Banner

اقتدار کی ہوس مفادات کی سیاست افغان جہادی قیادت کا تضاد

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

اقتدار کی ہوس مفادات کی سیاست افغان جہادی قیادت کا تضاد

محترم قارئین ۔ افغان تاریخ کے اوراق اس تلخ حقیقت سے بھرے پڑے ہیں کہ جہاں نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر بلند بانگ دعوے کیے گئے، وہیں اقتدار کی ہوس نے ان اصولوں کو پامال کرنے میں ذرا برابر بھی دیر نہ کی۔ ۷ ثور کو جب صبغت اللہ مجددی نے اپنی ۳۹ رکنی کابینہ کا اعلان کیا تو یہ قدم استاد سیاف اور استاد ربانی کی جانب سے نہ صرف غیر قانونی قرار دیا گیا بلکہ اسے اختیارات سے تجاوز بھی گردانا گیا۔ مجددی نے اس تنقید کے ردعمل میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے واضح کیا کہ چونکہ گلبدین حکمتیار نے شریعت کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے، اس لیے وہ صدارت کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ دوسری طرف حکمتیار کا موقف یہ تھا کہ ان کی دشمنی صرف کمیونسٹ رژیم کی باقیات اور ملیشیاؤں سے ہے، وہ ان قوتوں کو معاف تو کر سکتے ہیں لیکن اقتدار میں شریک نہیں کریں گے۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ اقتدار تک رسائی کی تڑپ نے حکمتیار کو اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ کے الٹ چلنے پر مجبور کر دیا۔ مسعود اور ربانی کی مخالفت میں وہ انھی کمیونسٹ باقیات اور ملیشیاؤں کے ساتھ اتحاد کرنے پر اتر آئے جنہیں وہ کل تک “کافر” اور اپنا جانی دشمن قرار دیتے تھے۔ اس تضاد کی سب سے بڑی مثال جنرل دوستم کے ساتھ ان کا اتحاد تھا۔ یہ وہی حکمتیار تھے جو عوام سے کہا کرتے تھے کہ اگر تمہارا لباس کسی کمیونسٹ سے مس ہو جائے تو وہ دھونے سے پاک نہیں ہوگا بلکہ اسے کاٹ کر پھینک دینا چاہیے، لیکن وقت بدلا تو مفادات کی خاطر انھی “ناپاک” عناصر کے ساتھ بغل گیر ہو گئے۔ ربانی کے خلاف جنگوں میں دوستم کے زخمی جنگجوؤں کا علاج خوست کے ہسپتالوں میں کرایا گیا اور لوگر میں دوستم کے طیاروں کے لیے نیا ہوائی اڈہ تک تعمیر کیا گیا۔ یہی نہیں، ۲۰۱۹ میں حکمتیار صدارتی انتخابات کے لیے اسی دوستم کے گھر پہنچ گئے تاکہ مل کر سیاسی ٹیم بنا سکیں۔ یہ دوہرا معیار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاست میں “خان” دوبارہ خان بن جاتے ہیں اور درمیان میں رامبیل چامبیل جیسے پھول محض عوام کو دکھانے کے لیے کچلے جاتے ہیں۔افغانستان کی اس خونریز خانہ جنگی میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جہاں جہادی کمانڈروں نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی اور مذہبی مفادات پر ترجیح دی۔ کابل کی گلیوں میں جب مجاہدین کے مختلف گروہ ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے، تو اس وقت اتحاد کے ٹوٹنے اور بننے کا معیار صرف “کرسی” تھی۔ حکمتیار کا جنرل دوستم اور حزب وحدت کے ساتھ مل کر “شورائے عالی ہم آہنگی” بنانا اس وقت کے تمام جہادی دعووں کی نفی تھی، کیونکہ دوستم کو پہلے “گلم جم” ملیشیا کا سربراہ کہہ کر مطعون کیا جاتا رہا تھا۔ اسی طرح جب طالبان کا ظہور ہوا تو ربانی اور مسعود جو کبھی حکمتیار کے جانی دشمن تھے، کابل بچانے کے لیے انھی کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوئے۔ یہ وہ تضادات ہیں جنہوں نے افغان عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نظریات کی جگہ مصلحتیں لے لیتی ہیں تو پھر دشمن اور دوست کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور صرف اقتدار کی بقاء ہی واحد مقصد رہ جاتا ہے حکمتیار کی سیاست اس تضاد کا ایک مکمل باب ہے جہاں نعرے اسلام کے تھے مگر عمل سیاسی بقاء کا تھا۔ لوگر کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے طیارے اور خوست کے ہسپتالوں میں ہونے والا علاج دراصل ان ہزاروں افغانوں کے خون سے غداری تھی جو کمیونزم کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ آخر میں وہی ہوا کہ اقتدار کی اس دوڑ میں اصولوں کی قربانی دی گئی اور وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے، اقتدار کی میز پر ایک دوسرے کے دست و بازو بن گئے۔ یہ حقیقت افغان تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس نے مستقبل کی نسلوں کے لیے عبرت کے نشان چھوڑے ہیں کہ کس طرح مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور بوقت ضرورت اسے پس پشت ڈال دیا گیا۔

اقتدار کی ہوس مفادات کی سیاست افغان جہادی قیادت کا تضاد

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us