Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیبی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقاتمفادات کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے کا دکھ۔۔!!بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہداء کے مزارات پر حاضریبدامنی کی بنیادی وجہ ہمارے وطن کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، نواب ایاز خان جوگیزئیپشتون قوم سیاسی، معاشی اور ثقافتی اختیارات سے محروم ہے، خوشحال خان کاکڑبلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل و بائیومیٹرک سروسز کا معاہدہدیوالی کا تہوار اندھیروں پر اجالے، نیکی کی بدی پر فتح اور امید کی علامت ہے، فیاض محمود شیخکیچ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، میر ظہور احمد بلیدی کی ہدایتانڈس ہائی وے پر ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، دو نوجوان جاں بحق، ایک زخمینئی صوبائی حکومت کے قیام کے بعد پشاور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئیبی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی سے نیشنل پارٹی کے وفد کی ملاقاتمفادات کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے کا دکھ۔۔!!بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہداء کے مزارات پر حاضریبدامنی کی بنیادی وجہ ہمارے وطن کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، نواب ایاز خان جوگیزئیپشتون قوم سیاسی، معاشی اور ثقافتی اختیارات سے محروم ہے، خوشحال خان کاکڑبلوچستان پولیس اور نادرا کے درمیان جدید ڈیجیٹل و بائیومیٹرک سروسز کا معاہدہدیوالی کا تہوار اندھیروں پر اجالے، نیکی کی بدی پر فتح اور امید کی علامت ہے، فیاض محمود شیخکیچ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، میر ظہور احمد بلیدی کی ہدایت

تاریخ کے مخفی مہرے ٹی ای لارنس، پیر کرم شاہ اور نیڈوز ہوٹل کے حقائق

احمدخان اچکزئی

تاریخ کے مخفی مہرے ٹی ای لارنس، پیر کرم شاہ اور نیڈوز ہوٹل کے حقائق

محترم قارئین ۔بیسویں صدی کے اوائل میں جب عالمی استعمار “دی گریٹ گیم” کے تحت وسطی ایشیاء اور برصغیر کی سرزمین پر اپنی برتری کے لیے مہرے سجا رہا تھا، تو برطانوی انٹیلی جنس نے ایک ایسا کردار نمایاں کیا جس نے تاریخ کے دھارے کو اپنی پراسرار سرگرمیوں سے متاثر کیا۔ یہ کردار تھامس ایڈورڈ لارنس تھا، جسے دنیا “لارنس آف عربیا” کے نام سے جانتی ہے۔ برطانیہ نے لارنس کو محض ایک فوجی آفیسر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ماہرِ لسانیات اور تزویراتی منصوبہ ساز کے طور پر تیار کیا تھا جسے عربی زبان اور مشرقِ وسطیٰ کے سماجی ڈھانچے کی گہری تربیت دی گئی تھی۔ عرب کے ریگزاروں میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کو منظم کرنے کے بعد، برطانوی انٹیلی جنس نے اس کا رُخ ہندوستان کی سرحدوں کی جانب موڑ دیا، جہاں شاہ امان اللہ خان غازی کی آزاد اور قوم پرست حکومت لندن کے لیے ایک تزویراتی چیلنج بن چکی تھی۔ شاہ امان اللہ خان کی سوویت یونین سے بڑھتی ہوئی قربت اور برطانوی اثر و رسوخ سے انکار نے انہیں سامراج کی آنکھوں میں کھٹکنے والا حریف بنا دیا تھا۔ افغانستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے برٹش انٹیلی جنس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک انتہائی منظم منصوبہ بندی کی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق لارنس مئی 1928 میں ہندوستان کے حساس سرحدی علاقے میرام شاہ (وزیرستان) میں برطانوی فضائیہ (RAF) کے ایک کلرک “ٹی ای شا” کے نام سے تعینات ہوا۔ اگرچہ سرکاری طور پر وہ ایک معمولی ملازم تھا، لیکن اس دور کے علاقائی تذکروں اور سوویت اخبارات کے دعووں کے مطابق، لارنس کی سرگرمیاں کابل اور اس کے گردونواح کے قبائلی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ عوامی روایت کے مطابق، لارنس نے یہاں “پیر کرم شاہ” کا روپ اختیار کیا اور افغان قبائل کے درمیان ایک صاحبِ کرامت شخصیت کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ اس نے اپنی لسانی مہارت اور مذہبی لبادے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سادہ لوح قبائلیوں میں یہ بیانیہ عام کیا کہ شاہ امان اللہ خان کی جدید اصلاحات، جیسے خواتین کی تعلیم اور سماجی تبدیلیاں، اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ پیر کرم شاہ کے اس پراسرار کردار نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے خانہ جنگی کی وہ آگ بھڑکائی جس نے افغانستان کے امن و امان کو خاکستر کر دیا۔ جب بین الاقوامی میڈیاء اور سوویت یونین نے میرام شاہ کی سرحد پر اس کی موجودگی کے ٹھوس ثبوت فراہم کیے تو برطانوی حکومت نے عالمی رسوائی سے بچنے کے لیے جنوری 1929 میں اسے فوری طور پر واپس برطانیہ بلا لیا، لیکن اس وقت تک شاہ امان اللہ خان کے خلاف بغاوت جڑ پکڑ چکی تھی اور انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ اس دور میں لارنس کا قیام لاہور میں بھی رہا، جہاں تاریخ کا ایک اور اہم باب “نیڈوز ہوٹل” سے جڑا ہوا ہے۔ لاہور کا یہ تاریخی ہوٹل اس وقت سیاسی جوڑ توڑ اور اہم ملاقاتوں کا مرکز تھا۔ اس ہوٹل کے مالک، مائیکل ایڈم نیڈو (Michael Adam Nedou)، جو کہ آسٹرو-ہنگرین نژاد تھے، کا قصہ بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے۔ مائیکل نیڈو نے اسلام قبول کر کے اپنا نام شیخ احمد حسین رکھا تھا، جن کی پوتی اکبر جہاں کی شادی بعد میں مشہور کشمیری رہنما شیخ عبداللہ سے ہوئی۔ 1928 میں جب ٹی ای لارنس لاہور کے نیڈوز ہوٹل میں مقیم تھا، تو اس کی وہاں موجودگی اور ہوٹل کے مالکان کے اثر و رسوخ کے درمیان ایک تزویراتی ربط نظر آتا ہے جو برطانوی انٹیلی جنس کی دور رس منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹی ای لارنس کی زندگی کے یہ گوشے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کثیر الجہتی جاسوس تھا جس نے ثقافت اور سماجی رشتوں کو سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ پیر کرم شاہ بن کر افغانستان میں مداخلت کے الزامات اور لاہور کے نیڈوز ہوٹل جیسے مقامات پر قیام، اس کی پیشہ ورانہ مہارت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حقائق اس تلخ سچائی کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ کس طرح تربیت یافتہ مہروں نے خطے کی تاریخ پر ایسے گہرے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج بھی “نیو گریٹ گیم” کی صورت میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *