Banner
Daily Sahafat Quetta
September 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026جماعتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے رابطے اور نظم و ضبط مضبوط بنایا جائے، مفتی سمیع الحقمستونگ روڈ حادثے میں محمد ابراہیم کرد عرف بابو جاں بحق محمد ابراہیم کرد کی فاتحہ خوانی سردار عزیر احمد لہڑی اسٹریٹ میں جاریمعیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول اولین ترجیح ہے، ماجد سلیممسلم باغ میں آل پارٹیز کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات پر عملدرآمد کا مطالبہسید عبدالروف آغا پشین چیمبر آف کامرس کے صدر منتخب، اورنگزیب خان ترین سینئر نائب صدراورنجیب اللہ پشین چیمبر کے نائب صدر منتخب ہوگئےحکومت اور اپوزیشن اشتعال انگیزی سے گریز کریں،اراکین بلوچستان اسمبلیکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026جماعتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے رابطے اور نظم و ضبط مضبوط بنایا جائے، مفتی سمیع الحقمستونگ روڈ حادثے میں محمد ابراہیم کرد عرف بابو جاں بحق محمد ابراہیم کرد کی فاتحہ خوانی سردار عزیر احمد لہڑی اسٹریٹ میں جاریمعیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول اولین ترجیح ہے، ماجد سلیممسلم باغ میں آل پارٹیز کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات پر عملدرآمد کا مطالبہسید عبدالروف آغا پشین چیمبر آف کامرس کے صدر منتخب، اورنگزیب خان ترین سینئر نائب صدراورنجیب اللہ پشین چیمبر کے نائب صدر منتخب ہوگئےحکومت اور اپوزیشن اشتعال انگیزی سے گریز کریں،اراکین بلوچستان اسمبلی

لاہور: اللہ کی رحمتوں کا شہر

لاہور: اللہ کی رحمتوں کا شہر

تحریر۔
شکیل گوندل

لاہور صرف ایک شہر نہیں، اللہ کی رحمتوں کا سایہ ہے۔ جس کی گلیوں میں تاریخ سانس لیتی ہے اور جس کی فضاؤں میں دعائیں بسی ہیں۔ میں ٹاؤن شپ لاہور میں 22 سال رہا ہوں، اس لیے یہ شہر میری یادوں کا حصہ نہیں، میری روح کا حصہ ہے۔

1. سرحد اور نہر: رحمت کے دو نشان
لاہور کی ایک سرحد ہندوستان سے ملتی ہے، مگر اس کی اصل سرحد تو محبت سے ملتی ہے۔ یہاں سے گزرنے والی نہر اللہ کی ایک خاص نعمت ہے۔ رات کے وقت جب نہر کے کنارے قطار در قطار لائٹیں جلتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آسمان کے تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ وہ منظر دیکھ کر بے ساختہ یہ شعر یاد آ جاتا ہے:

_نیلے نیلے اودے اودے پیلے پیلے پیرہن
فیریا ہے یہ سہرا میں قطار اندر قطار_

نہر کے ایک طرف پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس ہیں اور دوسری طرف ہوسٹل۔ دونوں طرف خوبصورت سڑک ہے جس پر گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ پاکستان کی نمبر ون یونیورسٹی کا یہ نظارہ اور نہر کا پانی، دل کو سکون دے دیتا ہے۔

2. تاریخ کا زندہ شہر
لاہور میں بادشاہی مسجد کھڑی ہے تو لگتا ہے اللہ کا گھر خود شہر کی نگہبانی کر رہا ہے۔ اندرون شہر کے وہ بڑے بڑے دروازے آج بھی موجود ہیں: دہلی گیٹ، لوہاری گیٹ، بھاٹی گیٹ۔ ان دروازوں کے اندر لاہور کا اصل کلچر اور ثقافت آج بھی زندہ ہے۔ تنگ گلیاں، پرانی حویلیاں، اور ہر دروازے پر کوئی کہانی۔

3. زندہ دل لوگ اور مشہور کھانے
لاہور کے بندے واقعی بڑے زندہ دل ہیں۔ مہمان کو دیکھ کر ان کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ اور کھانے؟ لاہور کے کھانوں کی تو کیا ہی بات ہے۔
صبح کے ناشتے میں سری پائے، چنے، اور دہی بھلے۔ ریگل چوک پر چمن کی آئس کریم کے تو کیا کہنے۔ ریگل پر ہی سٹوڈنٹ چاٹ اور بھلے والا ریڑھی والا بہت مشہور ہے۔ جو ایک بار کھا لے، وہ لاہور کو بھول نہیں سکتا۔

4. میری 22 سالہ یادیں: ٹاؤن شپ کا سایہ
میں ٹاؤن شپ لاہور میں 22 سال رہا ہوں۔ وہ وقت میری زندگی کا سب سے مثالی دور تھا۔ اس پر اللہ کا خاص سایہ تھا، اس کی سرپرستی اور دعائیں شامل تھیں۔
ہم دو بھائی اپنی فیملیوں کے ساتھ وہاں رہ رہے تھے۔ محلے والوں کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ دونوں بھائیوں کی بیویاں ہیں یا بہنیں۔ دونوں سگی بہنوں کی طرح رہتی تھیں۔ بچے بھی ایسے گھلے ملے کہ سمجھ ہی نہ آئے کہ میں نے ان کے پالے ہیں یا انہوں نے میرے۔ آج بھی ان بچوں میں بہن بھائیوں جیسی ہم آہنگی موجود ہے۔ یہی لاہور کا حسن ہے: یہاں رشتے خون سے نہیں، محبت سے بنتے ہیں۔

پرانا لاہور: مٹی کی خوشبو
تاریخ گواہ ہے کہ لاہور ہمیشہ سے دلوں کا دارالحکومت رہا ہے۔ مغل، سکھ، انگریز، سب آئے اور اس کی مٹی کے ہو گئے۔ داتا دربار کی حاضری، شالامار باغ کی سیر، اور مینارِ پاکستان کا وقار۔ یہ شہر ہر دور میں جیا ہے اور آج بھی ویسے ہی جی رہا ہے۔

لاہور پر واقعی اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ یہاں کی نہر، یہاں کی مسجدیں، یہاں کے دروازے، یہاں کے لوگ اور یہاں کے کھانے۔ سب اللہ کا کرم ہیں۔

آخر میں علامہ اقبال کا یہ شعر لاہور کے نام:
_یہی جانتی ہے کہ فقط ایک ہے لا الٰہ
حرم بھی، دیر بھی، میکدہ بھی، کلیسا بھی_

لاہور زندہ باد۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *