Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: ویسٹرن بائی پاس پر غیر معیاری جوس یونٹ سیل، سامان ضبط، قانونی کارروائی شروعمعیشت کو بیرونی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری پر منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہکرک میں پولیس موبائل پر آئی ای ڈی حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور 6 زخمیمکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اجلاس؛ وزیر دفاع سے ترک ہم منصب کی ملاقاتڈاکٹر سید رضا عباس زیدینوشکی، کمسن بچی کے مبینہ زیادتی و قتل کیس کے تمام 3 نامزد ملزمان گرفتارنوشکی میں کمسن بچی بی بی صبیہ کیس، تینوں نامزد ملزمان گرفتار، بابر یوسفزئی نے پولیس کارروائی کو سراہا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اعلان سے کورٹ کچہری کا چکر ختملشکری رئیسانی کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت، سیاسی قیادت کو آزادانہ کردار ادا کرنے دیا جائے: میر عزیز مریپاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے بالاتر رہی، خواجہ آصفکوئٹہ: ویسٹرن بائی پاس پر غیر معیاری جوس یونٹ سیل، سامان ضبط، قانونی کارروائی شروعمعیشت کو بیرونی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری پر منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہکرک میں پولیس موبائل پر آئی ای ڈی حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور 6 زخمیمکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اجلاس؛ وزیر دفاع سے ترک ہم منصب کی ملاقاتڈاکٹر سید رضا عباس زیدینوشکی، کمسن بچی کے مبینہ زیادتی و قتل کیس کے تمام 3 نامزد ملزمان گرفتارنوشکی میں کمسن بچی بی بی صبیہ کیس، تینوں نامزد ملزمان گرفتار، بابر یوسفزئی نے پولیس کارروائی کو سراہا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اعلان سے کورٹ کچہری کا چکر ختملشکری رئیسانی کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت، سیاسی قیادت کو آزادانہ کردار ادا کرنے دیا جائے: میر عزیز مریپاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے بالاتر رہی، خواجہ آصف

ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی

ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی

AI Policy, Governance & Digital Transformation Expert
مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس، عوامی پالیسی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے درمیان ایک مؤثر پل

منشاقاضی
حسبِ منشا

ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی ایک ممتاز پالیسی ریسرچر، AI Governance Expert، Digital Policy Specialist اور Technology Policy Professional ہیں، جن کی علمی اور پیشہ ورانہ شناخت مصنوعی ذہانت، عوامی پالیسی، ڈیجیٹل گورننس، ذمہ دار ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی تبدیلی کے باہمی تعلق کے حوالے سے نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی بنیادی مہارت اس امر کو سمجھنے اور واضح کرنے میں ہے کہ Artificial Intelligence اور Emerging Technologies محض کمپیوٹر سائنس یا ٹیکنالوجی کا موضوع نہیں بلکہ یہ ریاست، معیشت، معاشرے، تعلیم، روزگار، قومی سلامتی، ادارہ جاتی فیصلہ سازی اور عالمی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی قوتیں ہیں۔ ڈاکٹر رضا عباس زیدی اسی نقطۂ نظر کے تحت ٹیکنالوجی اور پالیسی کے درمیان ایک مضبوط فکری اور عملی پل قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

علمی پس منظر

زیدی خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اپنی علمی اور تحقیقی سفر کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دی اور امریکہ کی Walden University سے Artificial Intelligence, Public Policy and Governance کے شعبے میں PhD حاصل کی۔ ان کی ڈاکٹریٹ سطح کی علمی تربیت نے انہیں مصنوعی ذہانت کو صرف ایک technical innovation کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے پالیسی، انتظامی، سماجی، اقتصادی اور حکمرانی سے متعلق اثرات کا جامع مطالعہ کرنے کی صلاحیت فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحقیق میں AI کے technical پہلوؤں کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ: کون AI کو regulate کرے گا؟
AI کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
الگورتھمز میں شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے؟
انسانی حقوق اور privacy کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟
اور ترقی پذیر ممالک AI انقلاب میں اپنا مؤثر کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں؟

تقریباً ایک دہائی کا تحقیقی اور پالیسی تجربہ

ڈاکٹر رضا عباس زیدی کو تقریباً ایک دہائی پر محیط research، policy development، strategic analysis اور knowledge-driven projects کا تجربہ حاصل ہے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے متعدد بین الاقوامی منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور پالیسی initiatives میں حصہ لیا۔

انہوں نے Arthur D. Little، Kaplan سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں، ماہرین، محققین اور research networks کے ساتھ تعاون کیا، جہاں انہیں عالمی سطح پر technology، education، policy، governance اور knowledge systems سے متعلق منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔

بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ان کے تجربے نے ان کی پیشہ ورانہ سوچ کو مقامی دائرے سے نکال کر عالمی تناظر فراہم کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیئے عالمی technology trends اور policy frameworks کو سمجھنے اور مقامی ضروریات کے مطابق ان پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

AI Governance — ان کی بنیادی تخصص

ڈاکٹر رضا عباس زیدی کے کام کا ایک اہم میدان Artificial Intelligence Governance ہے۔

AI کے تیزی سے پھیلتے ہوئے استعمال کے ساتھ دنیا کو ایسے نئے سوالات کا سامنا ہے جن کا تعلق صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ قانون، اخلاقیات، ریاستی ذمہ داری، انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف سے بھی ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ AI کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایسے responsible governance frameworks تشکیل دینا ضروری ہے جو innovation کو روکنے کے بجائے اسے محفوظ، شفاف اور عوامی مفاد کے مطابق آگے بڑھائیں۔

ان کی دلچسپی کے اہم موضوعات میں شامل ہیں:

– AI Policy & Regulation
– AI Governance
– Responsible AI
– Digital Governance
– Digital Transformation
– Technology Policy
– Emerging Technologies
– Data Governance
– Algorithmic Accountability
– Privacy & Digital Rights
– Institutional Capacity Building
– Public Sector Digital Transformation
– AI Ethics
– Technology and Public Policy

ٹیکنالوجی اور حکمرانی کا نیا تصور

ڈاکٹر رضا عباس زیدی کا پالیسی وژن اس تصور پر مبنی ہے کہ Technology اور Governance کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

آج کے دور میں حکومتوں کے فیصلے، عوامی خدمات، معاشی سرگرمیاں، تعلیم، صحت، صنعت، مالیاتی نظام اور قومی پالیسی تیزی سے digital technologies سے منسلک ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستی اداروں کے لیے صرف technology خرید لینا کافی نہیں بلکہ انہیں digital capacity، policy frameworks، skilled human resources اور institutional readiness بھی پیدا کرنا ہوگی۔

اسی تناظر میں Digital Transformation ان کے کام کا ایک اہم پہلو ہے۔

ان کے نزدیک حقیقی digital transformation صرف کاغذی نظام کو کمپیوٹرائز کرنے کا نام نہیں بلکہ اداروں کے طریقۂ کار، فیصلہ سازی، عوامی خدمات اور organizational culture میں بنیادی اور بامعنی تبدیلی کا عمل ہے۔

پاکستان اور ترقی پذیر ممالک کے لیے وژن

ڈاکٹر رضا عباس زیدی کے پالیسی وژن کا ایک اہم پہلو پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو عالمی AI revolution میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ وہ جدید ترین AI technology کہاں سے خریدیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقامی حالات، انسانی وسائل، معاشی ترجیحات اور قومی مفادات کے مطابق AI policies اور governance frameworks کیسے تشکیل دیں۔

ان کا وژن یہ ہے کہ پاکستان صرف عالمی ٹیکنالوجی کا consumer نہ رہے بلکہ مستقبل میں policy shaper، knowledge producer اور responsible technology leader کے طور پر بھی اپنا مقام پیدا کرے۔

اس مقصد کے لیے research، education، policy dialogue، institutional capacity building اور international collaboration کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

موجودہ ذمہ داریاں

فی الوقت ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی Indus Institute for AI & Digital Policy (IIADP) میں Deputy Director کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس ذمہ داری کے تحت وہ ادارے کی research activities، policy development، strategic initiatives، partnerships اور international collaboration سے متعلق مختلف امور میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

IIADP جیسے ادارے میں ان کی ذمہ داری انہیں ایک ایسے پلیٹ فارم پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جہاں Artificial Intelligence، Digital Policy، Governance اور Public Interest Technology جیسے اہم موضوعات پر تحقیق اور پالیسی مکالمے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

عالمی تناظر میں پاکستانی AI پالیسی کی آواز

ڈاکٹر رضا عباس زیدی کی پیشہ ورانہ شناخت کا ایک اہم پہلو ان کا global اور local perspectives کو یکجا کرنے کا انداز ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو AI کے عالمی مباحث میں محض باہر سے بنائے گئے models اور policies کو اپنانے کے بجائے اپنی ضروریات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر اپنا پالیسی وژن تشکیل دینا ہوگا۔

اس کے لیے پاکستان کو ایسے ماہرین، researchers، policymakers، universities، technology organizations اور civil society institutions کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنا ہوگا جو مل کر مستقبل کی technology policy تشکیل دے سکیں۔

مستقبل کی سمت

مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں دنیا کے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام کو مزید تبدیل کرنے والی ہے۔ ایسے میں AI Governance، Digital Policy اور Technology Regulation کی اہمیت مسلسل بڑھتی جائے گی۔

ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی کی علمی تربیت، بین الاقوامی تحقیقی تجربہ، پالیسی expertise اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے ان کی دلچسپی انہیں اس emerging field میں ایک مضبوط پیشہ ورانہ مقام فراہم کرتی ہے۔

ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کامیابی صرف technology کو سمجھنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ technology کے انسانی، اخلاقی، قانونی، معاشی اور حکومتی اثرات کو سمجھنا بھی equally ضروری ہے۔

ایک ابھرتی ہوئی فکری سمت

ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی کی شخصیت کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ Technology، Policy اور Governance کے سنگم پر کام کرنے والے ایک پاکستانی AI Policy Expert ہیں۔

ان کی علمی اور پیشہ ورانہ سمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل کی قیادت صرف وہ نہیں کرے گی جو جدید ترین technology بنائے گی، بلکہ وہ بھی اہم کردار ادا کرے گی جو یہ طے کرے گی کہ:

ٹیکنالوجی کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی،
اس کے فوائد کس تک پہنچیں گے،
اس کے نقصانات سے کیسے بچا جائے گا،
اور مصنوعی ذہانت کو انسان اور معاشرے کے بہتر مستقبل کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے گا۔

اسی وسیع تناظر میں ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی پاکستان میں AI Policy، Digital Governance، Responsible AI اور International Technology Policy کے شعبوں میں ایک اہم اور ابھرتی ہوئی آواز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ میں ممنونِ احسان ہوں حمزہ علی چوھدری کا جنہوں نے ایک انمول موتی کی مخفی صلاحیتوں سے روشناس کرایا ۔ سپیکر صوبائی اسمبلی ملک محمد احمد خان اور ڈاکٹر عامر رفیق نے بھی نوجوان عبقری سائنسدان ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی ، ڈاکٹر کمال آیدن اور حمزہ علی چوھدری کی بھر پور تعریف کی ۔ ان پر بھی میرا کالم آ رہا ہے ۔ یہ تینوں چہرے میری کتاب روشن چہرے میں آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر زیدی اور حمزہ علی چوھدری میرے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا شاعرِ مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں ۔

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *