Banner
Daily Sahafat Quetta
September 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: 2 ہزار سے زائد افراد کی ن لیگ میں شمولیت، پارٹی بلوچستان میں مزید مضبوط ہوگی، جمال شاہ کاکڑخضدار: نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ، گارڈ زخمیکوئٹہ میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، ایک زخمیدکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہکوئٹہ: 2 ہزار سے زائد افراد کی ن لیگ میں شمولیت، پارٹی بلوچستان میں مزید مضبوط ہوگی، جمال شاہ کاکڑخضدار: نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ، گارڈ زخمیکوئٹہ میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، ایک زخمیدکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہ

انتظام و احتساب سے ادب و مزاح تک محمد جمیل بھٹی کی ہمہ جہت شخصیت

 

انتظام و احتساب سے ادب و مزاح تک
محمد جمیل بھٹی کی ہمہ جہت شخصیت

منشاقاضی
حسبِ منشا

محمد جمیل بھٹی اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں سرکاری انتظام، مالیاتی نظم و نسق، آڈٹ اور ادارہ جاتی امور کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب و تصنیف کے ذریعے بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو دفتری و انتظامی معاملات میں غیر معمولی تجربے اور مہارت کا آئینہ دار ہے تو دوسرا پہلو تخلیقی فکر، مشاہدے، شگفتگی اور انسانی زندگی کے مختلف رنگوں کو الفاظ میں ڈھالنے کی صلاحیت سے عبارت ہے۔ یہی ہمہ جہتی انہیں ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت بناتی ہے جس کا تعارف محض ایک عہدے یا شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
محمد جمیل بھٹی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں متعدد اہم اور ذمہ دار مناصب پر فرائض انجام دیے۔ وہ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے منصب پر فائز رہے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ ورکس کے طور پر بھی اپنی انتظامی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ پنجاب کی حیثیت سے خدمات انجام دینا بھی ان کے وسیع انتظامی تجربے کی نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح ڈائریکٹر جنرل آڈٹ، پاکستان ریلوے کے منصب پر انہوں نے ایک بڑے اور پیچیدہ ادارے کے مالیاتی و آڈٹ نظام سے وابستہ ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں رہا۔ وہ خزانچی، یونیورسٹی آف پنجاب، لاہو کے اہم منصب پر بھی خدمات انجام دیتے رہے، جہاں یونیورسٹی کے مالیاتی معاملات اور انتظامی امور سے وابستہ ذمہ داریاں ان کے سپرد رہیں۔ بعد ازاں ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان، ریونیو پنجاب کے طور پر بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ لاہور میں ڈائریکٹر ٹریننگ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے نئی نسل کے افسران اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت میں بھی کردار ادا کیا۔ اسی طرح ڈائریکٹر فنانس، پوسٹس سروسز کارپوریشن کے منصب پر بھی انہوں نے مالیاتی انتظام اور ادارہ جاتی امور میں اپنی قابلیت کا عملی ثبوت پیش کیا۔
ان کے کیریئر کی یہ طویل فہرست اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ محمد جمیل بھٹی نے سرکاری نظام کے مختلف اہم شعبوں میں نہ صرف کام کیا بلکہ مختلف اداروں کے مالیاتی، انتظامی اور احتسابی نظام کو قریب سے سمجھنے اور سنوارنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل کیا۔ مختلف حساس اور ذمہ دار عہدوں پر ان کی تقرری ان کے تجربے، اہلیت اور پیشہ ورانہ استعداد کی عکاس ہے۔
محمد جمیل بھٹی کی شخصیت کا ایک نہایت دلکش پہلو ان کی ادبی اور تخلیقی کاوشیں ہیں۔ سرکاری امور کی خشک اور رسمی دنیا سے وابستہ رہنے کے باوجود ان کے اندر موجود تخلیق کار نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ہمیشہ غور سے دیکھا اور انہیں کتاب کے صفحات پر منتقل کیا۔ ان کی تصانیف میں موضوعات کا تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض ایک مالیاتی ماہر یا منتظم نہیں بلکہ ایک حساس، صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ مشاہدہ قلم کار بھی ہیں۔
ان کی معروف تصانیف میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ایک اہم تصنیف ہے، جبکہ ان کی انگریزی اور اردو نظمیں ان کے شعری ذوق اور تخلیقی اظہار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسی طرح ’’وی آئی پی کباڑ خانہ‘‘ اپنے منفرد اور طنزیہ عنوان ہی سے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔ ’’گناہ بے لذت‘‘ اور ’’ازدواجی اٹھکیلیاں‘‘ میں زندگی کے معاشرتی اور انسانی رویوں کو شگفتہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
ان کی ایک اور قابلِ ذکر تصنیف ’’محبتوں کا سفر‘‘ ہے، جو انسانی تعلقات، جذبات اور زندگی کے نرم و نازک احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔ ’’اقسامِ افسران بزبان افسران‘‘ میں سرکاری و دفتری زندگی کے تجربات، افسرانہ مزاج اور مختلف انسانی رویوں کو منفرد اور شگفتہ انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ’’سورج کہانیاں‘‘ ان کے تخلیقی شعور اور کہانی بیان کرنے کی صلاحیت کی عکاس تصنیف ہے۔
محمد جمیل بھٹی کی زندگی کو دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے شخص کا سفر دکھائی دیتی ہے جس نے سرکاری ملازمت کے اعلیٰ ترین انتظامی و مالیاتی مناصب سے لے کر ادب کی آزاد اور تخلیقی دنیا تک اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ایک طرف اعداد و شمار، حسابات، آڈٹ، مالیاتی نظم و نسق اور سرکاری اداروں کی پیچیدہ ذمہ داریاں ہیں، تو دوسری طرف شاعری، نثر، طنز، مزاح، معاشرتی مشاہدات اور انسانی جذبات کے رنگ ہیں۔ یہ امتزاج ان کی شخصیت کو منفرد بناتا ہے۔ عموماً سرکاری اور مالیاتی شعبے سے وابستہ افراد کی شناخت ان کے عہدے اور پیشہ ورانہ خدمات تک محدود رہ جاتی ہے، لیکن محمد جمیل بھٹی نے قلم کو بھی اپنی شخصیت کا مستقل حوالہ بنایا۔ ان کی تصانیف میں زندگی کے مختلف تجربات، مشاہدات اور انسانی رویوں کی جھلک ملتی ہے، جو ان کے وسیع تجربۂ حیات کا فطری اظہار ہے۔
محمد جمیل بھٹی کی شخصیت دراصل اداروں کے نظم و نسق، مالیاتی دیانت، انتظامی تجربے اور ادبی تخلیق کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک وسیع تجربے کا سرمایہ ہیں، جبکہ ان کی کتابیں ان کے فکری اور تخلیقی سفر کی یادگار حیثیت رکھتی ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ محمد جمیل بھٹی نے فائلوں اور حسابات کی دنیا میں بھی اپنی شناخت بنائی اور کتابوں کے صفحات پر بھی اپنی آواز ثبت کی۔ یہی دوہرا سفر انہیں ایک ہمہ جہت شخصیت اور اپنے عہد کی قابلِ ذکر شخصیت کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *