Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

مضمون فضیلۃ الشیخ محمد ادریس رحمہ اللہ کے بارے میں


✍️ تحریر: مولوی عبد الوھاب شاکر

شیخ ادریس – اللہ ان کی قبر کو منور فرمائے – بڑے ماہر عالم، عابد اور زاہد تھے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا اس سے بے رغبت، اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کے طلبگار تھے۔

بچپن کے آغاز ہی سے وہ تر و تازہ جسم، بھرپور جوانی، روشن چہرے، پاکیزہ نفس اور متقی دل کے مالک تھے۔ علم کے بہت حریص تھے؛ ہر وقت بڑے بڑے علماء سے علم حاصل کرنے جاتے، یہاں تک کہ ان کا سینہ علم و فقہ سے بھر گیا۔

وہ فضول بکواس اور وقت ضائع کرنے سے بچتے تھے، اور دنیا سے انتہائی بے رغبتی اختیار کی۔ وہ سانولی رنگت اور گھنگریالے بالوں والے تھے۔ شیخ ادریس – اللہ انہیں قبول فرمائے – کی عمر پینسٹھ سال ہوئی، جسے انہوں نے علم و عمل سے بھر دیا اور نیکی و تقویٰ سے لبریز کر دیا۔

شیخ عقلمند، دانا، شریف، باوقار اور روشن پیشانی والے تھے۔ وہ لوگوں میں ایک نایاب نمونہ تھے، تیز ذہن، علم کے دلدادہ اور معرفت کے شیدائی تھے۔ وہ جھگڑے اور شہرت پسندی کو ناپسند کرتے تھے۔ جب ان کی تعریف کی جاتی تو ناراض ہو جاتے اور فرماتے: “میری ایسی تعریف نہ کرو جو مجھ میں نہیں ہے”۔

وہ علم کے طلبگار تھے، ہم سب سے زیادہ نرم خو، ہم سے زیادہ نرم دل، ہم سے زیادہ مضبوط ارادے والے اور نظر میں سب سے زیادہ باریک بین تھے۔ وہ بادل سے زیادہ سخی، نرم پہلو، علم کے حلقے کی طرف تیز قدموں سے چلنے والے، رائے میں پختہ اور برائی سے روکنے والے تھے۔

وہ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے اور گھٹیا اخلاق سے بچتے تھے۔ وہ عیاروں، دھوکے بازوں، چاپلوسوں اور آوارہ لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہ مردِ مجاہد شہید ہوئے۔ جب انہیں موت آئی تو انہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے بوجھ سے ہلکا پھلکا اور آخرت کے اعمال کے زادِ راہ سے بھرا ہوا پایا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *