Banner

میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی کی لافانی خدمات کی سہانی کہانی

Share

Share This Post

or copy the link

میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی کی لافانی خدمات کی سہانی کہانی

منشا قاضی
حسبِ منشا

قوموں کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ اپنے کردار، علم اور خدمات کے ذریعے زمانے کے رخ متعین کر دیتی ہیں۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) مسعودالرحمٰن کیانی ایسی ہی ایک درخشاں اور باوقار شخصیت ہیں، جن کی زندگی علم، خدمت، استقامت اور قومی وقار کی ایک ہمہ جہت داستان ہے۔ وہ سپاہی بھی ہیں، طبیب بھی، معلم بھی اور قومی اداروں کے معمار بھی—اور ان سب حیثیتوں میں ان کا کردار بے مثال رہا ہے۔ میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی 4 اپریل 1943ء کو ایبٹ آباد کے سرسبز اور علمی فضا رکھنے والے شہر میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر ایک نئے عہد میں داخل ہو رہا تھا اور تعلیم، خدمت اور قومی شعور کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ انہی اقدار نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ملک کے سب سے معتبر طبی ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے 1965ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ یہ صرف ایک تعلیمی سنگِ میل نہیں تھا بلکہ ایک ایسے طویل اور بامقصد سفر کا آغاز تھا جس کا مرکز انسانیت کی خدمت اور وطن سے وفاداری تھی۔ طب کے میدان میں ان کی پیش رفت محض نصابی حدود تک محدود نہ رہی۔ انہوں نے 1971ء میں MCPS مکمل کیا اور بعد ازاں FCPS پارٹ اوّل اور دوم 1974ء میں کامیابی سے پاس کیے۔ اس تعلیمی سفر کی خاص بات یہ ہے کہ FCPS کی تکمیل وہ اس وقت کر رہے تھے جب وہ بھارت میں جنگی قیدی (POW) کے کٹھن اور اذیت ناک حالات سے واپس آئے تھے۔ یہ مرحلہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھا—قید، غیر یقینی مستقبل، جسمانی و ذہنی دباؤ—لیکن ان سب کے باوجود انہوں نے ہمت، استقلال اور حوصلے کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ان کی شخصیت فولاد کی طرح نکھر کر سامنے آئی، اور ثابت ہوا کہ اصل قیادت مشکل حالات میں ہی جنم لیتی ہے۔ قید سے واپسی کے بعد انہوں نے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کی پیشہ ورانہ بصیرت، انتظامی صلاحیت اور طبی مہارت نے ادارے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ AFIC ان کا سفر محض ایک افسر یا معالج تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ اس ادارے کے فکری و انتظامی معمار بن کر ابھرے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اسی ادارے کے کمانڈنٹ کے منصب تک پہنچے، جہاں انہوں نے نظم و ضبط، جدید طبی تحقیق، اور مریض دوست نظام کو فروغ دیا۔ ان کے دورِ قیادت میں AFIC نہ صرف مسلح افواج بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک مثالی کارڈیالوجی مرکز بن گیا، جہاں علاج، تحقیق اور تربیت تینوں پہلو یکساں اہمیت رکھتے تھے۔ میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی کی خدمات فوجی دائرے تک محدود نہ رہیں۔ انہوں نے ملکی سطح پر طبی اور علمی اداروں کو قیادت فراہم کی اور پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ نے بطور:
صدر، پاکستان کارڈیک سوسائٹی
صدر، سوسائٹی آف کارڈیو ویسکولر اینڈ تھوراسک سرجری آف پاکستان
صدر، پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH)
دل کے امراض کی روک تھام، عوامی آگاہی، جدید علاج اور تحقیق کو فروغ دیا۔ PANAH کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دل کی بیماریوں کو محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی صحت کا چیلنج قرار دیا، اور طرزِ زندگی میں بہتری، تمباکو نوشی کے خلاف شعور اور احتیاطی تدابیر پر زور دیا۔

ان کی انتظامی بصیرت کا ایک اور روشن باب اس وقت سامنے آیا جب وہ چیئرمین، بورڈ آف مینجمنٹ، راولپنڈی میڈیکل کالج اور الائیڈ ہاسپٹلز مقرر ہوئے۔ اس منصب پر انہوں نے تعلیمی معیار، ہسپتالوں کے نظم و نسق، اور مریضوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اصلاحات متعارف کروائیں۔ ان کی قیادت میں یہ ادارے نہ صرف تعلیمی اعتبار سے مضبوط ہوئے بلکہ عوامی خدمت کے حقیقی مراکز بنے۔ میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا وقار، انکسار اور مقصدیت ہے۔ وہ علم کو طاقت اور خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ، فیصلوں میں دانائی اور عمل میں خلوص جھلکتا ہے۔ وہ نئی نسل کے ڈاکٹروں اور فوجی افسران کے لیے ایک زندہ مثال ہیں کہ کس طرح پیشہ ورانہ مہارت کو قومی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) مسعودالرحمٰن کیانی کی زندگی دراصل پاکستان کی طبی، فوجی اور تعلیمی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے میدانِ جنگ کی آزمائش بھی دیکھی، قید کی صعوبت بھی سہی، اور پھر علم، خدمت اور قیادت کے ذریعے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ ایسی شخصیات ہی قوموں کا سرمایہ ہوتی ہیں—جو خاموشی سے خدمت کرتی ہیں، مگر ان کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ علم، حوصلہ اور خدمت، جب یکجا ہوں تو فرد تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔ میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی بلاشبہ وقار، خدمت اور شفا کی ایک لازوال علامت ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے افراد سے بنتی ہیں جو خاموشی سے، مستقل مزاجی کے ساتھ، علم اور کردار کے چراغ جلاتے رہیں۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) مسعودُ الرحمٰن کیانی کا نام اسی لیے پاکستان کی عسکری و طبی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا—ایک ایسے سپاہی، معالج اور منتظم کے طور پر جس نے دلوں کو بھی فتح کیا اور اداروں کو بھی۔ بلاشبہ، ان کی حیاتِ مستعار آنے والی نسلوں کے لیئے ایک روشن مثال ہے کہ علم، خدمت اور عزم اگر یکجا ہو جائیں تو فرد بھی عظیم بنتا ہے اور قوم بھی۔ میں بے پناہ ممنونِ احسان ہوں اس ہستی کا جن کی پرکشش شخصیت ہم سب کے لیئے وجہ ء دوستی بنی ہوئی ہے اور ان کی یہ دوستی ریاکاری سے پاک حقیقی دکھی انسانیت کی خدمت کی عظیم مثال ہے میری مراد ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب کی ذاتِ گرامی سے ہے جو سوز و گداز کی دولت سے مالا مال ہیں اور جوق در جوق پروانے ان پر دور دور سے نچھاور ہوتے ہیں اس لیئے کہ وہ شمع محفل ہیں اور شمع محفل رہیں گے انہی کے توسط سے یہ انمول ہیرے قومی ہیروز میسر آئے ہیں جن پر خامہ فرسائی کرتے وقت راقم اپنے آپ کو اوجِ ثریا پہ مقیم پا رہا ہے ۔ کالم نگار جن کی گفتار میں زمانے کی رفتار اور قومی وقار کی جھلک پائی جاتی ہے ۔ میری مراد ارشد شاھد سے ہے جنہوں نے ثناءاللہ گھمن صاحب اور ڈاکٹر غلام نبی صاحب جیسی ہستیوں سے ملوایا جن شخصیات کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے انہی جلیل القدر شخصیات کے بارے میں مختار مسعود نے کہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آبشار کی مانند ہیں ۔ جو بلندیوں سے یہ کہتی ہوئی نیچے آ رہی ہوتی ہے اور اپنے ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ لوگ میری سطح تک بلند نہیں ہو سکتے تو میں خود ہی نیچے اتر کر تمہاری کشتِ ویراں کو سیراب کرتی ہوں ۔ شعر میں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ اور شاعر سے معذرت کے ساتھ

کیا لوگ ہیں جو راہِ جہاں سے گزر رہے ہیں

جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں

میجر جنرل (ر) مسعودالرحمٰن کیانی کی لافانی خدمات کی سہانی کہانی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us