Banner

کاکا شہید فاؤنڈیشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر و رپورٹ ۔ اے کے میڈیا ٹیم پاکستان

کاکا شہید فاؤنڈیشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

انسانی ہمدردی اور سماجی ترقی کی ایک روشن مثال

احمدخان ایجوکیشنل سسٹم کا تعلیمی اقدامات و خدمات۔

قارئین کرام! انسانیت کی خدمت اور معاشرتی فلاح و بہبود کسی بھی زندہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور پسماندہ علاقوں میں امید کی ایک شمع “کاکا شہید فاؤنڈیشن” کی صورت اور احمد خان اچکزئی کی زیر نگرانی میں روشن ہے، جس نے تعلیمی انقلاب اور سماجی خدمت کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس فاؤنڈیشن نے محض دعوؤں کے بجائے عملی میدان میں 25 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے ایسے منصوبے مکمل کیے ہیں جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی معیار کے مطابق انسانی ہمدردی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں فاؤنڈیشن کی سالانہ کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیم، صحت اور سماجی امداد کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کاکا شہید فاؤنڈیشن کے تحت 25 کروڑ کی لاگت سے تعمیر شدہ عمارات اور ترقی کے اقدامات کا پہلا اور سب سے اہم ستون “تعلیمی نیٹ ورک” ہے۔ احمد خان ایجوکیشنل سسٹم کے تحت احمد خان پبلک کالج کی مکمل تعمیر ایک ایسا سنگ میل ہے جو علاقے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے جدید مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اسی تسلسل میں احمد خان پبلک گرلز ہائی اسکول کی تعمیر اور احمد خان پبلک بوائز ہائی اسکول میں جاری تعمیراتی کام اس عزم کا اظہار ہے کہ نسلِ نو کی آبیاری کے لیے انفراسٹرکچر کی کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔ فاؤنڈیشن کا وژن صرف عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ایک علم دوست معاشرہ بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احمد خان پبلک لائبریری کی تمام مراعات کے ساتھ مکمل تعمیر اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق احمد خان پبلک ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں طلبہ کو عالمی سطح کے ڈیجیٹل مواد تک مفت رسائی حاصل ہے۔ تعلیم کو عام کرنے کے لیے مالی رکاوٹوں کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ احمد خان ایجوکیشنل سسٹم کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں احمد خان پبلک گرلز پرائمری سکول، گرلز مڈل سکول، گرلز ہائی اسکول، بوائز پرائمری سکول، بوائز مڈل سکول، بوائز ہائی سکول اور احمد خان پبلک کالج کے تمام تعلیمی اخراجات کاکا شہید فاؤنڈیشن خود برداشت کرتی ہے۔ اس نظام میں تمام تر تعلیمی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں، جن میں سکول سے لیکر کالج لیول تک مفت کتابیں، مفت یونیفارم، مفت سٹیشنری اور کسی بھی قسم کی فیس کا نہ ہونا شامل ہے۔ مزید، دور دراز علاقوں سے آنے والے بچوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سسٹم ایک ایسا انقلابی قدم ہے جس نے غریب گھرانوں کے بچوں کے لیے علم کے حصول کو آسان بنا دیا ہے۔ اس تعلیمی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے احمد خان ایجوکیشنل سسٹم کے پرائمری لیول سے لیکر کالج لیول تک تمام اساتذہ کے مراعات کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ نسلِ نو کی تربیت کر سکیں۔ کاکا شہید فاؤنڈیشن کا دائرہ کار صرف اپنے تعلیمی اداروں تک محدود نہیں بلکہ “احمد خان سکالرشپ پروگرام” کے تحت 200 سے زائد سٹوڈنٹس پاکستان کے مختلف نامور اداروں میں میٹرک سے لیکر ایم فل لیول تک مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان تمام طلبہ کے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری فاؤنڈیشن نے اپنے سر لی ہے، جو کہ انسانی سرمایہ کاری کی بہترین مثال ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت اور سماجی بہبود کے میدان میں بھی فاؤنڈیشن کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ “کاکا شہید فاؤنڈیشن صحت پروگرام” کے تحت علاقے میں پے در پے فری میڈیکل کیمپ منعقد کئے گئے، جہاں مستحق لوگوں کو مفت علاج کے ساتھ مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ ہنگامی حالات کے لیے “کاکا شہید فاؤنڈیشن فری ایمبولینس سروس” چوبیس گھنٹے دستیاب ہے، جس کے ذریعے شدید متاثرہ مریضوں کو بروقت ہسپتالوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ “کاکا شہید فاؤنڈیشن مدد پروگرام” کے تحت ضرورت مند افراد کی مالی معاونت کا ایک شفاف نظام رائج ہے جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تنہاء نہیں چھوڑتا۔ یہ تمام اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ کاکا شہید فاؤنڈیشن انسانی ہمدردی کے عالمی معیارات پر پورا اترتے ہوئے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ چکی ہے۔ کاکا شہید فاؤنڈیشن کے بانی اور احمدخان ایجوکیشنل سسٹم کے چئیرمین احمد خان اچکزئی محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ یہ پشتون بیلٹ کے اس لا مثال اور بے باک رہنماء کا نام ہے جس نے اپنی زندگی کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ ایک بلند پایہ مفکر، مدبر اور بہترین سوچ کے مالک انسان ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادے بلند ہوں تو وسائل کی کمی کبھی مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ احمد خان اچکزئی بلوچستان کی مٹی کے وہ فرزند ہیں جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفادات کے بجائے قومی بقاء اور سماجی بہبود کا ذریعہ بنایا۔ ان کی شخصیت میں موجود مصلحت، دور اندیشی اور ہمدردی انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتی ہے۔ وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کر رہے ہیں بلکہ پشتون قوم کے حقوق کی ترجمانی میں بھی صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی قیادت میں احمد خان ایجوکیشنل سسٹم نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ تعلیم صرف امیروں کا حق نہیں بلکہ یہ ہر اس بچے کا بنیادی حق ہے جس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب بستے ہیں۔ احمد خان اچکزئی نے جس بے غرضی سے 25 کروڑ کے منصوبے اپنی قوم کے قدموں میں نچھاور کیے ہیں، اس کی مثال پورے خطے میں نہیں ملتی۔ وہ ایک ایسے سماجی مصلح ہیں جو جانتے ہیں کہ کسی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے نکالنے کا واحد راستہ قلم اور کتاب ہے۔ ان کی فکر کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ڈیجیٹل لائبریریز کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو براہ راست لندن اور نیویارک کے تعلیمی ڈیٹا بیس سے جوڑ دیا ہے۔ احمد خان اچکزئی کی سیاسی اور سماجی بصیرت صرف مقامی معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ عالمی سیاست، بدلتے ہوئے حالات اور جغرافیائی واقعات پر انتہائی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیاء کے اس دور میں وہ ایک بیدار مغز رہنماء کے طور پر ابھرے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی پشتون قوم کو عالمی منظر نامے سے ہمہ وقت باخبر رکھتے ہیں۔ ان کے تجزیے اور ان کی رہنمائی پشتون نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو انہیں دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتی ہے۔ وہ سوشل میڈیاء کے ذریعے نہ صرف سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں بلکہ قوم کو اتحاد، یکجہتی اور جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے شب و روز کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا یہ مشن ایک ایسا پیغام ہے کہ پشتون قوم اب کسی کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ احمد خان اچکزئی نے مصلحت پسندی اور تدبر کے ذریعے قبائلی تنازعات کے حل اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں پشتون بیلٹ کا ایک غیر متنازعہ اور معتبر رہنماء تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی ہر تقریر اور ہر تحریر میں اپنی قوم کے لیے درد اور تڑپ صاف جھلکتی ہے۔ وہ ایک ایسے رہنماء ہیں جو خواب نہیں دکھاتے بلکہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے خود کو وقف کر دیتے ہیں۔ کاکا شہید فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے تمام فلاحی منصوبے دراصل احمد خان اچکزئی کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جہاں کوئی بچہ فیس کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے اور کوئی مریض علاج کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان نہ ہارے۔ ان کا یہ عزم کہ پشتون بیلٹ کا ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر اور سکالر بنے، اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انسانی ہمدردی کے جذبوں سے سرشار احمد خان اچکزئی نے ثابت کر دیا ہے کہ قیادت عہدے کا نام نہیں بلکہ کردار کا نام ہے۔ انہوں نے جس طرح مفت ایمبولینس سروس، فری میڈیکل کیمپس اور بیواؤں و یتیموں کی کفالت کا نظام وضع کیا ہے، وہ ریاست کے لیے بھی ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی خدمات کا دائرہ سرحدوں سے ماورا ہے کیونکہ وہ انسانیت کی خدمت کو ہی سب سے بڑا مذہب اور سب سے بڑی سیاست سمجھتے ہیں۔ پشتون قوم کے اس لا مثال رہنماء نے اپنی جدوجہد سے یہ واضح کر دیا ہے کہ اندھیروں کا مقابلہ کرنے کے لیے گلے شکوے کرنے کے بجائے خود چراغ بن کر جلنا پڑتا ہے۔ احمد خان اچکزئی کی سوچ کی بلندی اور ان کے عملی اقدامات نے انہیں تاریخ کے سنہری حروف میں جگہ دے دی ہے۔ وہ آج کے دور کے وہ مردِ مجاہد ہیں جو قلم اور علم کے ہتھیار سے اپنی قوم کی تقدیر بدلنے نکلے ہیں۔ سوشل میڈیاء پر ان کی موجودگی محض تشہیر کے لیے نہیں بلکہ ایک تعلیمی اور سیاسی درسگاہ کی مانند ہے جہاں سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں۔ ان کی یہ بے لوث خدمات، ان کا عالمی سیاست پر ادراک اور ان کی سماجی مصلحت انہیں ایک ایسا لیڈر بناتی ہے جس کی ضرورت اس خطے کو برسوں سے تھی۔ احمد خان اچکزئی کی سرپرستی میں کاکا شہید فاؤنڈیشن کا سفر جاری ہے اور یہ سفر ان شاء اللہ ایک ایسے روشن مستقبل پر منتج ہوگا جہاں جہالت، غربت اور بیماری کا خاتمہ ہوگا اور پشتون قوم دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں سر اٹھا کر کھڑی ہوگی۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ خدمتِ خلق ہی اصل کامیابی ہے اور وہ اس کامیابی کی معراج پر فائز ہو کر اپنی قوم کے لیے فخر کا باعث بن چکے ہیں۔

کاکا شہید فاؤنڈیشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us