Banner
Daily Sahafat Quetta
September 13, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندیدنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی

لاش ایک مذمت سو

لاش ایک مذمت سو

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، تاریخِ صحافت کے آئینے میں احتجاج اور بیانیے کی سیاست اردو صحافت کی دو صدیوں پر محیط تاریخ میں سرخیاں صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں رہیں، بلکہ وہ سیاسی تحریکوں، فکری انقلابوں اور عوامی غصے کی ترجمان بھی رہی ہیں۔ زیرِ نظر عنوان “لاش ایک مذمتیں سو” اپنے اندر صحافتی احتجاج، سیاسی مزاحمت المیاتی بیانیے کی ایک ایسی تلخ اور جامع حقیقت سمیٹے ہوئے ہے، جو تاریخ کے مختلف ادوار میں میڈیا اور اقتدار کے مابین کشمکش کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ جملہ دراصل اس صحافتی موڑ کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک واحد ناکام واقعہ، ایک انسانی المیہ یا ایک مظلوم کی لاش وقت کے جابر حاکم کے خلاف سو مختلف قسم کی مذمتوں اور تنقیدوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔تاریخِ صحافت کا عمیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ خبر نگاری ہمیشہ محض واقعاتی حقائق کی ترجمانی نہیں کرتی، بلکہ الفاظ کا انتخاب معاشرتی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا کام کرتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں صحافت کی بنیاد ہی مزاحمت پر رکھی گئی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے “الہلال”، مولانا محمد علی جوہر کے “ہمدرد” اور ظفر علی خان کے “زمیندار” جیسے جریدوں نے ثابت کیا کہ جب بھی کوئی ظلم ہوا، یا کسی بے گناہ کا خون بہا، تو صحافتی قلم نے محض ایک تعزیتی تعارف شائع نہیں کیا، بلکہ اس ایک المیے سے سو نئے سیاسی و فکری سوالات جنم بریدہ کیے گئے۔صحافتی لغت اور تکنیک میں اس مظہر کو “پیکر تراشی” اور “ایجنڈا سیٹنگ” کا نام دیا جاتا ہے۔ جب کوئی غیر انسانی واقعہ یا ریاست کی غفلت کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان (لاش) سامنے آتا ہے، تو میڈیا کا کام صرف اس خبر کو نشر کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ارد گرد اخلاقی، قانونی اور سیاسی سوالات کا جال بننا ہوتا ہے۔ ایک ‘لاش’ جب صحافت کے صفحہ اول پر جگہ پاتی ہے، تو وہ ایک شخص کا جسدِ خاکی نہیں رہتی، بلکہ وہ نظام کی ناکامی، قانون کی حکمرانی کے فقدان اور انسانی حقوق کی پامالی کی زندہ علامت بن جاتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے “سو مذمتیں” جنم لیتی ہیں ایوانِ اقتدار سے جوابدہی کا مطالبہ، اپوزیشن کا احتجاج، سول سوسائٹی کا ردِعمل، اور بین الاقوامی برادری کی تنقید۔اگر ہم بین الاقوامی صحافت اور تاریخِ نقلِ خبر کا جائزہ لیں، تو جنگِ عظیم، استعماری ادوار اور آمرانہ رژیموں کے دوران بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ صحافتی تاریخ میں کئی ایسی تصاویر اور خبریں ثبت ہیں جنہوں نے پوری دنیا کے بیانیے کو بدل کر رکھ دیا۔ کسی ایک سانحے پر اٹھنے والے قلم نے سو مختلف سمتوں سے زوالِ اقتدار کی بنیاد رکھی۔ صحافت جب اپنے اعلیٰ معیار اور پیش ورانہ غیر جانبداری کے ساتھ کسی المیے کا احاطہ کرتی ہے، تو وہ جذباتیت کے بجائے مدلل اور بااثر تنقید کا راستہ اختیار کرتی ہے۔اردو کے فصیح و بلیغ صحافتی اسلوب میں اس عنوان کا معنوی تاثر یہ بھی ہے کہ ظلم کی عمر مختصر ہوتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری اور صحافتی مذمتیں نسلاً بعد نسل زائل نہیں ہوتیں۔ تاریخ دان اور صحافتی نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ جب سچ کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ایک مظلوم کا سکوت بھی میڈیا کی دنیا میں “سو آوازوں” کی شکل میں گونجتا ہے۔جیسے لاش ایک مذمتیں سو” صحافت کی اس عظیم روایت کا استعارہ ہے جو طاقتور کو آئینہ دکھاتی ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی حرمت اور سچائی کی حفاظت ہی صحافت کا حقیقی نصب العین ہے۔ تاریخِ صحافت کا ہر باب اس بات کا شاہد ہے کہ الفاظ جب سچائی کے ساتھ قلمبند ہوتے ہیں، تو وہ صرف خبر نہیں بنتے بلکہ تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید فیصلہ بن جاتے ہیں جو ظالم کے خلاف ایک سدا بہار مذمت بن کر قائم رہتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *