Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چمن: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی رہا، مقدمے سے ڈسچارجڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس کی ٹکر سے 6 سالہ بچی جاں بحقپی بی 42 کوئٹہ کی انتخابی عذرداری سماعت کے لیے منظور، زرک خان مندوخیل کو نوٹس جاریقاسم سوری کی صحافیوں کے گھروں اور دفتر پر چھاپوں کی مذمت، آزادیِ صحافت پر تشویش کا اظہارکوئٹہ میں صحافی آغا عبید کے گھر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 40 سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں، اہلِ خانہ کو پریشانی کا سامنادہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آرروہڑی میں منشیات کے مبینہ کاروبار میں اضافہ، نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہایس ایس جی سی کوئٹہ کے سینئر افسر حاجی نصیر لہڑی کی تھیفٹ کلیم انچارج محمد زبیر سے ملاقاتعزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہچمن: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی رہا، مقدمے سے ڈسچارجڈیرہ مراد جمالی میں جعفر ایکسپریس کی ٹکر سے 6 سالہ بچی جاں بحقپی بی 42 کوئٹہ کی انتخابی عذرداری سماعت کے لیے منظور، زرک خان مندوخیل کو نوٹس جاریقاسم سوری کی صحافیوں کے گھروں اور دفتر پر چھاپوں کی مذمت، آزادیِ صحافت پر تشویش کا اظہارکوئٹہ میں صحافی آغا عبید کے گھر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 40 سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں، اہلِ خانہ کو پریشانی کا سامنادہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آرروہڑی میں منشیات کے مبینہ کاروبار میں اضافہ، نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہایس ایس جی سی کوئٹہ کے سینئر افسر حاجی نصیر لہڑی کی تھیفٹ کلیم انچارج محمد زبیر سے ملاقاتعزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہ

گریڈ 17 میں ترقی پانے والے اساتذہ دو سال بعد بھی تعیناتی کے منتظر، محکمہ تعلیم پر سوالات


محکمہ تعلیم بلوچستان کی پالیسیوں اور انتظامی امور پر اس وقت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران گریڈ 17 (SST) میں ترقی پانے والے متعدد اساتذہ تاحال اپنی نئی آسامیوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں۔

متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہیں باقاعدہ طور پر گریڈ 17 میں ترقی تو دے دی گئی، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم ان کی تعیناتی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اساتذہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی نظام میں بھی بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم یا دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ کوئٹہ میں کوئی خالی آسامی موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر آسامیاں دستیاب نہیں تھیں تو ترقی دینے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقی پانے والے اساتذہ اپنے جائز حق کے منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض اساتذہ کو کوئٹہ میں تعینات کیا جا رہا ہے، جو محکمہ تعلیم کی شفافیت اور میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

اساتذہ کے مطابق محکمہ تعلیم کی غیر واضح پالیسیوں اور انتظامی نااہلی کے باعث بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اساتذہ کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ 17 میں ترقی پانے والے تمام اساتذہ کی تعیناتی کا عمل فوری مکمل کیا جائے، مبینہ سفارشی تعیناتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور پورے عمل کو شفاف بنایا جائے تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *