Banner
Daily Sahafat Quetta
September 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقداماتملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقدامات

ادب، آرٹ اور سیاست

ادب، آرٹ اور سیاست

سوشل میڈیا پر 2015ء کے بعد اچانک نئے چہرے منظرِ عام پر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف شاعری اور شعرا کا ایک طوفان امڈ آیا۔ ابتدا میں ایک آواز سنائی دی کہ ’’آؤ، شاعری سیکھیں‘‘۔ لوگوں نے شعر کہنا شروع کیے اور یوں مکینیکی شاعری نے خوب زور پکڑا۔ سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک پر ہر طرف شاعروں کی ایک کثیر تعداد نظر آنے لگی، جس میں ایک بڑی تعداد ایسی شاعری کی تھی جو عروض سیکھنے کے بعد وجود میں آئی تھی پھر چند لوگ منظر پر نمودار ہوئے اور یونیورسٹیوں کے مشاعروں میں بھونڈے شعر سنائے گئے۔ اس سے شاعر اور شعر، دونوں کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ آج بھی ظفر اقبال کا اقبال بلند ہے۔ سحر انصاری، احمد مشتاق اور افتخار احمد جیسے سینئر شعرا موجود ہیں جن کی شاعری میں تمام شعری رموز اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں، اس کے باوجود مکینیکی شاعر گروپ بندیاں بنا کر اپنی تشہیر کرنے میں صفِ اول میں نظر آتے ہیں
ظفر اقبال نے جو کام کئی برس پہلے کرکے چھوڑ دیا تھا، آج اس پر دوبارہ کام ہونے کی شنید ہے۔ شاعری جو کبھی خداداد صلاحیت سمجھی جاتی تھی، آج کل باقاعدہ سیکھی اور سکھائی جا رہی ہے۔ ایک ماہرِ عروض کا کہنا ہے کہ ’’شعر توفیق ہے۔‘‘ اگر شعر توفیق ہے تو پھر شاعری سکھانے کا لائحۂ عمل کیا ہے؟ بہرحال، دوستوں کے ساتھ جب بھی اس موضوع پر مکالمہ ہوتا ہے تو سب اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اب شاعری عروضی ہوگئی ہے۔ پہلے شعر ہوتا تھا، اب شعر بنایا جا رہا ہے۔ جو شعر تخلیق کیا جائے اور جو شعر عطا ہو، دونوں کی تاثیر میں یقیناً فرق ہوتا ہے۔ میرے نزدیک شعر وہ ہے جسے سن کر یا تو ’’واہ‘‘ نکلے یا ’’آہ‘‘
مغربی شعرا اور مفکرین کے نزدیک شاعری الفاظ، قافیہ اور ردیف کا کھیل نہیں ایک مکمل فن ہے۔ ارسطو نے شاعری کو تاریخ سے زیادہ فلسفیانہ اور سنجیدہ قرار دیا، کیونکہ شاعری انسانی تجربات کی گہری ترجمانی کرتی ہے۔ ولیم ورڈزورتھ کے نزدیک شاعری طاقتور جذبات کا بے ساختہ اظہار ہے، جبکہ شیلی اسے تخیل کا اظہار قرار دیتے ہیں۔ ایڈگر ایلن پو کے نزدیک شاعری کا بنیادی تعلق حسن کے جمالیاتی احساس سے ہے۔ جان کیٹس نے حسن اور صداقت کے باہمی تعلق کو اہمیت دی، جبکہ ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے نزدیک شاعری جذبات کا اظہار نہیں جذبات کو فنکارانہ نظم و ضبط میں ڈھالنے کا نام ہے۔ ان آرا سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی شاعری میں جذبے کے ساتھ تخیل، فکر، زبان، تجربہ اور جمالیاتی شعور بھی ضروری ہیں۔ صرف قافیہ ملانا شاعری نہیں، احساس کو فن میں تبدیل کرنا شاعری ہے شاعری بذاتِ خود آرٹ ہے میر، غالب، ذوق، داغ، مومن، حسرت اور دیگر بڑے شعرا کی شاعری میں یہی آرٹ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے ہاں الفاظ تصویروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ شعر پڑھتے ہوئے ایک منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور ایک کیفیت دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری عروضی مشق نہیں رہتی مکمل فن اور آرٹ بن جاتی ہے
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بھی ان دنوں غیر معمولی گرمی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے حامیوں کا شور، تبصروں، ویڈیوز اور ٹرینڈز کی صورت میں ایک الگ ہی دنیا دکھائی دیتا ہے کیا سوشل میڈیا کی یہ طاقت زمینی سیاست میں بھی اسی شدت سے موجود ہے؟
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے حالیہ کالم میں اسی تضاد کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا جتنا شور سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر دکھائی دیتا ہے، اگر اس کا عکس گلیوں اور بازاروں میں بھی نظر آتا تو شاید سیاسی نظام کے لیے صورت حال مختلف ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ (کی بورڈ) پر دکھائی دینے والی سیاسی طاقت اور سڑکوں پر موجود سیاسی قوت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں
دوسری طرف حکومت اگر سوشل میڈیا کے شور کو حقیقی زمینی خطرے سے زیادہ سمجھ کر ردعمل دے تو یہ بھی حقیقت سے دوری ہوگی۔ سیاسی اختلاف کو طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی جمہوری معاشروں کا راستہ ہے۔ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے اقدامات بالآخر کارکنوں اور عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں، جبکہ مسلسل محاذ آرائی معاشرے کو مزید تقسیم کرتی ہے
اسی تناظر میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی حالیہ اپیل قابلِ غور ہے۔ انہوں نے حکومت اور احتجاج کرنے والوں پر زور دیا کہ انا، ضد اور دھڑے بندی سے بالاتر ہوکر بات چیت کریں، کیونکہ مسائل حل کرنے کی نیت ہو تو راستہ نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور دہشت گردی سے دوچار عام آدمی سیاسی ملاکھڑوں سے نہیں بلکہ عملی ریلیف سے دلچسپی رکھتا ہے میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت سیاسی فتح کے دعوے نہیں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ محاذ آرائی میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا نقصان بالآخر ریاست، معیشت اور عام شہری کا ہوتا ہے

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *