Banner

تاریخ ۔ سرمایہ دارانہ جنون اور معیشت

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

تاریخ ۔ سرمایہ دارانہ جنون اور معیشت

قارئین کرام ۔سرمایہ دارانہ نظام دورِ حاضر کا وہ معاشی ڈھانچہ ہے جس نے مادی ترقی کے انبار تو لگا دیے مگر انسانیت کو اخلاقی اور سماجی طور پر شدید بحرانوں سے دوچار کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا 2000 ارب ڈالر اسلحے پر پھونک دیتی ہے جبکہ بھوک مٹانے کے لیے اس کا محض ایک چھوٹا حصہ درکار ہے، اس نظام کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔ سرمایہ داری کا بنیادی فلسفہ زیادہ سے زیادہ منافع ہے، جہاں انسان ایک مقصد نہیں بلکہ محض ایک منڈی یا پیداواری آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس نظام میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہونا اس کی جبلت میں شامل ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر طبقاتی تقسیم اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک طرف فضول خرچی کی انتہاء ہے اور دوسری طرف کروڑوں انسان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تاریخی حقائق گواہ ہیں کہ سرمایہ داری نے ہمیشہ اپنے بقاء کے لیے منڈیوں کی تلاش کی ہے، اور جب یہ منڈیاں پرامن طریقے سے دستیاب نہ ہوں تو جنگ و جدل کا سہارا لینا اس کی مجبوری بن جاتا ہے۔
جنگیں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے محض تباہی نہیں بلکہ منافع بخش کاروبار ہیں۔ دفاعی صنعت دنیا کے بڑے سرمایہ داروں کے لیے سونے کی چڑیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی امن کی باتیں صرف سفارتی میزوں تک محدود رہتی ہیں جبکہ عملی طور پر جنگی جنون کو ہوا دی جاتی ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے دنیا بھر میں تنازعات کو جنم دیتی ہیں اور انہیں برقرار رکھتی ہیں۔ اس نظام میں “امن” محض دو جنگوں کے درمیان کی وہ خاموشی ہے جس میں اگلی جنگ کی تیاری اور اسلحے کے نئے ڈیزائن تیار کیے جاتے ہیں۔ اگر دنیا سے جنگیں ختم ہو جائیں تو سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک بڑا ستون گر جائے گا، اسی لیے امن اس نظام کا سب سے بڑا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے معاشی محرکات پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہ محض نظریاتی جنگیں نہیں تھیں بلکہ معاشی تسلط اور وسائل پر قبضے کی کشمکش تھی۔اس نظام کا ایک ہولناک پہلو “استحصال” ہے، جہاں غریب ممالک کے قدرتی وسائل کو کوڑیوں کے دام سمیٹ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں ہی مہنگے داموں تیار شدہ مال بیچا جاتا ہے۔ اسے جدید استعمار کہا جاتا ہے، جس میں براہِ راست قبضے کی بجائے معاشی زنجیروں، جیسے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے۔ اس عمل میں انسانی جان کی قیمت مال و دولت کے مقابلے میں ہیچ ہو جاتی ہے۔ جب 267 ارب ڈالر سے دنیا کی بھوک ختم کی جا سکتی ہو اور پھر بھی ایسا نہ کیا جائے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ داری میں ہمدردی اور انسانیت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں خوراک اس لیے ضائع کر دی جاتی ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم نہ ہوں، جبکہ افریقہ اور ایشیاء کے بچے خوراک کی کمی سے دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ تضاد اس نظام کی روح میں بسا ہوا ہے جو صرف طاقتور کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام نے ماحولیات کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بے ہنگم صنعتی ترقی اور کھپت کے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے انسانی بقاء کو خطرہ لاحق ہے۔ منافع کی ہوس میں جنگلات کا کٹاؤ اور زہریلے فضلے کا اخراج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ دار کو آنے والی نسلوں کی زندگی سے زیادہ آج کے ڈالر میں دلچسپی ہے۔ یہ نظام خود غرضی کو فروغ دیتا ہے، جہاں رشتہ داری، محبت اور ایثار جیسے جذبات کو “افادیت” کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض، تنہائی اور جرائم دراصل اسی مادیت پرستی کا نتیجہ ہیں جو سرمایہ داری نے رگ و پپے میں اتار دی ہے۔تاریخی طور پر سرمایہ داری نے جاگیرداری کو تو ختم کیا مگر خود ایک ایسی “کارپوریٹ جاگیرداری” کی شکل اختیار کر لی جہاں بڑی کمپنیاں ریاستوں سے زیادہ طاقتور ہو گئیں۔ آج دنیا کے چند سو افراد کے پاس اتنی دولت ہے جو آدھی دنیا کی مجموعی آبادی کے پاس نہیں۔ یہ غیر مساوی تقسیم ایک ایسے عالمی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے جو اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ سرمایہ داری کا یہ سفر انسانیت کو ایک ایسے بند گلی میں لے آیا ہے جہاں ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں کے ڈھیر ہیں اور دوسری طرف بھوک سے بلکتے انسان۔جب تک نظام کی بنیاد “انسان” کی بجائے “منافع” پر رہے گی، دنیا میں حقیقی امن اور خوشحالی ایک خواب ہی رہے گی، اور انسانیت اسی طرح جنگوں اور غربت کی بھٹی میں جلتی رہے گی۔

تاریخ ۔ سرمایہ دارانہ جنون اور معیشت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us