Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہٹرائی نیشن سیریز: پاکستان پر فائنل میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائدپاکستان کی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار قراربانی سے ملاقات کی ہر طریقے سے کوشش کی، بیرسٹر سیف کے دعوے جھوٹے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئیقطر کی ثالثی میں بڑی پیش رفت، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹوں کا نیا منصوبہ پیش کردیاوزیراعلیٰ پنجاب کا دیہی خواتین کے روزگار کے لیے بڑا منصوبہ، رجسٹریشن شروعامریکی ریاست فلوریڈا میں نجی مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 9 افراد ہلاکپاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم کی چیئرمین شپ سنبھال لیپختونخوا؛ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، 72 ارب روپے پر سوالیہ نشانعزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہٹرائی نیشن سیریز: پاکستان پر فائنل میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائدپاکستان کی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار قراربانی سے ملاقات کی ہر طریقے سے کوشش کی، بیرسٹر سیف کے دعوے جھوٹے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئیقطر کی ثالثی میں بڑی پیش رفت، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹوں کا نیا منصوبہ پیش کردیاوزیراعلیٰ پنجاب کا دیہی خواتین کے روزگار کے لیے بڑا منصوبہ، رجسٹریشن شروعامریکی ریاست فلوریڈا میں نجی مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 9 افراد ہلاکپاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے انٹربینک کنسورشیم کی چیئرمین شپ سنبھال لیپختونخوا؛ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، 72 ارب روپے پر سوالیہ نشان

ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ، کانگریس نے ایران جنگ روکنے کا مطالبہ کر لیا


امریکی کانگریس نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے یا مزید کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان بھی اسی نوعیت کی قرارداد کی منظوری دے چکا ہے۔

اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور نہ ہی اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا تاہم سیاسی حلقوں میں اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ کانگریس کے اندر ایران پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور جنگ کے ساتھ ساتھ امن معاہدے پر بھی واشنگٹن میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

متعدد ریپبلکن اراکین نے بھی ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو جاری فوجی کارروائی ختم کرنے سے متعلق مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

امورِ مشرق وسطیٰ کی ماہر لورا بلومن فیلڈ کے مطابق اس اقدام کی علامتی اہمیت ضرور ہے لیکن قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث یہ صدر کے اختیارات پر عملی قدغن نہیں لگا سکتا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *