Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قلعہ سیف اللہ میں سیاسی و قبائلی رہنما کے فرزند پر ہینڈ گرنیڈ حملہ، 3 افراد زخمی23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ 2026 کا آغاز 3 نومبر سے مصحف اسکواش کمپلیکس اسلام آباد میں ہوگاپولیس حوالدار یاسر کی مداخلت نے میرا گھر اجاڑ دیا، سابقہ اہلیہ اور اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، محمد آصفبابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیمسپریم کورٹ کے دو بنچز 4 سے 6 نومبر تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گےعوامی مسائل کا حل افسران اپنی ذمہ داری سمجھیں، چیف سیکرٹری بلوچستانآغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے منصوبوں میں تاخیر اور بھرتیوں پر سینیٹ ذیلی کمیٹی کے تحفظاتڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیقلعہ سیف اللہ میں سیاسی و قبائلی رہنما کے فرزند پر ہینڈ گرنیڈ حملہ، 3 افراد زخمی23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ 2026 کا آغاز 3 نومبر سے مصحف اسکواش کمپلیکس اسلام آباد میں ہوگاپولیس حوالدار یاسر کی مداخلت نے میرا گھر اجاڑ دیا، سابقہ اہلیہ اور اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، محمد آصفبابائے سیاست انور سیف اللہ خان کی ملک کیلئے خدمات قابل تعریف ہےفاٹا کو دس سال بعد بھی بندوبستی نظام نہیں مل سکا، انضمام کے نتائج پر سنجیدہ سوالات ہیں، مولانا فضل الرحمٰنسندھ حکومت کے تعاون سے ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ کے غیر رسمی تعلیمی مراکز کے لیے ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی تقسیمسپریم کورٹ کے دو بنچز 4 سے 6 نومبر تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گےعوامی مسائل کا حل افسران اپنی ذمہ داری سمجھیں، چیف سیکرٹری بلوچستانآغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے منصوبوں میں تاخیر اور بھرتیوں پر سینیٹ ذیلی کمیٹی کے تحفظاتڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

عنوان: ماں باپ وہ سچ جسے ہم دیر سے سمجھتے ہیں

عنوان: ماں باپ وہ سچ جسے ہم دیر سے سمجھتے ہیں
تحریر ،یاسر دانیال صابری

ہم ایک عجیب معاشرے میں جی رہے ہیں۔ یہاں ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے ترجیحات بھی، رشتے بھی، اور احساسات بھی۔ مگر ایک رشتہ ایسا ہے جو آج بھی اپنی جگہ قائم ہے، چاہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں: ماں باپ کا رشتہ۔
سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے والدین کو اُس وقت سمجھتے ہیں جب بہت کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
بچپن میں ہمیں لگتا ہے کہ ماں کا ہر وقت ٹوکنا، باپ کا سخت ہونا، یہ سب بے وجہ ہے۔ ہمیں اپنی آزادی عزیز ہوتی ہے، اپنی مرضی مقدم لگتی ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لہجے کے پیچھے فکر ہے، ان کی سختی کے پیچھے تحفظ ہے۔ ہم صرف اپنا زاویہ دیکھتے ہیں اور وہ بھی ادھورا۔
پھر وقت گزرتا ہے۔ زندگی ہمیں آہستہ آہستہ وہ سب کچھ سکھانا شروع کر دیتی ہے جسے ہم کبھی سننا نہیں چاہتے تھے۔
جب انسان خود والدین بنتا ہے، تب پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ ایک بچے کو پالنا صرف خوشیوں کا نام نہیں، یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے ایسی ذمہ داری جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ راتوں کی نیندیں قربان ہوتی ہیں، اپنی خواہشات پیچھے رہ جاتی ہیں، اور زندگی کا مرکز خود بخود بدل جاتا ہے۔
یہاں آ کر انسان کو اپنے والدین یاد آتے ہیں۔
وہ راتیں یاد آتی ہیں جب ماں جاگتی رہی ہوگی اور ہمیں کبھی خبر بھی نہ ہونے دی۔ وہ دن یاد آتے ہیں جب باپ نے تھکن کو چھپا کر ہمارے لیے مسکرانا ضروری سمجھا ہوگا۔ وہ لمحے یاد آتے ہیں جب انہوں نے اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے ہماری خواہش پوری کی ہوگی۔ اور پھر ایک عجیب سا احساس دل میں اترتا ہے ہم نے کبھی ان سب باتوں کو واقعی سمجھا ہی نہیں تھا۔
آج کے معاشرے میں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ ہم جتنا آگے بڑھ رہے ہیں، اتنا ہی اپنے رشتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مصروفیات بڑھ گئی ہیں، مگر دل چھوٹے ہو گئے ہیں۔ وقت کم نہیں ہوا، مگر ترجیحات بدل گئی ہیں۔
بوڑھے ماں باپ اب اکثر گھروں میں نہیں، کمروں میں محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی باتیں ہمیں لمبی لگتی ہیں، ان کے قصے ہمیں بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت مصروف ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے وقت دینا چھوڑ دیا ہے۔
ہم اپنے بچوں کے لیے وہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے والدین نے ہمارے لیے کیا، مگر ایک بات بھول جاتے ہیں: ہمارے بچے ہمیں دیکھ کر سیکھ رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے والدین کے ساتھ بے توجہی برتیں گے، تو کل یہی رویہ ہمارے حصے میں بھی آئے گا۔
یہ زندگی کا ایک سیدھا سا اصول ہے جسے ہم ماننا نہیں چاہتے۔
ایک اور سچ یہ بھی ہے کہ ہم شکر ادا کرنے میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وقت بہت ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی بیٹھ کر بات کر لیں گے، کبھی نہ کبھی ان کا شکریہ ادا کر دیں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ یہ موقع نہیں دیتی۔
کبھی ایک فون کال رہ جاتی ہے۔
کبھی ایک ملاقات مؤخر ہو جاتی ہے۔
اور کبھی ایک “شکریہ” ہمیشہ کے لیے دل میں ہی رہ جاتا ہے۔
پھر جب انسان خود باپ یا ماں بنتا ہے، اور اپنے بچے کو معمولی سی تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے، تو اسے اچانک احساس ہوتا ہے کہ اس کے والدین نے اس کے لیے کیا کچھ سہا ہوگا۔ وہ دعائیں جو کبھی سنائی نہیں دیں، وہ فکر جو کبھی ظاہر نہیں ہوئی—سب ایک ایک کر کے سمجھ آنے لگتا ہے۔
مگر اس سمجھ کا کیا فائدہ، اگر اس کے ساتھ عمل نہ ہو؟
اگر والدین زندہ ہیں، تو یہ وقت ہے۔ ابھی بھی وقت ہے۔
ان کے پاس بیٹھنے کا، ان کی بات سننے کا، ان کے ہاتھ دبانے کا، ان سے محبت کے دو لفظ کہنے کا۔
اور اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہے، تو پھر ان کے لیے دعا ہی واحد راستہ ہے۔ وہی دعا جو شاید انہوں نے ساری زندگی ہمارے لیے مانگی تھی۔
ہم جتنے بھی جدید ہو جائیں، جتنی بھی ترقی کر لیں، کچھ رشتے ایسے ہیں جن کی جگہ کوئی چیز نہیں لے سکتی۔ ماں باپ ان میں سب سے اوپر ہیں۔
یہ کوئی فلسفہ نہیں، نہ ہی کوئی بڑی بات یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے جسے ہم اکثر پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے
والدین کا ہونا نعمت ہے، اور ان کا نہ ہونا ایک خلا۔ ایسا خلا جو کبھی پُر نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے، ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرے، اور ہمیں ان کی قدر کرنے کی توفیق دے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہیں۔
اور جو اس نعمت سے محروم ہو چکے ہیں، اللہ ان کے والدین کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو روشن کرے، اور انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
آمین۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *