Banner

سرحدوں کی آگ اور معیشت کا قتل۔کیوں؟

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

سرحدوں کی آگ اور معیشت کا قتل۔کیوں؟

قارئین کرام ۔پاکستان کی مغربی سرحدیں محض لکیریں نہیں بلکہ صدیوں پرانی تاریخ، قبائلی روایات اور ابھرتے ہوئے جیو پولیٹیکل مفادات کا سنگم ہیں جہاں ڈیورنڈ لائن سے لے کر تفتان تک کے علاقے آج کل ایک ایسے معاشی اور انسانی بحران کی زد میں ہیں جسے “خاموش معاشی قتل عام” کہنا مبالغہ نہ ہوگا۔ برطانوی راج نے جب ۱۸۹۳ میں ڈیورنڈ لائن کھینچی تو اس نے صرف زمین تقسیم نہیں کی بلکہ ایک ہی نسل، زبان اور ثقافت کے حامل قبائل کو دو حصوں میں بانٹ دیا جن کے لیے یہ سرحد ہمیشہ سے ایک کاغذی لکیر رہی ہے کیونکہ ان کی شادیاں، غمی، خوشی اور کاروبار سرحد کے دونوں پار جڑے ہوئے ہیں اور جب ریاستیں ان سرحدوں کو ہارڈ بارڈر میں تبدیل کرتی ہیں تو اس کا سب سے پہلا وار ان لاکھوں لوگوں کے معاش پر پڑتا ہے جن کا رزق اس آمد و رفت سے وابستہ ہے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کی بدترین مہنگائی سے گزر رہا ہے اور جب چمن، طورخم یا تفتان جیسی سرحدی گزرگاہیں بند ہوتی ہیں تو مقامی معیشت کا پہیہ جام ہو جاتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں کارخانے نہیں ہیں اور وہاں کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش سرحدی تجارت ہے جسے عرف عام میں اسمگلنگ کہا جاتا ہے لیکن مقامی سطح پر یہ رزقِ حلال کی جدوجہد ہے اور بارڈر کی بندش سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، کلیئرنس ایجنٹس اور ٹرانسپورٹرز فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے مایوسی جنم لیتی ہے۔ غربت اور بے روزگاری جب انسان کا گلا گھونٹتی ہیں تو وہ موت کے راستوں کا انتخاب کرتا ہے اور انسانی اسمگلنگ اس معاشی قتل عام کا منطقی نتیجہ بن کر سامنے آتی ہے جہاں لوگ بہتر مستقبل کے لیے ایران کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی جمع پونجی لٹاتے ہیں کیونکہ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کے علاقے میں نہ تعلیم ہے، نہ روزگار اور نہ ہی ریاست کی توجہ، تو وہ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اکثر بااثر حلقوں کی پشت پناہی سے کام کرتے ہیں اور ثبوت ہونے کے باوجود قانون کی گرفت سے دور رہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان یا ایران کے درمیان تعلقات میں عدم اعتماد کی ایک لمبی تاریخ ہے جہاں ریاست کا موقف ہوتا ہے کہ سرحد پر باڑ دہشت گردی روکنے کے لیے ضروری ہے جبکہ عوام کا موقف ہے کہ پیٹ کی آگ دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے اور دونوں طرف کی حکومتیں اکثر سرحدی تنازعات کو اپنی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں جس میں قومی سلامتی کے نام پر غریب کا معاشی تحفظ قربان کر دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک ریاست سرحد کو صرف فوجی محاذ کے بجائے معاشی گزرگاہ کے طور پر نہیں دیکھے گی کیونکہ مسئلے کی اصل جڑ سرحدوں پر جدید تجارتی مراکز کا نہ ہونا اور مقامی لوگوں کو متبادل روزگار نہ دینا ہے جبکہ عجیب سچ یہ ہے کہ اس افراتفری میں دونوں طرف کی کرپٹ اشرافیہ اور کالی بھیڑیں فائدہ اٹھاتی ہیں اور اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کبھی نہیں پکڑے جاتے صرف ریڑھی بان اور چھوٹے دکاندار پس کر رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عجیب و غریب سچ ہے جہاں ریاست کی بقاء کی جنگ غریب کے لقمے سے شروع ہوتی ہے اور جب تک سرحدی پالیسیاں قبائلی روایات اور انسانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائی جائیں گی انسانی اسمگلنگ کی منڈیاں آباد رہیں گی اور مہنگائی کا جن عوام کو نگلتا رہے گا کیونکہ معاشی قتل عام کا یہ سلسلہ روکنے کے لیے بندوق سے زیادہ انصاف کی ترازو اور روزگار کی فراہمی کی ضرورت ہے اور حقیقت یہی ہے کہ بھوکا پیٹ سرحدوں کے تقدس کو نہیں پہچانتا وہ صرف روٹی کا راستہ ڈھونڈتا ہے چاہے وہ راستہ موت کی وادی سے ہی کیوں نہ گزرتا ہو۔

سرحدوں کی آگ اور معیشت کا قتل۔کیوں؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us