Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چین سے 30ارب یوآن کی سوئپ سہولت میں توسیع کی درخواست کا فیصلہ، امریکا سے 10 ارب ڈالر پر جواب متوقعبلوچستان کے معذور سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، الاؤنس میں اضافہمستونگ میں مسلح افراد کی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک شدید زخمیبشریٰ بی بی کا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کیخلاف اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوعدورہ لندن کے لئے سرکاری طیارے کا استعمال ، مریم نواز نے ادائیگی کردیجدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے طیارے میں آگ کی اطلاع، مسافروں کا ہنگامی انخلالاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستانچین سے 30ارب یوآن کی سوئپ سہولت میں توسیع کی درخواست کا فیصلہ، امریکا سے 10 ارب ڈالر پر جواب متوقعبلوچستان کے معذور سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، الاؤنس میں اضافہمستونگ میں مسلح افراد کی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک شدید زخمیبشریٰ بی بی کا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کیخلاف اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوعدورہ لندن کے لئے سرکاری طیارے کا استعمال ، مریم نواز نے ادائیگی کردیجدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے طیارے میں آگ کی اطلاع، مسافروں کا ہنگامی انخلالاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستان

ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ، کانگریس نے ایران جنگ روکنے کا مطالبہ کر لیا


امریکی کانگریس نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے یا مزید کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان بھی اسی نوعیت کی قرارداد کی منظوری دے چکا ہے۔

اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور نہ ہی اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا تاہم سیاسی حلقوں میں اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ کانگریس کے اندر ایران پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور جنگ کے ساتھ ساتھ امن معاہدے پر بھی واشنگٹن میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

متعدد ریپبلکن اراکین نے بھی ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو جاری فوجی کارروائی ختم کرنے سے متعلق مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

امورِ مشرق وسطیٰ کی ماہر لورا بلومن فیلڈ کے مطابق اس اقدام کی علامتی اہمیت ضرور ہے لیکن قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث یہ صدر کے اختیارات پر عملی قدغن نہیں لگا سکتا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *