Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
زیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوالزیارت کراس پر ٹول پلازہ قائم، ٹرانسپورٹرز سے ٹیکس وصولی شروعکوئٹہ میں بھکاریوں کی آڑ میں جرائم کی شکایات، شہریوں میں تشویشحبیب اللہ عارف کو کمشنر مردان ڈویژن چارج سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمعروف پاکستانی کاروباری شخصیت عبد الرسول بھٹی پی ایف یو جے ملائشیا چیپٹر کے چیئرمین منتخبتربت: مرکزی انجمن تاجران کیچ رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس، بارڈر مسائل پر تشویشسیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئےوڈھ میں مسلح افراد کا کیمپ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحقمرکزِ اسلام کا حیران کن تاریخی سوانحادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگنئے صوبے- لفظی جنگ کا حل اور وسائل کا سوال

ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ، کانگریس نے ایران جنگ روکنے کا مطالبہ کر لیا


امریکی کانگریس نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے یا مزید کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ریپبلکن اکثریت رکھنے والی سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔ اس سے قبل ایوان نمائندگان بھی اسی نوعیت کی قرارداد کی منظوری دے چکا ہے۔

اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور نہ ہی اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا تاہم سیاسی حلقوں میں اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ کانگریس کے اندر ایران پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور جنگ کے ساتھ ساتھ امن معاہدے پر بھی واشنگٹن میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

متعدد ریپبلکن اراکین نے بھی ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے بعد کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو جاری فوجی کارروائی ختم کرنے سے متعلق مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

امورِ مشرق وسطیٰ کی ماہر لورا بلومن فیلڈ کے مطابق اس اقدام کی علامتی اہمیت ضرور ہے لیکن قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث یہ صدر کے اختیارات پر عملی قدغن نہیں لگا سکتا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *