Banner
Daily Sahafat Quetta
August 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیبلوچستان میں نفرت کی سازشیں ناکام بنائیں گے،رخسانہ گل کاکڑپاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیبلوچستان میں نفرت کی سازشیں ناکام بنائیں گے،رخسانہ گل کاکڑپاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰ

عالمی بدامنی ۔امن تجارت اور انسانیت پر اثرات

صحافت منظرنامہ
عالمی بدامنی ۔امن تجارت اور انسانیت پر اثرات

قارئین صحافت ۔ امریکہ، ایران، اسرائیل، فلسطین، روس اور یوکرین کے مابین سلگتے ہوئے یہ تنازعات دراصل بیسویں صدی کی ادھوری جیو پولیٹیکل تاریخ اور اکیسویں صدی کی نئی تزویراتی صف بندیوں کا شاخسانہ ہیں، جنہوں نے طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے نام پر پوری دنیا کو ایک لامتناہی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط مخاصمت نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو پراکسی وارز (حکمتِ عملی کی نیابتی جنگوں) کی آماجگاہ بنا رکھا ہے، جہاں یمن، شام اور عراق جیسے ممالک محض تزویراتی مہروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیل اور فلسطین کا دیرینہ زخم محض دو زمین کے ٹکڑوں کا تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ مسلم امہ، مغربی بالادستی اور بین الاقوامی قوانین کے دوہرے معیار کا سب سے بڑا مظہر بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر مذہبی اور نظریاتی خلیج کو مستقل گہرا کر رہے ہیں۔ اسی طرح، مشرقی یورپ میں روس اور یوکرین کا تصادم دراصل سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو (NATO) کی مشرق کی سمت توسیع پسندی اور روس کے اپنے دفاعی و تاریخی وجود کو برقرار رکھنے کی آخری حد ہے، جس نے سرد جنگ کے خاتمے کے تمام دعوؤں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ ان تینوں محاذوں نے مل کر دنیا کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب کوئی بھی خطہ خود کو ان کے اثرات سے محفوظ تصور نہیں کر سکتا، کیونکہ ان جنگوں کی لہریں سرحدوں کی محتاج نہیں رہیں۔معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے، ان عالمی کھینچا تانیوں نے بین الاقوامی مارکیٹ کے پورے ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کی وجہ سے نوآبادیاتی دور کے بعد قائم ہونے والا آزاد تجارت کا تصور دم توڑ رہا ہے۔ روس پر عائد مغربی اقتصادی پابندیوں اور جوابی روسی اقدامات نے نہ صرف یورپ کی صنعتی کمر توڑ دی ہے بلکہ دنیا بھر میں کھاد، نایاب دھاتوں اور غلے کی قلت پیدا کر کے زرعی معیشتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی بحری راستوں پر جنگی بادل منڈلانے سے مال بردار جہازوں کو اب ہزاروں میل طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ لاجسٹکس کے اخراجات میں ہونے والے بے پناہ اضافے نے ترقی پذیر ممالک کی امپورٹ بیسڈ (درآمدات پر منحصر) معیشتوں کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جب بڑی طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے تجارتی راستوں کو ہتھیار بناتی ہیں، تو اس کی قیمت افریقہ اور ایشیا کے پسماندہ خطوں میں بھوک، افلاس اور بے روزگاری کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔
انسانی معاشرے اور سماجی نفسیات پر ان جنگوں کے پڑنے والے اثرات تو اس سے بھی زیادہ ہولناک اور دیرپا ہیں، جنہوں نے انسانیت کے مشترکہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ غزہ کی پامالی، یوکرین کے کھنڈرات اور مشرقِ وسطیٰ کے مہاجرین کی سسکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید دور کی سائنسی اور مادی ترقی انسان کو وحشت سے نجات دلانے میں ناکام رہی ہے۔ لاکھوں خاندانوں کی زبردستی ہجرت نے یورپ اور پڑوسی ممالک میں ایک نیا سماجی اور سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے مقامی آبادیوں میں نسل پرستی، انتہا پسندی اور غیر ملکیوں سے خوف (Xenophobia) کے جذبات تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور طاقتور ممالک کی جانبداری نے نئی نسل کے ذہنوں میں انصاف، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے تصور کو یکسر مٹا دیا ہے، جس سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اس دنیا میں صرف طاقتور کا بیانیہ ہی سچ مانا جاتا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی معاشرہ ایک ایسے انارکی کے دور میں داخل ہو جائے گا جہاں اخلاقی اقدار کی جگہ صرف بقا کی جنگ اور جنگل کا قانون نافذ العمل ہوگا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *