Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیمقمر سلطانہ کا لورالائی کے گرلز پرائمری اسکولوں کا اچانک دورہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہاسمارٹ لاگ ڈاؤن ملک مفلوج کرنے کے مترادف ہے، سید امان شاہبھارتی جیل میں قید عبدالواسع کی رہائی کیلئے حکومت سے سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیلملاوٹی دودھ کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم، پہلے روز 2 یونٹس سیلفیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی دفاعی کمپنی کے وفد کی ملاقاتنجی تصاویر لیک کرنے کی دھمکیاں، شادی سے قبل کون سا اہم فیصلہ کر لیا تھا؟، مومنہ اقبال نے راز افشاں کردیاگنداخہ، اوستا محمد سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ بارش، موسم خوشگوارٹیکنالوجی کو صرف حاضری نہیں، تدریس بہتر بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمنسردار سرفراز ڈومکی ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے، میر سرفراز بگٹییونیورسٹی آف لورالائی میں مینٹرنگ پروگرام اختتام پذیر، مینٹرز اور مینٹیز میں سرٹیفکیٹس تقسیمقمر سلطانہ کا لورالائی کے گرلز پرائمری اسکولوں کا اچانک دورہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہاسمارٹ لاگ ڈاؤن ملک مفلوج کرنے کے مترادف ہے، سید امان شاہبھارتی جیل میں قید عبدالواسع کی رہائی کیلئے حکومت سے سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیلملاوٹی دودھ کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی مہم، پہلے روز 2 یونٹس سیل

گریڈ 17 میں ترقی پانے والے اساتذہ دو سال بعد بھی تعیناتی کے منتظر، محکمہ تعلیم پر سوالات


محکمہ تعلیم بلوچستان کی پالیسیوں اور انتظامی امور پر اس وقت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ دو سالوں کے دوران گریڈ 17 (SST) میں ترقی پانے والے متعدد اساتذہ تاحال اپنی نئی آسامیوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں۔

متاثرہ اساتذہ کے مطابق انہیں باقاعدہ طور پر گریڈ 17 میں ترقی تو دے دی گئی، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم ان کی تعیناتی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اساتذہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی نظام میں بھی بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنی تعیناتی کے حوالے سے وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم یا دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ کوئٹہ میں کوئی خالی آسامی موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر آسامیاں دستیاب نہیں تھیں تو ترقی دینے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقی پانے والے اساتذہ اپنے جائز حق کے منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر سفارش اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض اساتذہ کو کوئٹہ میں تعینات کیا جا رہا ہے، جو محکمہ تعلیم کی شفافیت اور میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

اساتذہ کے مطابق محکمہ تعلیم کی غیر واضح پالیسیوں اور انتظامی نااہلی کے باعث بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اساتذہ کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

متاثرہ اساتذہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ 17 میں ترقی پانے والے تمام اساتذہ کی تعیناتی کا عمل فوری مکمل کیا جائے، مبینہ سفارشی تعیناتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور پورے عمل کو شفاف بنایا جائے تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *