Banner
Daily Sahafat Quetta
September 15, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہرصورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالتملک میں سیلاب کا الرٹ جاری، دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہپاکستان اور لبنان کا دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقحاجی عبد الواحد لالا بقضائے الٰہی انتقال کر گئے،نمازِ جنازہ آج ادا ہوگیجنگِ ستمبر کا 15واں روز؛ پاک فوج کی زبردست مزاحمت، بھارت پسپاشدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایتخمیس مشیط، ابہا اور طائف پر میزائل و ڈرون حملے، 13 افراد زخمیقلات میں مسلح افراد نے شاہراہ بند کرکے چار ڈرائیور اغوا کرلیےعقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء اسلام سیسہ پلائی دیوار ہے، حافظ حمد اللہایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے ناماختیارات کے استعمال میں آئین کو ہرصورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالتملک میں سیلاب کا الرٹ جاری، دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہپاکستان اور لبنان کا دہشتگردی، منشیات اور سائبر کرائم کیخلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقحاجی عبد الواحد لالا بقضائے الٰہی انتقال کر گئے،نمازِ جنازہ آج ادا ہوگیجنگِ ستمبر کا 15واں روز؛ پاک فوج کی زبردست مزاحمت، بھارت پسپاشدید بارشیں اور ممکنہ سیلاب؛ وزیراعظم کی تمام اداروں کو تیار رہنے کی ہدایتخمیس مشیط، ابہا اور طائف پر میزائل و ڈرون حملے، 13 افراد زخمیقلات میں مسلح افراد نے شاہراہ بند کرکے چار ڈرائیور اغوا کرلیےعقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء اسلام سیسہ پلائی دیوار ہے، حافظ حمد اللہایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے نام

اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہرصورت مقدم رکھا جائے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جائے، آئین کی پاسداری ہی سے معاشرے میں استحکام ممکن ہے، جبکہ آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نئے عدالتی سال کا آغاز انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ وفاقی آئینی عدالت آئینی معاملات پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ضروری ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے ادارہ جاتی استعداد اور شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے قیام کے بعد مختصر عرصے میں کئی اہم مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے اور بلا تفریق آئینی انصاف ہماری بنیادی ترجیح رہنی چاہیے۔ مقدمات کی سماعت کے لیے تقرری شفاف انداز میں کی جاتی ہے، جبکہ عدلیہ کی آزادی کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ بیرونی دوروں اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے عدالتی شعبے میں تعاون بڑھایا جارہا ہے۔ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر وفود کے آئینی عدالت کے دورے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

چیف جسٹس نے عزم ظاہر کیا کہ وفاقی آئینی عدالت تفویض کردہ آئینی ذمہ داریاں پختہ عزم کے ساتھ نبھاتی رہے گی، بار اور بینچ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور نظام انصاف پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل ایک بڑا چیلنج تھی، تاہم عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں سنجیدگی، توازن اور آئینی بصیرت کے ساتھ انجام دی ہیں۔

مسعود چشتی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت مستقبل میں پاکستان کے آئینی و قانونی نظام کے لیے رہنما اصول کا درجہ حاصل کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی عدالت کا سفر آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی سمت میں آگے بڑھتا رہے گا۔

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت سائلین کو جلد ویڈیو لنک کی سہولت بھی فراہم کرے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *