Banner

بیلچے سے قلم تک: ایک انقلابی روح کا سفر

Share

Share This Post

or copy the link

بیلچے سے قلم تک: ایک انقلابی روح کا سفر

منشاقاضی
حسبِ منشا

وہ مصرع جو دل کی بے قراری کو آئینہ دکھاتا ہے—
“یا ہم میں دلِ بے تاب نہاں یا آپ دلِ بے تاب ہیں ہم”—

کچھ ایسی ہی کیفیت مرحوم میر نور الدین شاہ اختر کی شخصیت میں رچی بسی تھی۔ وہ محض ایک فرد نہ تھے بلکہ ایک مسلسل تپش، ایک نہ ختم ہونے والی جستجو، اور ایک ایسا چراغ تھے جو زمانوں کی آندھیوں میں بھی بجھنے سے انکاری رہا۔

کشمیر کی خاموش وادیوں میں جنم لینے والا وہ بچہ دراصل ایک طوفان کی تمہید تھا۔ اس کے اندر جلنے والی آگ محض جذبات کی نہیں بلکہ شعور، بغاوت اور عمل کی آگ تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعلہ نہ مدھم ہوا، نہ منتشر، بلکہ اپنی شدت میں اضافہ کرتا چلا گیا۔ یہی آگ انہیں دلنہ کی حدود سے نکال کر لاہور کی ان گلیوں تک لے آئی جہاں آزادی کے خواب، بغاوت کے نعروں میں ڈھل رہے تھے۔

وہ دور برصغیر میں سیاسی و فکری کشمکش کا تھا۔ کئی تحریکیں تھیں—کچھ نرم، کچھ مدھم—مگر خاکسار تحریک ایک الگ ہی آہنگ رکھتی تھی۔ یہ صرف ایک تنظیم نہ تھی بلکہ ایک نظریہ، ایک بغاوت، ایک ایسا ولولہ جو ہر جبر کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ میر نور الدین اختر کا اس تحریک سے وابستہ ہونا دراصل ان کے اندر پوشیدہ انقلابی روح کا اظہار تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو حالات کے ساتھ بہہ جائیں؛ وہ تو خود دھارے کا رخ موڑنے والے تھے۔

ان کے خون میں بغاوت ایک وراثت تھی۔ ان کے جد امجد، قاضی القضاء میر موسیٰ بخاری، اصولوں پر ایسے ڈٹے کہ جان کی بازی لگا دی۔ اور جب ان کی لاش گھوڑے کی دم سے بندھی ہوئی گھر پہنچی تو ماں کے لبوں سے نکلا: “خدا کا شکر ہے میرے بیٹے نے شہادت قبول کی”—یہ الفاظ صرف صبر نہیں، ایک نظریے کی فتح تھے۔ یہی روایت، یہی استقامت میر نور الدین اختر کے وجود میں منتقل ہوئی۔

خاکسار تحریک کے مارچ، جیلوں کی سختیاں، اور سات سال کی قید—یہ سب ان کے لیئے آزمائش نہیں بلکہ تربیت تھی۔ مگر جب کشمیر کا خواب حقیقت سے دور ہونے لگا تو انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ پاکستان آ کر ان کی جدوجہد نے نیا رخ اختیار کیا۔ اب بیلچہ نہیں، قلم ان کا ہتھیار تھا۔ اب میدان جنگ نہیں، اخبار اور ریڈیو ان کے محاذ تھے۔

انہوں نے ہفت روزہ “انقلاب” اور “آغاز” جیسے اخبارات کے ذریعے فکری بیداری کی شمع روشن کی۔ ان کا قلم محض الفاظ کا مجموعہ نہ تھا بلکہ ایک للکار، ایک احتجاج، ایک درد کی ترجمانی تھا۔ ان کا مشہور کالم “اسے پڑھنا گناہ ہے، گناہ گار کے قلم سے” دراصل معاشرتی جبر کے خلاف ایک طنزیہ اعلانِ جنگ تھا۔ قاری اسے پڑھ کر محض مسکراتا نہیں تھا، بلکہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔

ریڈیو کی دنیا میں ان کی آواز ایک گونج تھی—کشمیر کی آزادی کی گونج۔ ان کے ڈرامے، خصوصاً “ٹیپو سلطان”، سامعین کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا کرتے تھے۔ وہ لفظوں کے معمار تھے، اور آواز کے ذریعے ایک پوری قوم کے احساسات کو شکل دیتے تھے۔

میر نور الدین اختر کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی وسعتِ قلبی تھی۔ ان کا گھر صرف ایک رہائش نہ تھا بلکہ علم و ادب کا مرکز تھا۔ وہاں محفلیں سجتی تھیں، خیالات کا تبادلہ ہوتا تھا، اور نئے لکھنے والوں کو حوصلہ ملتا تھا۔ وہ صرف خود نہیں جلے، بلکہ دوسروں کو بھی روشنی عطا کی۔

ان کی زندگی کا سب سے بڑا استعارہ شاید یہی ہے کہ انہوں نے اپنی وادی چھوڑ دی، مگر وادی کو اپنے دل میں بسا لیا۔ وقت، حالات، بڑھاپا—کوئی بھی چیز ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی۔ آخری سانس تک وہ کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم رہے۔

آج جب ہم ان کے لفظوں کو یاد کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک صحافی یا ادیب نہیں تھے، بلکہ ایک عہد، ایک تحریک، ایک فکر تھے۔ ان کے بارے میں یہ کہنا بجا ہوگا:

شعر میرے بھی ہیں پر درد لیکن حسرتؔ
میر کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں

میر نور الدین اختر کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انقلاب صرف ہتھیار سے نہیں، فکر سے بھی آتا ہے۔ اور جب فکر میں سچائی ہو، تو وہ صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔

خاکساروں سے خاکساری تھی

سر بُلندوں سے خاکسار نہ تھا

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی آدھی زندگی ریل میں آدھی جیل میں گزری اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہلکا سا اس قوم کے ساتھ شکوہ بھی کیا تھا کہ جیل خانہ میری بیوی کا حق مہر نہ تھا اور نہ ہی وہ عفیفہ ء خاتون اپنے ساتھ جہیز میں لائی تھی میر مرحوم نے جیل میں سات سال زندگی کے بسر کیئے تھے انہوں نے عمر نہیں گزاری تھی عمر تو سو کر گزر جاتی ہے ، زندگی جاگ کر بسر ہوتی ہے ۔

زندگی خواہ مختصر ہو جائے

مگر سلیقے سے بسر ہو جائے

میر مرحوم حریتِ فکرِ انسانی کے نقیب تھے ۔ مولائے کریم مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ اور ان کے بیٹے سید سجاد شاہ کو ان کا مشن جاری رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

آسماں اُن کی لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزہ ء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

بیلچے سے قلم تک: ایک انقلابی روح کا سفر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us