Banner

ایک ماں کا جرم یا معاشرے کی ناکامی؟

Share

Share This Post

or copy the link

ایک ماں کا جرم یا معاشرے کی ناکامی؟
تحریر: بنتِ حوا شاہین اختر حسین(فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ)

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی، وہ آئینہ ہوتی ہے۔ایک ایسا آئینہ جس میں ہم دوسروں کو نہیں، خود کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

حال ہی میں پیش آنے والا وہ دل دہلا دینے والا واقعہ، جہاں ایک ماں نے اپنے ہی تین بچوں کی جان لے لی، بھی ایسا ہی ایک آئینہ ہے۔ ایک ایسا سانحہ جسے ہم صرف ایک فرد کا جرم کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ صرف ایک ماں کا جرم ہے؟یا اس کے پیچھے ایک ایسا معاشرہ کھڑا ہے جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ ایسے سانحات کی بنیاد رکھ رہا ہے؟

جب ہم اس واقعے کو گہرائی سے دیکھتے ہیں، تو ایک تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایک ایسی شادی، جو مرضی کے بغیر ہوئی۔ ایک ایسا رشتہ، جس میں نہ دل شامل تھا، نہ ذہنی ہم آہنگی، اور نہ ہی ایک دوسرے کو قبول کرنے کی سچی خواہش۔

ایسے رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بلکہ انسان کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں۔عورت جیتی ہے، مگر جیسے جینے پر مجبور ہو۔ وہ ماں بنتی ہے، ذمہ داریاں نبھاتی ہے، مگر اس کے اندر ایک مسلسل گھٹن پلتی رہتی ہے۔

یہ گھٹن آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، اس کے فیصلوں اور اس کے جذبات کو متاثر کرتی ہے۔ اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ خود کو ایک بند راستے پر کھڑا پاتی ہے۔

اگر اس مرحلے پر اسے کہیں اور جذباتی سہارا مل جائے، تو وہ اسے نجات سمجھنے لگتی ہے۔ ایک نئی زندگی، ایک نئی شروعات۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی اتنی سادہ نہیں ہوتی۔

اس کے ساتھ اس کے بچے ہوتے ہیں، جو صرف ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی دنیا ہوتے ہیں۔ مگر شدید ذہنی دباؤ اور جذباتی انتشار انسان کو اس حد تک لے جا سکتا ہے جہاں وہ اپنی ہی دنیا کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایک لمحے کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے سب کچھ بدل دیتا ہے۔

یہ سانحہ ہمیں ایک سخت مگر ضروری سبق دیتا ہے۔ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے معاشرتی فیصلوں میں کہاں غلطی کر رہے ہیں۔

کیا ہم اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کی رضامندی کو واقعی اہمیت دیتے ہیں؟کیا ہم مطابقت کو سمجھتے ہیں، یا صرف رشتہ طے ہو جانے کو کامیابی مان لیتے ہیں؟کیا ہم ایک خوشحال زندگی چاہتے ہیں، یا صرف ایک مکمل نظر آنے والا معاشرہ؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک غلط شادی صرف ایک رشتہ نہیں بگاڑتی، بلکہ کئی زندگیاں متاثر کرتی ہے۔

زبردستی کے فیصلے، نامکمل جذبات اور عدم مطابقت مل کر ایسے سانحات کو جنم دیتے ہیں جن کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔شادی کو ایک رسم نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فیصلہ سمجھیں۔

مطابقت، رضامندی اور ذہنی سکون — یہی ایک مضبوط رشتے کی اصل بنیاد ہیں۔

اگر ہم نے آج بھی ان بنیادوں کو نظر انداز کیا، تو کل ایسے واقعات صرف خبریں نہیں رہیں گے بلکہ ہماری اجتماعی حقیقت بن جائیں گے۔

— بنتِ حوا شاہین اختر حسین

ایک ماں کا جرم یا معاشرے کی ناکامی؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us