Banner

معاشرتی توازن کا فقدان اختیارات اور وسائل کے تصادم

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

معاشرتی توازن کا فقدان اختیارات اور وسائل کے تصادم

محترم قارئین ۔ کسی بھی معاشرے کی بقاء اور اس کے استحکام کا دارومدار عدلِ اجتماعی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر ہوتا ہے، لیکن جب معاشرتی ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ وہاں مادی وسائل اور قانونی یا مذہبی اختیارات کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا ہو جائے، تو وہ معاشرہ خود بخود اخلاقی اور انتظامی انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں طاقت کا جو عدم توازن نظر آتا ہے، اس نے معاشرے کو ایک ایسے آتش فشاں پر لا کھڑا کیا ہے جہاں محرومی اور بے پناہ اختیار ایک ہی جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ جب ہم اپنے انتظامی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو پٹواری کا کردار ایک ایسی مثال بن کر ابھرتا ہے جو نظام کی خرابی کو واضح کرتا ہے۔ ایک پٹواری کی سرکاری تنخواہ اس کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ناکافی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے کی زمینوں کے فیصلے ہوتے ہیں اور کروڑوں کے مالکانہ حقوق تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تضاد کہ جہاں پیٹ بھرنے کے لیے جائز وسائل میسر نہ ہوں مگر دوسروں کی تقدیر بدلنے کا اختیار ہاتھ میں ہو، بدعنوانی کو ایک مجبوری اور پھر ایک آرٹ بنا دیتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کرپشن کا معاملہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کا المیہ ہے جو ذمہ داری تو پہاڑ جیسی دیتا ہے مگر سہولیات تنکے کے برابر بھی فراہم نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں سماجی انصاف کا تصور ہی مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔یہی صورتحال ہمارے مذہبی طبقے اور دیہی معاشرے کے مرکز یعنی “ملا” کے ساتھ درپیش ہے۔ دیہاتوں میں ایک امام مسجد یا مذہبی پیشوا، جو لوگوں کی روحانی اور سماجی زندگی کے بڑے فیصلوں کا مرکز ہوتا ہے، اس کی مالی حیثیت اس قدر کمزور رکھی گئی ہے کہ وہ نان شبینہ کا محتاج نظر آتا ہے۔ دس ہزار روپے کی قلیل تنخواہ پانے والا شخص جب یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس معاشرے کے کسی بھی فرد کو دین سے خارج کرنے، فتوے جاری کرنے اور مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کا لامحدود اختیار ہے، تو وہ اختیار اس کی معاشی محرومی کا انتقام بن جاتا ہے۔ جب معاشرے کا سب سے زیادہ بااختیار طبقہ معاشی طور پر سب سے زیادہ کمزور ہو، تو وہ “میکاوولی” جیسے شاطر کھلاڑیوں کے لیے تر نوالہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ شاطر قوتیں ان مفلوک الحال مگر بااختیار افراد کو اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات کی ڈھلکی پر نچاتی ہیں اور ان کے ذریعے اربوں کا کاروبار کرتی ہیں۔ معصوم اور سادہ لوح علماء، جو علمی گہرائی کے باوجود معاشی جبر کا شکار ہوتے ہیں، نادانستہ طور پر ان بڑے کھلاڑیوں کے مہرے بن جاتے ہیں جو مذہب کو ایک گورکھ دھندے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس عدم توازن نے ایک ایسا معاشرتی بگاڑ پیدا کر دیا ہے جہاں غریب کا اختیار امیر کی تجوری بھرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔اس سنگین مسئلے کا حل صرف تنخواہوں میں اضافے میں نہیں، بلکہ پورے سماجی معاہدے کی نئے سرے سے تشکیل میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک اختیارات کو جوابدہی اور وسائل کو ضرورت کے مطابق ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا، تب تک معاشرے میں استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کسی شاطر میکاوولی کے ہتھے نہ چڑھے، تو ہمیں اپنے فکری اور انتظامی ستونوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ معاشی بدحالی جب بے لگام طاقت سے ملتی ہے تو وہ معاشرے میں انتشار، انتہا پسندی اور بدعنوانی کا ایسا زہر گھولتی ہے جس کا علاج پھر نسلوں تک ممکن نہیں رہتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی معاشرتی ترجیحات کو بدلیں اور اس تضاد کو ختم کریں جو ایک طرف اختیار کی بلندی دکھاتا ہے اور دوسری طرف محرومی کی پستی۔ حقیقی تبدیلی تبھی ممکن ہے جب معاشرے کا ہر بااختیار فرد معاشی طور پر اتنا مستحکم ہو کہ اسے اپنی بقاء کے لیے کسی کے ایجنڈے کا آلہ کار نہ بننا پڑے۔ یہ ایک عالمی سطح کا چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف ٹھوس اصلاحات، شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے تاکہ عدل کا بول بالا ہو اور استحصال کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکیں۔

معاشرتی توازن کا فقدان اختیارات اور وسائل کے تصادم

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us