Banner
Daily Sahafat Quetta
September 15, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء اسلام سیسہ پلائی دیوار ہے، حافظ حمد اللہایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے نامبلوچستان کی ترقی ملکی معاشی و سیاسی استحکام کی ضامن ہے، جمعیت نظریاتیروحانی طلبہ جماعت کے عہدیداران کی صاحبزادہ جعفر صادق طاہری سے ملاقاتسہیل خان آفریدی اور ملک عادل بازئی گرفتار، پولیس نے گاڑی روانہ کر دیہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانعقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جمعیت علماء اسلام سیسہ پلائی دیوار ہے، حافظ حمد اللہایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے نامبلوچستان کی ترقی ملکی معاشی و سیاسی استحکام کی ضامن ہے، جمعیت نظریاتیروحانی طلبہ جماعت کے عہدیداران کی صاحبزادہ جعفر صادق طاہری سے ملاقاتسہیل خان آفریدی اور ملک عادل بازئی گرفتار، پولیس نے گاڑی روانہ کر دیہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

ایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے نام

ایک شام رائٹرز گلڈ آف اسلام کے نام
تحریر ،مفتی ضیاء الرحمن یوسفزئی

گزشتہ ہفتے منصور ساحر کی شو ’’شام کی بیٹھک‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ محفل محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ صحافت، قلم، اہلِ قلم کی ذمہ داریوں اور موجودہ دور کے تقاضوں کے حوالے سے ایک بامقصد نشست تھی۔ رائٹر گلڈ آف اسلام پاکستان کے اغراض و مقاصد اور بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں اس پلیٹ فارم کے کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر رائٹر گلڈ آف اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری خالد وحید امرچی، مولانا وسیم سعید اور حافظ ضیاء کاکڑ بھی ہمراہ تھے۔ مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ آج کا دور روایتی صحافت سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا دور بن چکا ہے۔ خبر چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، لیکن اس تیز رفتار صحافت کے ساتھ ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
صحافت معاشرے کا آئینہ ہی نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تشکیل کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ ایک قلمکار جب کوئی خبر لکھتا، تجزیہ پیش کرتا یا کسی مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے تو اس کے الفاظ صرف کاغذ پر نہیں رہتے بلکہ قارئین کے ذہنوں اور معاشرے کی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے صحافت میں تحقیق، دیانت، توازن اور سچائی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ رفتار نے تحقیق کو پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو۔ سوشل میڈیا پر کسی خبر کو دیکھتے ہی آگے بڑھا دینا آسان ہے، لیکن اس کی تصدیق کرنا صحافتی ذمہ داری ہے۔ افواہ اور خبر، تجزیے اور تعصب، تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق برقرار رکھنا ہی ذمہ دار صحافت کی پہچان ہے۔
رائٹر گلڈ آف اسلام پاکستان اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اہلِ قلم کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں قلم کو مثبت، تعمیری اور اصلاحی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہمارا مقصد صرف لکھنے والوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ذمہ دار، باصلاحیت اور بااصول قلمکاروں کی ایک ایسی جماعت تیار کرنا ہے جو اپنے قلم سے معاشرے کی فکری رہنمائی کر سکے۔
آج ہمیں صحافت کے میدان میں نئے انداز اور نئے ذرائع کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اخبارات، کالم، ٹی وی اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ فیس بک، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ابلاغ کے مؤثر ذرائع بن چکے ہیں۔ اگر ہم ان ذرائع کو مثبت اور درست منہج کے ساتھ استعمال کریں تو ہماری آواز پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ قلم وقت کے تقاضوں کو سمجھیں، جدید ذرائع ابلاغ سے واقفیت حاصل کریں اور اپنی علمی و فکری بنیاد کو مضبوط رکھتے ہوئے نئے میدانوں میں قدم رکھیں۔ منہج وہی ہو، ذرائع جدید ہوں؛ مقصد اصلاح ہو اور انداز مؤثر ہو۔
’’شام کی بیٹھک‘‘ کی یہ نشست اسی احساس کو مزید تقویت دے گئی کہ قلم کی طاقت آج بھی زندہ ہے، البتہ اسے درست سمت، مضبوط تحقیق اور مثبت فکر کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اہلِ قلم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں تو صحافت محض خبر دینے کا ذریعہ نہیں رہے گی بلکہ معاشرے کی اصلاح، شعور کی بیداری اور مثبت تبدیلی کا مؤثر وسیلہ بن سکتی ہے۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنے قلم کو ذمہ داری کے ساتھ اٹھائیں، صحافت کو صحیح منہج پر استوار کریں اور نئی نسل کے لیے ایک ایسا فکری و صحافتی راستہ بنائیں جس پر چلتے ہوئے قلم علم، شعور، اصلاح اور حق کی آواز بن سکے۔
شام کی بیھٹک میں میزبان منصور ساحر نے رائٹر گلڈ آف اسلام پاکستان کے صدر عبد الغنی شہزاد صاحب کو تعریفی کلمات سے نوازا مبارک باد دی اور ساتھ میں سلام پیش کی

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *