Banner
Daily Sahafat Quetta
September 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقداماتملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقدامات

ظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبر

محمدنسیم رنزوریار

ظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبر

قارئین کرام، ظلم کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانیت کی تاریخ، مگر آج کا ظلم سب سے زیادہ بے نقاب اور سب سے زیادہ بے لگام ہے۔ ظالم اب چھپ کر ظلم نہیں کرتا، وہ کیمرے کے سامنے، دنیا کی آنکھوں کے سامنے ظلم کرتا ہے اور فخر کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل کھلے عام ہسپتالوں پر بم گراتا ہے، سکولوں کو ملبے کا ڈھیر بناتا ہے، معصوم بچوں کو بھوک سے تڑپاتا ہے مگر دنیا کے طاقتور ممالک اسے دفاع کا نام دیتے ہیں۔ سات دہائیوں سے فلسطینی اپنے ہی گھر میں قیدی ہیں، ان کی زمین چھینی گئی، ان کے گھر گرائے گئے، ان کی آواز دبائی گئی۔ جب وہ پتھر اٹھاتے ہیں تو دہشت گرد کہلاتے ہیں اور جب ان پر ٹینک چڑھائے جاتے ہیں تو اسے امن کا اقدام کہا جاتا ہے۔ یہی حال کشمیر کا ہے جہاں پچھلے پچھتر سال سے مظلوم کشمیری اپنی آزادی کی آواز بھی نہیں اٹھا سکتا۔ پیلٹ گن، کرفیو، جبری گمشدگیاں اور آئے روز شہادتیں وہاں معمول بن چکی ہیں۔ مگر جب وہ اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں صرف خاموشی ملتی ہے۔ امریکہ اور یورپ جب چاہتے ہیں یوکرین کے لیے انسانی حقوق کا رونا روتے ہیں مگر فلسطین اور کشمیر کے لیے ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔ ایران پر پابندیاں لگا کر اس کی معیشت کا گلا گھونٹا جاتا ہے مگر اسرائیل کو ایٹمی ہتھیاروں کے باوجود کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار ظالم کو مزید ظالم بناتا ہے۔ ظالم کو معلوم ہے کہ کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکے گا۔ دوسری طرف مظلوم کی زبان پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ وہ بولے تو غدار، لکھے تو باغی، احتجاج کرے تو شرپسند۔ عراق میں لاکھوں لوگ جھوٹے ہتھیاروں کے بہانے مارے گئے، شام میں بچے کیمیکل حملوں میں تڑپے، یمن میں بھوک نے نسل کشی کی مگر ان کی چیخیں عالمی میڈیا کی ہیڈ لائن بھی نہ بن سکیں۔ افغانستان میں بیس سال بمباری کے بعد اسے کھنڈر بنا کر چھوڑ دیا گیا اور آج اس کی مدد کے بجائے اس کے اثاثے منجمد ہیں۔ یہ عالمی ناانصافی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اب ذرا اپنے ملک پاکستان کی طرف آئیں تو یہاں بھی یہی منظر ہے۔ یہاں بھی ظالم کھلے عام ظلم کرتا ہے۔ ذخیرہ اندوز مہنگائی کا بم گراتا ہے، بجلی کمپنیاں عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہیں، طاقتور قبضہ مافیا غریب کی زمین ہڑپ کر جاتا ہے، رشوت خور افسر غریب کا حق بیچ دیتا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مزدور دن بھر محنت کر کے بھی اپنے بچوں کا پیٹ نہیں بھر سکتا، کسان اپنی فصل کا صحیح دام نہیں لے سکتا، طالب علم ڈگری لے کر نوکری کے لیے دربدر ہے۔ جب وہ اپنی مظلومیت کی آواز اٹھاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ ملک کے خلاف نہ بولو، اداروں کے خلاف نہ بولو۔ بلوچستان کا مظلوم نوجوان جب لاپتہ افراد کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا کا بے گھر خاندان جب امن مانگتا ہے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سندھ کا ہاری جب پانی مانگتا ہے تو اسے غدار کہا جاتا ہے۔ تھر کا بھوکا بچہ جب روٹی مانگتا ہے تو اس کی خبر تک نہیں چھپتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مظلوم کی آواز دبائی جاتی ہے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا مگر موسیٰ پیدا ہوا، یزید نے کربلا میں ظلم کیا مگر حسین زندہ رہا، انگریز نے برصغیر پر ظلم کیا مگر آزادی کی تحریک نہ رکی۔ آج بھی غزہ کا بچہ جو ملبے تلے سے نکل کر وکٹری کا نشان بناتا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم کبھی جیت نہیں سکتا۔ مظلوم کی آہ عرش ہلاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی ضمیر جاگے، اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے، مسلم حکمران صرف مذمت کے بجائے عملی اتحاد دکھائیں اور پاکستان میں بھی مظلوم کو بولنے کا حق دیا جائے۔ اگر مظلوم کو عدالت میں انصاف نہیں ملے گا، میڈیا میں جگہ نہیں ملے گی، پارلیمنٹ میں آواز نہیں ملے گی تو وہ سڑکوں پر آئے گا اور جب مظلوم سڑکوں پر آتا ہے تو تخت ہل جاتے ہیں۔ ہمیں ظالم کے ساتھ نہیں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں بھی ظالموں کی صف میں لکھ دے گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *