Banner
Daily Sahafat Quetta
October 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1995/21-10-2026منزلِ عقاب: خود کو بدلیں، نفرتوں کو مٹائیں، عوام کو جگائیںکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکبادسکھر پولیس کی کارروائیاں، آئی آر لسٹڈ منشیات سپلائر سمیت 3 ملزمان گرفتار، 19 شراب کی بوتلیں برآمدگنداخہ شہر میں سیوریج سسٹم اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیعوامی خوشحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیضلع کشمور میں نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے لیے اہم اجلاسحرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمیTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1995/21-10-2026منزلِ عقاب: خود کو بدلیں، نفرتوں کو مٹائیں، عوام کو جگائیںکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکبادسکھر پولیس کی کارروائیاں، آئی آر لسٹڈ منشیات سپلائر سمیت 3 ملزمان گرفتار، 19 شراب کی بوتلیں برآمدگنداخہ شہر میں سیوریج سسٹم اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیعوامی خوشحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیضلع کشمور میں نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے لیے اہم اجلاسحرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمی

جشنِ آزادی کا پُر عزم مشاعرہ ، شعراء کا خراجِ عقیدت

پوری قوم نے جشنِ آزادی نہایت جوش و خروش سے منایا ، اہلِ قلم نے بھی ملی جذبے اور قومی حمیّت کےساتھ مشاعروں ، مباحثوں اور مذاکروں میں شرکت کر کے بھرپور انداز میں منایا ۔ پاکستان اکادمی ادبیات کوئٹہ نے ادارہ نظامتِ ثقافت کے تعاون سے منعقد کیا ، جس کی صدارت ممتاز بزرگ شاعر سرور سودائی نے کی ، جبکہ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ اور سرور جاوید نے بطور مہمانِ خاص شرکت کی ۔
مشاعرے میں عیسیٰ رسولی ، عزیز اللہ حاکم ، غلام علی جون ، محترمہ نرگس تنہا ، محترمہ فائزہ شکیل صدیقی ، عجب سائل ، اے ، ڈی بلوچ ، جہانگیر کاوش ، شیخ فرید (راقم الحروف) محترمہ جہں آراء تبسم ، محترمہ فیمیدہ گل اور محترمہ تسنیم صنم نےاپنا خہال افروز کلام پیش کر کے اہنی حب الوطنی کا اظہار کیاچ۔ بعد ازاں ڈائریکٹر اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈاکٹر قیوم بیدار نے اپنے سپاسنامہ میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے عمر بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سال 2025ء کا ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ معروف براہوی ادیب و شاعر عبد الرحمن براہوی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یاد رہے ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ پاکستان کا سب سے بڑا اور باوقار ادبی اعزاز ہے، جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جاتی ہے۔ سال 2025ء کے اس ایوارڈ کا فیصلہ ملک کے ممتاز اور مستند اہلِ دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا۔ پینل میں منیر احمد بادینی، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، مبین مرزا، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، رانا محبوب اختر، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر روبینہ شاہین، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، حسام حر، ثروت محی الدین، محمد قاسم نسیم اور حارث خلیق شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت معروف ادیب و دانش ور منیر احمد بادینی نے کی۔صدرنشین اکادمی نے اپنی اور اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبد الرحمن براہوی اور اہلِ بلوچستان کو اس اہم ادبی اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کی۔
منیر احمد بادینی نے کہا کہ انھیں اس بات کی دلی مسرت ہے کہ اس سال ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ براہوی زبان کے ایک ایسے ممتاز ادیب کو دیا جا رہا ہے جس کی ادبی خدمات نہ صرف براہوی زبان بلکہ پاکستان کے مجموعی ادبی منظرنامے کا بھی قیمتی سرمایہ ہیں انھوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے قومی اور علاقائی زبانوں کے ادب کو یکساں اہمیت دے کر ادبی تنوع اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہے، جو قابلِ تحسین اقدام ہے ، بلوچستان سے آنے والے اہلِ قلم کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہواانھوں نے کہا کہ چیئرپرسن اور ان کی پوری ٹیم نے ہمیشہ پاکستان کی تمام زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کی عزت افزائی کی ہے اور ملکی زبانوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں انھوں نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ایوارڈز کے انتخاب میں ادبی معیار، شفافیت اور غیر جانب داری کو مقدم رکھا گیا۔اس موقع پر سال 2025ء کے قومی ادبی ایوارڈز کا بھی اعلان کیا گیا۔ چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بتایا کہ اردو نثر (تخلیقی ادب، فکشن) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ اخلاق احمد کی کتاب ’’بھید بھرے‘‘ کو دیا گیا (منصفین: مبین مرزا، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، محمد حمید شاہد)۔اردو نثر (تخلیقی ادب، نان فکشن) کے لیے مشتاق احمد یوسفی ایوارڈ محمد اظہار الحق کی کتاب ’’بکھری ہے میری داستاں‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر ناصر عباس نیّر، محمد حمید شاہد، عرفان جاوید)۔اردو نثر (تحقیقی و تنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ساجد صدیق نظامی کی کتاب ’’تحولاتِ نثرِ اردو‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر امجد طفیل)۔اردو شاعری کے لیے ’’علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’حافظہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: شعیب بن عزیز، نصیر احمد ناصر، سرور جاوید)۔پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ ظہیر وٹو کی کتاب ’’کانہہ دے بلوں‘‘ جبکہ پنجابی نثر کے لیے ’’افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘‘ سلیم شہزاد کی کتاب ’’ورلاپ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: غلام حسین ساجد، رائے محمد خان ناصر، ڈاکٹر نبیلہ رحمان)۔سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبداللطیف بھٹائی ایوارڈ‘‘ انور کاکا کی کتاب ’’پيشانيءَ سان لکيل نظم‘‘ جبکہ سندھی نثر کے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ مشترکہ طور پر اکبر سومرو کی کتاب ’’مراڪش جي گهٽي‘‘ اور ڈاکٹر ریاضت برڑو کی کتاب ’’سنڌي ٻوليءَ ۾ لغت نويسي جو تحقيقي مطالعو‘‘ کو دیا گیا (منصفین: مدد علی سندھی، ڈاکٹر شبنم گل، تاج جویو)۔پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ مشترکہ طور پر جمشید علی جمشید کی کتاب ’’مخونہ کتابونہ‘‘ اور ڈاکٹر کلیم شنواری کی کتاب ’’سخن کدہ‘‘ جبکہ پشتو نثر کے لیے ’’محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ‘‘ گل محمد بیتاب کی کتاب ’’د اباسین پہ غاڑہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: فاروق سرور، اظہار اللہ اظہار، کلثوم زیب)۔بلوچی شاعری کے لیے ’’مست توکلی ایوارڈ‘‘ منیر مومن کی کتاب ’’واب شہر انت نہ بوتگنت مانا‘‘ جبکہ بلوچی نثر کے لیے ’’سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر فضل خالق کی کتاب ’’مر، اوتاک‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر ضیاء الرحمن بلوچ، ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ، محمد یوسف گچکی)۔سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘ شاہد ماکلی کی کتاب ’’اجوک‘‘ جبکہ سرائیکی نثر کے لیے ’’ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ‘‘ رفعت عباس کی کتاب ’’مسخریاں دا میلہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: سلیم شہزاد، مسرت کلانچوی، رانا محبوب اختر)۔براہوی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ‘‘ سائر سریابی کی کتاب ’’گٹکار‘‘ جبکہ براہوی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ شہزاد غنی کی کتاب ’’جادوئیا جنت روس‘‘ کو دیا گیا (منصفین: طاہرہ احساس جتک، افضل مراد، وحید زہیر)۔ہندکو شاعری کے لیے ’’سائیں احمد علی ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’خالی آسمان‘‘ جبکہ ہندکو نثر کے لیے ’’خاطر غزنوی ایوارڈ‘‘ پروفیسر ملک ناصر داؤد کی کتاب ’’علامہ محمد اقبال‘‘ کو دیا گیا (منصفین: حسام حر، بشریٰ فرخ، محمد حنیف)۔انگریزی نثر کے لیے ’’پطرس بخاری ایوارڈ‘‘ محمد اطہر طاہر کی کتاب “Where Cicadas Sing” کو دیا گیا (منصفین: محمد سفیر اعوان، ارشد وحید، محمد افسر ساجد)۔ترجمے کے شعبے میں ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘ انعام ندیم کی کتاب ’’غزہ سے ایک اور خط‘‘ کو دیا گیا (منصفین: سلمان باسط، ہما انور، ظفر (زیف) سید)۔قومی ادبی ایوارڈ حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دو لاکھ روپے بطور انعامی رقم دی جائے گی ۔
کوئٹہ کی معروف شاعرہ غزالہ بٹ کے اعزاز میں بزم صائم ادبیات و اردو اکیڈمی کی سربراہ تسنیم صنم نے خواتین کا منفرد مشاعرہ منعقد کر کے نئی روایت کی داغ بیل ڈال دی ہے ۔
اِس مشاعرے کی صدارت طاہرہ احساس جتک نے کی ۔جبکہ فائزی شکیل ، رحما ہاشمی ، فہمیدہ گل ، جویریہ عبدالحق ، صدیقہ ملالئی ، صدف غوری ،
غزالہ بٹ اور تسنیم صنم نے اپنا خوبصورت کلام سنایا ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *