Banner

وفاقی بجٹ 2026-27: کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے؟

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر یاسر دانیال صابری (منزل عقاب)
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا ہر بجٹ دراصل ملک کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ عوام اس امید کے ساتھ بجٹ کا انتظار کرتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل، روزگار کے نئے مواقع، تعلیم و صحت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات سامنے آئیں گے۔ تاہم موجودہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ عوامی توقعات پر مکمل طور پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔

بجٹ میں سب سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی اور دیگر غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کی گئی ہے، جبکہ تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تحقیق جیسے اہم شعبوں کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جہاں حکومتیں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، تعلیمی اصلاحات اور انسانی وسائل کی ترقی پر خرچ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک معاشی اور سائنسی میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، تحقیقی سہولیات اور ہنر مندی کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو ملک ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بجٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے مختص رقم انتہائی کم ہے۔ آج مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، سافٹ ویئر انجینئرنگ، خلائی تحقیق اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی دنیا کی معیشت کو تبدیل کر رہی ہیں، لیکن ہمارے ہاں ان شعبوں کو اب بھی ثانوی حیثیت حاصل ہے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بہتر وسائل فراہم نہ کیے جائیں تو مستقبل کی نسلیں ترقی کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں آج بھی سکولوں میں اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کا فقدان موجود ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم کے شعبے کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے تھا تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔

صحت کا شعبہ بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، جدید مشینری کا فقدان اور طبی عملے کی محدود تعداد عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ایک عام آدمی مہنگے نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صحت کے شعبے پر زیادہ سرمایہ کاری کرے تاکہ عوام کو معیاری اور سستی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

اسی طرح تعمیر و ترقی کے منصوبے بھی کسی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سڑکیں، پل، آبپاشی کے منصوبے، بجلی کے نظام کی بہتری اور جدید مواصلاتی سہولیات نہ صرف عوامی زندگی آسان بناتی ہیں بلکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں اضافے سے مقامی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور ہزاروں افراد کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔

سرکاری ملازمین خصوصاً سکیل 1 سے 10 تک کے ملازمین مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں محدود ہیں جبکہ روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس بجٹ میں ان ملازمین کے لیے مزید مراعات اور خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ عزت اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ پنشنرز بھی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی خصوصی پیکیج متعارف کرانا ضروری تھا۔

حکومت کو چاہیے کہ بجٹ کی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے جو ملک کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط بنا سکیں۔ تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، روزگار اور صنعت کو قومی ترقی کے مرکزی ستون بنایا جائے۔ صرف امدادی پروگراموں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے منصوبے متعارف کروائے جائیں جو لوگوں کو خود کفیل بنائیں اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کریں۔

پاکستان کے عوام ایک ایسے بجٹ کے خواہاں ہیں جو حقیقی معنوں میں عوام دوست ہو، جو نوجوانوں کو امید دے، مزدور اور ملازم کو ریلیف دے، کسان کو سہارا دے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی وسائل کا استعمال سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد اور عوامی فلاح کے لیے کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان مل سکے۔

تحریر: یاسر دانیال صابری

وفاقی بجٹ 2026-27: کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us