Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیعالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشی

چاپلوسی کا ناسور اور اخلاقی قدروں کا زوال

محمدنسیم رنزوریار

چاپلوسی کا ناسور اور اخلاقی قدروں کا زوال

قارئین کرام، ہمارے جدید معاشرے میں اخلاقی اقدار کا مسلسل زوال اور بنیادی انسانی اہمیت کا خاتمہ ایک ایسا گہرا دردناک سچ ہے جو اجتماعی زندگی کے وجود کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس عظیم اخلاقی تنزل کی سب سے بڑی اور بنیادہ وجہ خان، ملک، نواب، سردار، وڈھیرے اور اعلیٰ سرکاری و اجتماعی مناصب پر فائز افراد کی بے جا چاپلوسی اور ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی روش ہے۔ معاشرے میں ابھرنے والے کچھ خود غرض اور مفاد پرست عناصر اپنے شخصی مقاصد اور پیٹ پالنے کی خاطر اقتدار کے ایوانوں، بااثر جاگیرداروں اور ظالم حکمرانوں کے گرد طواف کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ طبقہ نہ صرف طاقتوروں کے ظلم، جبر، ناانصافی اور حق تلفی پر پردہ ڈالتا ہے بلکہ ان کی ہر بری حرکت اور انسانیت سوز رویے کو اپنے الفاظ کی گھناؤنی بناوٹ سے مثبت رنگ دے کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جسے اسلامی تعلیمات اور دینی روایات میں مداحی کہا گیا ہے، جہاں انسان محض دنیوی مال و دولت، عارضی جاہ و جلال اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے سچائی کا گلا گھونٹ کر ظالموں کی خوشامد میں مصروف ہو جاتا ہے۔اسلامی طرزِ زندگی میں مداحی اور بے جا خوشامد کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ جب کسی معاشرے میں سچ کہنے والے کو خاموش اور چاپلوس کو عزت دی جانے لگے تو وہاں عدل و انصاف کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ جب تم مداحوں اور چاپلوسوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر خاک پھینک دو، تاکہ سچائی کا شعلہ کبھی مدہم نہ پڑے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے سماج میں اس ہدایت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وڈھیروں، سرداروں اور اربابِ اقتدار کی زیادہ تر زیادتیاں، جبر، حق تلفی اور کھلی بے حیائی و عریانی عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ جب چاپلوس عناصر طاقتور طبقے کے ہر غلط اقدام پر تالیاں بجاتے ہیں اور ان کے غیر اخلاقی و غاصبانہ رویوں کو دانشمندی کا نام دیتے ہیں، تو ان کے اندر کا انسان مر جاتا ہے اور وہ خود کو قانون اور اخلاقیات سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں پورا معاشرہ ایک ایسے اندھے کنویں میں جا گرتا ہے جہاں نیکی کمزور اور بدی طاقتور دکھائی دینے لگتی ہے۔
اس روش نے عام فرد کے ذہن میں یہ خوفناک سوچ راسخ کر دی ہے کہ سچائی، محنت اور دیانت داری کی کوئی قدر نہیں بلکہ آگے بڑھنے اور بقا حاصل کرنے کا واحد طریقہ چاپلوسی اور خوشامد ہی ہے۔ جب علم، بصیرت اور کردار کے بجائے اقتدار اور دولت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والوں کو معاشرے میں اعلیٰ مقام دیا جائے گا، تو وہاں حیا، احترام اور حقیقی اخلاق کا وجود ختم ہونا لازمی امر ہے۔ طاقتور طبقہ جب دیکھتا ہے کہ اس کے ظلم اور غلط کاریوں پر آواز اٹھانے کے بجائے لوگ اس کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں، تو اس کا حوصلہ مزید بڑھتا ہے اور وہ مزید بے باکی سے انسانی حقوق اور شرافت کو پامال کرتا ہے۔ یہ سارا عمل ہمارے اجتماعی توازن کو تباہ کر رہا ہے اور نوجوان نسل کے اندر سے باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور حق کا ساتھ دینے کا جذبہ ختم کر رہا ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے کو اس اخلاقی تباہی، جاگیردارانہ سوچ اور چاپلوسی کے زہر سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی تعلیمات کی طرف لوٹنا ہوگا، جہاں سچ کہنا جہاد کے مترادف اور ظالم کو ظالم کہنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں اپنے ارد گرد پھیلے مداحوں اور چاپلوسوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ پیٹ پالنے یا چند ٹکڑوں کے لیے کسی ظالم کے سامنے جھکنا انسانیت اور ایمان کے منافی ہے۔ خان، ملک، نواب یا کسی بھی منصب دار کا احترام صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے جب وہ عدل، اخلاق اور انسان دوستی کی پاسداری کرے، نہ کہ اس کے اقتدار یا ڈر کی وجہ سے۔ جب تک ہمارا معاشرہ خوشامد کی زنجیریں توڑ کر سچ اور حق کی علمبرداری نہیں کرے گا، تب تک ظلم، ناانصافی اور اخلاقی تنزل کے اس دائرے سے نکلنا ناممکن رہے گا۔ اجتماعی بیداری اور کردار کی مضبوطی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمارے سماج کو دوبارہ اخلاقی بلندی اور عزت کا مقام دلا سکتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *