Banner
Daily Sahafat Quetta
September 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقداماتملگری استادان ضلع قلعہ عبداللہ کی ضلعی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیلسیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاریمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کا فیصلہ نہ ہو سکاظالم آزاد، مظلوم خاموش اور داستان جبرہرمز کھولنے کی امید کو دھچکا، ٹرمپ کے انکار کے بعد تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہٹانک، ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ، 3اہلکار شہیدادب، آرٹ اور سیاستبلوچستان ووشو کنگفو ایسوسی ایشن کے انتخابات مکملحکومتی احکامات پر مواصلات و تعمیرات کے اقدامات

سیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہ

احمدخان اچکزئی

سیاست کا بے رحم بہروپیا، پشتون تاریخ کے دردناک صفحات اور قومی المیہ

قارئین کرام، پشتون قوم اپنی سادہ لوحی اور روایتی غیرت کے باعث تاریخی طور پر ایسے سیاسی بساط بچھانے والوں کا شکار ہوتی رہی ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کی خاطر قومی غیرت کا سودا کیا ہے۔ محمود خان اور ان کے خاندان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت انتہائی صفائی سے سامنے آتی ہے کہ یہ کردار ہر دور میں رنگ بدلنے اور اپنے مفادات کی خاطر قوم کو دھوکہ دینے میں طاق رہے ہیں۔ وہ ہر بار اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے نیا سوانگ رچاتے ہیں اور تمام تر تباہی و بربادی کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر خود کو ہر الزام سے پاک صاف ثابت کر کے نکل جاتے ہیں۔سنہ 1978ء میں جب افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب آیا، تو اس شخص نے اپنی جماعت سمیت اس کمیونسٹ حکومت کا کھل کر ساتھ دیا۔ دوسری جانب، جب جنگ کے ستاۓ، تھکے، ہار اور لٹے پٹے مظلوم افغان مہاجرین اپنے جان و مال کی حفاظت کے لیے پاکستان میں پناہ لینے آئے، تو محمود خان اور اس کے گروہ نے ہر موڑ اور ہر مقام پر ان بے بس انسانوں کو زچ کیا اور انہیں واپس آگ اور خون کے دوزخ میں دھکیلنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ کمیونسٹ رژیم کی اس اندھی حمایت کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد پشتون لقمہ اجل بنے اور 60 لاکھ سے زائد افراد کو در بدر ہو کر مہاجرت کی تلخ زندگی گزارنی پڑی۔ اس ستم ظریفی اور ہولناک تباہی کے باوجود، افغان عوام اور بالخصوص پشتون قوم اس گہرے راز اور اصل قاتل کے سیاسی بہروپ کو بروقت سمجھنے میں ناکام رہی۔نور محمد ترہ کئی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل کے ادوار میں یہ سیاسی وابستگی یکے بعد دیگرے جاری رہی۔ جب ببرک کارمل کے ساتھ سوویت یونین کی سرخ فوج نے قدم رکھا، تو یہی محمود خان روس کے ساتھ صف اول میں کھڑے نظر آئے۔ ملک برباد ہوتا رہا، لاکھوں افغان مرتے رہے، لیکن ان کے مفادات کا کاروبار چمکتا رہا۔ بعد ازاں جب ڈاکٹر نجیب اللہ کا دور آیا، تو یہ ان کے ساتھ بھی جڑ گئے۔ حتیٰ کہ نجیب حکومت سے اس بہانے اسلاح و اسلحہ حاصل کیا گیا کہ پنجاب کے مقابلے میں ایک منظم پشتون فوج اور لشکر تشکیل دیا جائے گا۔ مگر تاریخ شواہد فراہم کرتی ہے کہ وہ 5,000 افراد پر مشتمل لشکر پنجاب کے خلاف لڑنے کے بجائے غیبیزئی قوم کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس لشکر کے ذریعے غیبیزئی قوم پر پے در پے متعدد خونریز حملے کروائے گئے، جس کی آگ میں وزیرستان سے لے کر ہلمند اور کابل تک کے علاقے جھلس گئے اور آس پاس کے تمام اقوام کو اس تصادم میں گھسیٹا گیا۔اس تمام تر تباہی کے دوران ان کا یہی دعویٰ رہا کہ وہ پشتونوں کے حقوق، انصاف اور خدمت کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ یہ گھناؤنا پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ غیبیزئی قوم کو ریاستی اداروں نے ان پر مسلط کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیبیزئی قوم گزشتہ 36 سالوں سے بے پناہ درد، تکلیف اور مصائب کا شکار چلی آ رہی ہے، جبکہ ان کے پاس نہ تو کسی ادارے کے دیے گئے وسائل ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی بیرونی امداد۔ بالخصوص گزشتہ 12 سالہ دورِ دور میں میرے تینیور کا اس قسم کے معاملات سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں رہا۔اور نہ اج ہے سیاسی ابن الوقتی کا یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہوا۔ جب مجاہدین کا دور آیا، تو یہ فوراً مجاہدین کے صفوں میں جا شامل ہوئے۔ اس کے بعد طالبان کا اقتدار آیا تو ان کے ساتھ پینگیں بڑھائیں۔ بعد میں جب امریکی افواج کی آمد کے ساتھ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار قائم ہوئے، تو یہ وہاں بھی اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے۔ ان تمام سیاسی قلابازیوں اور اقتدار کی ہوس کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مزید بے گناہ افغان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ قوم اس گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے شخص کی سیاسی چالاکیوں کو بروقت کیوں نہ پہچان سکی۔ اس خاندان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ یہ جس حکومت اور جس اتحاد کے ساتھ ملتے ہیں، وہ بالآخر برباد اور ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑ کر فوری طور پر دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ پنجاب کے حکمرانوں، نواز شریف اور اقتدار کے مقتدر حلقوں سے لے کر موجودہ دور میں عمران خان تک یہ ہر ایک کے ساتھ اپنے مفادات کا رشتہ جوڑتے رہے ہیں۔ عمران خان کے ساتھ ان کا موجودہ اتحاد بھی صرف اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے اور ان کی سیاسی تباہی کا سبب بننے کا ایک اور پینترا ہے۔اس خاندان نے دہائیوں کی اس سیاست میں قوم کو سوائے تباہی کے کچھ نہیں دیا ہے، جبکہ خود 50 سے 60 ارب روپے کے بے تحاشا اثاثوں اور جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پشتون …

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *