Banner

عمرِ رفتہ کی ڈھلتی دوپہر

Share

Share This Post

or copy the link

عمرِ رفتہ کی ڈھلتی دوپہر
تحریر : محمد علی حسن زئی

پچیس برس عمر کا وہ حصہ ہے جسے منطقی طور پر ’نصف النہار‘ کہنا چاہیے اور نصف النہار دسمبر کا ہو تو سورج کی تمازت سکون دیتی ہے ، جبکہ جون کا نصف النہار وجود کو جھلسا دینے والی ہوتی ہے ۔ مڈل ایج بظاہر ایک ہندسہ ہے، مگر اپنے بطن میں دکھوں کی ایک پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ جب انسان زندگی کے اس موڑ پر پہنچتا ہے تو عموما سیکھنے کے رسمی اطوار پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں، قلم اور قرطاس کی رنگینیاں ماند پڑنے لگتی ہیں اور حقیقت سر اٹھا کر اپنا حساب مانگتی ہیں۔

اس مرحلے پر سب سے بڑا المیہ وہ ’خاموش بوجھ‘ ہے جو اس ناتواں کے اعصاب کو چٹخا دیتا ہے۔ کم آمدنی کا دکھ اور کام کے لامتناہی دباؤ کی چکی میں پستے ہوئے جب مستقبل کے دھندلکے پر نظر پڑتی ہے تو وہ کسی مخدوش اور غیر محفوظ عمارت کی طرح لرزتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ خواب جو کم عمری یا لاپرواہی کے سبب  کبھی آنکھوں میں چراغاں کرتے تھے اب ایک بوجھ بن کر رہ گئے ہیں۔ والدین کی ڈھلتی عمر اور ان کی گرتی ہوئی صحت کا غم ایک ایسی مستقل کسک بن جاتا ہے جو دل کے کسی کونے میں ہر وقت بیدار رہتی ہے، اور المیہ یہ کہ زیادہ حساس طبیعت کا حامل یہ شخص خود اپنی توانائی بھی کم ہوتا محسوس کرتا ہے ۔

عجیب کرب یہ بھی ہے کہ جس گھر کی چھت کو مضبوط رکھنے کے لیے انسان دن رات ایک کرتا ہے، اسی گھر کے کچھ باسیوں سے خیالات کا ٹکراؤ اس گھر کی خوبصورتی بھی چین لیتا ہے ،جبکہ گھر کے اندر دوسرا کمرہ بھی اس کے لئے اجنبی بن جاتا ہے ۔ اس دوران سماجی زندگی بھی کسی صحرائی کا روپ دھار لیتی ہے جسے دور دور تک کوئی انسان میسر نہیں آتا، آپ جب بھی سہارے کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ گرد و پیش موجود لوگ آپ کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے آپ کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ہمدردی کے لبادے میں چھپے یہ مفاد پرست چہرے انسان کو مزید تنہائی اور خود کلامی کی عادت ڈلواتی ہے ۔

ان سب تلخیوں کو سہتے ہوئے انسان بے زار رہنے لگتا ہے ،اور پھر وہ چیزیں جو کبھی خوشی کا باعث تھیں، وہ مشاغل جو کبھی جنون کا درجہ رکھتے تھے، اب بالکل بے جان اور بے اثر محسوس ہوتے ہیں۔ دل اب کسی مہم جوئی پر مائل نہیں ہوتا، بس ایک عجیب سی خاموشی اور تسلیم و رضا کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ انسان صرف سوچتا ہے اور سوچتا ہی چلا جاتا ہے کہ شاید زندگی نام ہے ایک ایسے پر خطر راستے کا جہاں ہزاروں مصائب کے باوجود  بھی  گزرنا ہے اور بس گزر جانا ہی مقدر ہے،
لیکن کبھی کسی گرم دھوپ کے بعد کی مدھم سی شام ، اپنے بچے کی بے ساختہ ہنسی، کسی پرانے دوست کی آواز، یا چھٹی کے دن فجر کے بعد اترنے والی خاموش سی روشنی میں یوں لگتا ہے کہ زندگی ابھی مکمل طور پر بے معنی نہیں اور اس لئے بھی کہ انسان مرنے کے لئے کسی بڑے حادثے کا ، جبکہ جینے کے لیے ننھے منھے سہاروں کا ہی محتاج ہے۔

عمرِ رفتہ کی ڈھلتی دوپہر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us