Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 دہشتگرد ہلاکافغان طالبان رجیم کی پاکستان میں حملے کی کوشش، پاک فوج نے تمام ڈرونز گرا دیےملکی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ہوگئی، نجی سرمایہ کاری میں بڑا اضافہپاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع؛ 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکانبلوچستان میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، خواتین و بچوں سمیت 103 افغان زیرِحراست2025 کا پاک بھارت تنازع یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے، اسحاق ڈارپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخی، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی وجوہاتیلٹا کا تاریخی دھوکہ اور افغانستان کی جنگجویانہ خودداریمہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشناوپن ڈور پالیسی کے تحت عوامی مسائل کی سنوائی، ضلعی انتظامیہ کا فوری حل کی یقین دہانیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 دہشتگرد ہلاکافغان طالبان رجیم کی پاکستان میں حملے کی کوشش، پاک فوج نے تمام ڈرونز گرا دیےملکی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ہوگئی، نجی سرمایہ کاری میں بڑا اضافہپاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع؛ 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکانبلوچستان میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، خواتین و بچوں سمیت 103 افغان زیرِحراست2025 کا پاک بھارت تنازع یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے، اسحاق ڈارپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخی، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی وجوہاتیلٹا کا تاریخی دھوکہ اور افغانستان کی جنگجویانہ خودداریمہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشناوپن ڈور پالیسی کے تحت عوامی مسائل کی سنوائی، ضلعی انتظامیہ کا فوری حل کی یقین دہانی

تربت میں دو نوجوانوں کے قتل پر متاثرہ خاندان نے انصاف کا مطالبہ کر دیا


تربت:(نامہ نگار کیچ)محمد ابراہیم ولد تاج محمد، سکنہ کلاتک نے تربت پریس کلب میں اپنی فیملی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 17 مئی 2026 کو میرے بھانجے وارث رشید کو قتل کیا گیا نامعلوم افراد نے کلاتک میں قتل کیا جب کہ عید کی رات ہمارے قریبی رشتہ دار بوہیر ولد لال بخش کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں نوجوانوں کو کس نے اور کن وجوہات کی بنا پر قتل کیا۔
انہوں نے کہا کہ وارث کے تین اور بوہیر کے چار بچے ہیں جن کی پرورش اور گزر بسر ان کے والد کے بغیر انتہائی مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے قبل ہمیں کسی جانب سے کسی قسم کی دھمکیاں موصول نہیں ہوئی تھیں تاہم اب مختلف ذرائع سے ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ وارث رشید میرا بھانجا تھا اور محکمہ انڈسٹریز اینڈ کامرس میں ملازم تھا۔

محمد ابراہیم کے مطابق ان دونوں نوجوانوں کے پے در پے قتل نے ہمارے خاندان کو شدید صدمے اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال کسی فرد، گروہ یا تنظیم نے ان قتلوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی جس کے باعث یہ واقعہ ہمارے لیے ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دونوں نوجوانوں کے قتل میں جو بھی عناصر ملوث ہیں ان کے بارے میں ہمیں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ اگر کسی مسلح تنظیم کا اس واقعے سے تعلق ہے تو وہ بھی واضح طور پر اپنی ذمہ داری قبول کرے۔ ان قتلوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہمارے خاندان کے لیے نہ صرف ذہنی اذیت، پریشانی اور اضطراب کا باعث بن رہی ہے بلکہ غم و اندوہ میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *