Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیمقمر سلطانہ کا لورالائی کے گرلز پرائمری اسکولوں کا اچانک دورہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہاسمارٹ لاگ ڈاؤن ملک مفلوج کرنے کے مترادف ہے، سید امان شاہبھارتی جیل میں قید عبدالواسع کی رہائی کیلئے حکومت سے سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیلملاوٹی دودھ کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم، پہلے روز 2 یونٹس سیلفیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیمقمر سلطانہ کا لورالائی کے گرلز پرائمری اسکولوں کا اچانک دورہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہاسمارٹ لاگ ڈاؤن ملک مفلوج کرنے کے مترادف ہے، سید امان شاہبھارتی جیل میں قید عبدالواسع کی رہائی کیلئے حکومت سے سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیلملاوٹی دودھ کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم، پہلے روز 2 یونٹس سیل

سیالکوٹ سے فیفا ورلڈ کپ تک: پاکستانی ہنر کو سلام

سیالکوٹ سے فیفا ورلڈ کپ تک: پاکستانی ہنر کو سلام
تحریر: امجد اقبال امجد
فیفا ورلڈ کپ کا نام آتے ہی ذہن میں رونالڈو، میسی، نیمار اور دنیا کے نامور کھلاڑیوں کی تصویریں ابھر آتی ہیں۔ شائقین کی نظریں میدان میں دوڑتے کھلاڑیوں پر مرکوز ہوتی ہیں، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کھلاڑیوں کے قدموں میں رقص کرتی گیند کی کہانی ہزاروں میل دور پاکستان کے ایک تاریخی شہر سیالکوٹ سے شروع ہوتی ہے۔
سیالکوٹ کی فٹ بال انڈسٹری صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ پاکستانی ہنر، محنت اور عالمی معیار کی علامت ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں ایک چھوٹے سے شہر کے کاریگروں نے اپنے ہاتھوں کی مہارت سے دنیا کے سب سے مقبول کھیل میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے رقم کر دیا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ برطانوی دورِ حکومت میں سیالکوٹ میں تعینات ایک انگریز فوجی افسر کی فٹ بال خراب ہو گئی۔ اس نے ایک مقامی موچی سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی مرمت کر سکتا ہے؟ پاکستانی ہنرمند نے نہ صرف گیند کی مرمت کی بلکہ اس جیسی نئی گیند بھی تیار کر دی۔ انگریز افسر اس کاریگری سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے مزید فٹ بالز کا آرڈر دے دیا۔ یوں ایک معمولی سا واقعہ ایک عظیم صنعت کی بنیاد بن گیا۔
رفتہ رفتہ برطانوی فوج اور یورپی تاجروں نے سیالکوٹ سے فٹ بالز خریدنا شروع کر دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس صنعت نے مزید ترقی کی اور پاکستانی صنعت کاروں نے عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا لی۔ آج دنیا میں استعمال ہونے والی فٹ بالز کی ایک بڑی تعداد سیالکوٹ میں تیار ہوتی ہے، جبکہ مختلف ادوار میں فیفا ورلڈ کپ کے لیے استعمال ہونے والی گیندوں کی تیاری کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل رہا ہے۔
یہ امر باعثِ فخر ہے کہ اگرچہ پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم ابھی تک فیفا ورلڈ کپ کے میدان تک نہیں پہنچ سکی، لیکن ورلڈ کپ کی روح، یعنی فٹ بال، پاکستانی ہاتھوں کی تخلیق ہے۔ یہ اس قوم کی صلاحیت کا ثبوت ہے جسے اکثر صرف مسائل کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔
سیالکوٹ کے محنت کش مزدور، کاریگر اور صنعت کار دراصل پاکستان کے وہ خاموش سفیر ہیں جو بغیر کسی شور و غوغا کے دنیا بھر میں وطنِ عزیز کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی محنت، ان کی آنکھوں کی باریک بینی اور ان کے دلوں کی لگن نے پاکستان کو عالمی کھیلوں کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ بنا دیا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اس صنعت کو مزید فروغ دیں، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور فٹ بال کے کھیل کو ملک میں نچلی سطح سے مضبوط بنائیں۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کریں تو وہ دن دور نہیں جب دنیا پاکستانی ساختہ گیندوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کی بھی معترف ہوگی۔
سیالکوٹ کی یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی عظمت صرف قدرتی وسائل سے نہیں، بلکہ انسانوں کی محنت، ہنر اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتی ہے۔ جن ہاتھوں نے کبھی ایک انگریز افسر کی خراب فٹ بال کی مرمت کی تھی، آج وہی ہاتھ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے لیے معیار متعین کر رہے ہیں۔
آئیے، سیالکوٹ کے ان گمنام ہیروز کو سلام پیش کریں۔ ان مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کریں جو اپنے پسینے سے پاکستان کی عزت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اور اس وطن کو سلام پیش کریں جس کی مٹی میں ایسا ہنر پوشیدہ ہے جو پوری دنیا کو حیران کر دیتا ہے۔
پاکستان شاید ابھی ورلڈ کپ کے میدان میں موجود نہ ہو، لیکن ورلڈ کپ کی ہر کک، ہر پاس اور ہر گول میں سیالکوٹ کی مہارت کی ایک خاموش بازگشت ضرور سنائی دیتی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *