Banner
Daily Sahafat Quetta
September 15, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف و ہراسایندھن کی بچت کے لیے اسکول دو روز بند رکھنے کا فیصلہموٹر سائیکل سواروں کے لیے خوشخبری! 100 روپے سستے پیٹرول کے لیے بڑی شرط ختماقلیتوں کے نام پر شراب کے پرمٹ جاری کرنے کے خلاف مسیحی برادری کا شدید احتجاجسریاب روڈ پر واقع MCB بینک کودن دہاڑے نامعلوم مسلح افراد نے لوٹ لیااختیارات کے استعمال میں آئین کو ہرصورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالتملک میں سیلاب کا الرٹ جاری، دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہپاکستان اور لبنان کا دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقحاجی عبد الواحد لالا بقضائے الٰہی انتقال کر گئے،نمازِ جنازہ آج ادا ہوگیجنگِ ستمبر کا 15واں روز؛ پاک فوج کی زبردست مزاحمت، بھارت پسپاکولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ، شہریوں میں خوف و ہراسایندھن کی بچت کے لیے اسکول دو روز بند رکھنے کا فیصلہموٹر سائیکل سواروں کے لیے خوشخبری! 100 روپے سستے پیٹرول کے لیے بڑی شرط ختماقلیتوں کے نام پر شراب کے پرمٹ جاری کرنے کے خلاف مسیحی برادری کا شدید احتجاجسریاب روڈ پر واقع MCB بینک کودن دہاڑے نامعلوم مسلح افراد نے لوٹ لیااختیارات کے استعمال میں آئین کو ہرصورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالتملک میں سیلاب کا الرٹ جاری، دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہپاکستان اور لبنان کا دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقحاجی عبد الواحد لالا بقضائے الٰہی انتقال کر گئے،نمازِ جنازہ آج ادا ہوگیجنگِ ستمبر کا 15واں روز؛ پاک فوج کی زبردست مزاحمت، بھارت پسپا

پی ٹی آئی کا اچکزئی پر دباؤ، ٹکراؤ کی راہ پر چل پڑے


5 ماہ قبل جب محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے لایا گیا تھا تو یہ امید تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو تصادم کی سیاست سے نکال کر مذاکرات کی طرف لائیں گے تاہم گزشتہ روز وہ خود بھی اسی ڈگر پر چلتے نظر آئے۔

شریف خاندان کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات اس امید کی بنیادی وجہ تھے لیکن گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سیشن سمیت حالیہ پارلیمانی کارروائیاں مذاکرات کے بجائے مسلسل تصادم کی عکاسی کرتی ہیں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اچکزئی نے موجودہ حکومت کو “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اس پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ اپوزیشن نے ایسا کیا جرم کیا ہے کہ انہیں احتجاج اور ریلیوں کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آئینی و قانونی ہونے کا دفاع کیا۔یہ تلخ کلامی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سپیکر نے مداخلت کی اور اچکزئی کو تنبیہ کی کہ ایوان کے اندر قومی اداروں پر تنقید نہ کی جائے۔

اپوزیشن نے سپیکر کے ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ میں اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ اچکزئی کو حکومت سے مذاکرات کے لیے لایا گیا تھا، ان مذاکرات کے ذریعے سب سے اہم اور فوری مسئلہ بانی پی ٹی آئی کے آنکھ کا علاج اور ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی تھی، تاہم احتجاج اور دھرنے اس مطالبے کو پورا نہ کرواسکے،پی ٹی آئی کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

علی محمد خان نے کا کہناتھا کہ وزیر اعظم نے محمود اچکزئی کو دو بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، اب انہیں ایک جرات مندانہ فیصلہ کرنے اور اس مقصد کو پورا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے انہیں مقرر کیا گیا تھا۔

یہ دباؤ صرف باتوں تک محدود نہیں ہے، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہد خٹک نے کاکہنا ہے کہ اگر نتائج سامنے نہ آئے تو پارٹی اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دونوں کو ان کے عہدوں اور اختیارات سے محروم کر سکتی ہے۔

دوسری جانب سینیٹر پرویز رشید نے کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی ایک سمجھدار اور جمہوری سوچ رکھنے والے رہنما ہیں جو پیچیدہ سیاسی مسائل کو حل کرنا جانتے ہیں۔

تاہم اصل مسئلہ خود اچکزئی کے ساتھ نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے انہیں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا ہے، کیونکہ وہ انہیں وہ اختیارات نہیں دے رہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کو ریلیف عدالتی عمل کے ذریعے ہی ملے گا، دباؤ کے ذریعے نہیں۔ ریاست طاقت کے زور پر واپسی کی اجازت نہیں دے گی، بلکہ وہ آئین کے مطابق اپنی رٹ قائم کرے گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *