو گیا۔ یہی معمول میرے باقی تمام دنوں میں رہا۔ میں وقت پر نمازیں ادا کرتا اور صرف وضو کے لیے ہی کوٹھڑی سے باہر نکالا جاتا تھا۔اسی دن تقریباً رات دس بجے ایک صوبیدار آیا اور مجھے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ میں خاموشی سے ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا ہو گیا۔ یہ ایک نیا قسم کا تشدد تھا۔ مجھے مسلسل ایک گھنٹے تک کھڑا رکھا جاتا۔جاری۔۔۔۔۔۔
اقتباس میرے تصنیف(واشنگٹن سے بیجنگ تک)

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *