Banner

موت ہمارے رختِ ہستی کے پرزے اڑاتی ہے

Share

Share This Post

or copy the link

موت ہمارے رختِ ہستی کے پرزے اڑاتی ہے
تحریر،ڈاکٹر اسلم ڈوگر

دریاے چناب کے مشرقی کنارے پر وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ سامنے رواں دواں پانی کی لہروں میں ایک ایسی موسیقی تھی جو روح کو چھو رہی تھی۔ سورج اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ افق کی گود میں اتر رہا تھا، اور اس کی آخری سنہری کرنیں جب پانی کی سطح سے ٹکرائیں، تو چناب کا سینہ پگھلے ہوئے سونےکی مانند دمک اٹھا۔
ڈوبتے سورج کا عکس لہروں پر کسی بکھرے ہوئے خواب کی طرح رقص کر رہا تھا۔
شام کی خنک ہوا چناب کے پانیوں کا پیغام لے کر آتی اور کانوں میں محبت کی کہانیاں سنا جاتی آسمان پر چھائی سرخی اور پانی کی گہری نیلاہٹ مل کر ایک ایسا جادوئی منظرتخلیق کر رہی تھیں جسے لفظوں میں قید کرنا ممکن نہ تھا۔
اس سحر انگیز ماحول میں دوستوں کا ساتھ اس شام کو ایک لازوال یادگاربنا رہا تھا۔ ڈاکٹر بابر اور سجاد اسلم نے لمحوں میں چناب کے کنارے ایک دنیا آباد کر دی تھی قہقہوں کی گونج اور دلوں کی باتیں چناب کے شور میں مدغم ہو کر ایک رومانوی نغمہ بن گئی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے قدرت نے اس شام کا انتخاب صرف ہماری رفاقت کو جلا بخشنے کے لیے کیا ہو۔
وہ محض ایک شام نہیں تھی، بلکہ وہ تو چناب کے کنارے بکھرا ہوا محبت، دوستی اور سکون کا ایک شاہکار تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر کائنات کی خوبصورتی دیکھنی ہو، تو بس اسی لمحے کو قید کر لیا جائے۔چناب کی لہریں اور
شام کا دھندلکا گہرا ہو رہا تھا اور چناب کا پانی اپنی پوری سنگدلی کے ساتھ بہہ رہا تھا۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے وقت خود رک کر کسی پرانی داستان کو سننے کی کوشش کر رہا ہو۔ اسی اثنا میں میرے دوست کی آواز ابھری، جو ہوا کے دوش پر کسی نوحے کی طرح محسوس ہوئی: “یہاں سے بس کچھ ہی دور وہ مقام ہے، جہاں سے سوہنی کچے گھڑے کے سہارے عشق کی آگ بجھانے نکلی تھی… اور پھر ایک شب چناب کے بے رحم پانیوں نے اسے ہمیشہ کے لیے اپنی آغوش میں چھپا لیا۔میں نے ڈوبتے ہوئے سورج کی آخری اداس کرنوں کو دیکھا، جن کے رنگ چناب کے پانی پر کسی تازہ زخم کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ دل میں ایک ہوک اٹھی اور میں نے سوال کیا:
“شہباز اسلم! اس محبت کی دیوانی سوہنی کی قبر کہاں ہے؟”
شہباز نے ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جس نے روح کو لرزا کر رکھ دیا:
“کسی نے سچ ہی کہا ہے… جہاں جہاں سے دریائے چناب کا یہ پانی گزرتا ہے، وہی سوہنی کی قبر ہے۔ وہ مٹی میں نہیں، اس دریا کے بہاؤ میں دفن ہے

ڈوبتے سورج کی سرخی نے پورے منظر کو ایک المیہ رنگ دے دیاچناب اب محض ایک دریا نہیں رہا تھا، بلکہ ایک بہتا ہوا مزار بن چکا تھا، جہاں صدیوں کا عشق آج بھی موجوں کی صورت میں ماتم کناں ہے۔
وہ شام محض ایک ملاقات نہیں تھی، بلکہ چناب کے کنارے پر عشق، فنا اور بقاکی ایک ایسی داستان تھی جسے لفظوں نے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا
چناب کے یخ بستہ پانیوں میں جب رات کا سناٹا اترتاہے، تو ایک دیوانی اپنے کچے گھڑے کو نہیں، بلکہ اپنی روح کو اس بے رحم لہروں کے حوالے کر دیتی ہے۔ دنیا کے لیے وہ دریا کا سرد اور خونی پانی تھا، لیکن سوہنی کے لیے وہ وصال کی خوشبوتھی۔عشق کی وہ مستی جو موت سے بے نیاز تھی
جب وہ لہروں سے ٹکراتی، تو اسے پانی کی تندی اور لہروں کا شور سنائی نہ دیتا، بلکہ اسے تو اپنے محبوب کی پکار سنائی دیتی تھی۔ اس پر عشق کی وہ مستی طاری ہوتی جو خوف کے ہر احساس کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اسے چناب کے پانیوں میں چھپی ہوئی ‘موت’ دکھائی نہیں دیتی تھی، اسے تو بس ہر لہر کے پیچھے مہیوال کا چہرہ نظر آتاکچا گھڑا ٹوٹ رہا تھا، لیکن اس کا ایمانِ چناب کا ٹھنڈا پانی اس کے جسم کو تو منجمد کر رہا تھا، مگر اس کے دل میں لگی عشق کی آگ کو بجھانے میں ناکام تھا
اس سیاہ رات میں چناب نے ایک سنگدل منصف کی طرح فیصلہ سنایا۔ اس نے سوہنی کی سانسیں تو چھین لیں، لیکن اس کے بدلے اسے وہ مقام دیا جو بہت کم نصیبوں کو ملتا ہے۔ >
وہ ڈوبی نہیں تھی، بلکہ وہ تو چناب کے سینے پر ہمیشہ کے لیے ایک ایسی تحریر بن گئی جسے وقت کی کوئی لہر مٹا نہیں سکتی۔ آج بھی جب چناب کا پانی شور مچاتا ہے، تو اس میں کسی لہر کی آواز نہیں، بلکہ سوہنی کے عشق کی گواہی سنائی دیتی ہے۔ وہ مر کر بھی امر ہو گئی، کیونکہ جسم فنا ہو جاتے ہیں، مگر سچے عشق کو موت نہیں آتی۔ یہاں کیف عرفانی کا شعر یاد آتا ہے ۔

سوہنی کو ، مہیوال کو ، رانجھے کو ہیر کو

آج بھی کیف روتے ہیں بیلے چناب کے

موت ہمارے رختِ ہستی کے پرزے اڑاتی ہے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us