Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہنقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہ

گریڈ 17 میں ترقی پانے والے اساتذہ دو سال بعد بھی تعیناتی کے منتظر، محکمہ تعلیم پر سوالات


محکمہ تعلیم بلوچستان کی پالیسیوں اور انتظامی امور پر اس وقت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران گریڈ 17 (SST) میں ترقی پانے والے متعدد اساتذہ تاحال اپنی نئی آسامیوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں۔

متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہیں باقاعدہ طور پر گریڈ 17 میں ترقی تو دے دی گئی، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم ان کی تعیناتی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اساتذہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی نظام میں بھی بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم یا دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ کوئٹہ میں کوئی خالی آسامی موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر آسامیاں دستیاب نہیں تھیں تو ترقی دینے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقی پانے والے اساتذہ اپنے جائز حق کے منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض اساتذہ کو کوئٹہ میں تعینات کیا جا رہا ہے، جو محکمہ تعلیم کی شفافیت اور میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

اساتذہ کے مطابق محکمہ تعلیم کی غیر واضح پالیسیوں اور انتظامی نااہلی کے باعث بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اساتذہ کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ 17 میں ترقی پانے والے تمام اساتذہ کی تعیناتی کا عمل فوری مکمل کیا جائے، مبینہ سفارشی تعیناتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور پورے عمل کو شفاف بنایا جائے تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *