Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

ارتھ آور پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں روشنیاں بند

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیغام کے ساتھ ارتھ آور منایا گیا، جس میں شہریوں اور اداروں نے بھرپور شرکت کی۔

ملک بھر میں رات 8:30 سے 9:30 بجے تک غیر ضروری روشنیاں بند رکھی گئیں، جبکہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں اہم سرکاری و نجی عمارات کی لائٹس بھی بجھا دی گئیں۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، ایوان صدر اور وزیراعظم آفس سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی روشنیاں بند رہیں، جبکہ لاہور میں واپڈا ہاؤس اور پنجاب اسمبلی، اور کراچی میں موہاٹا پیلس پر بھی علامتی طور پر لائٹس بند کی گئیں۔

ملتان سمیت دیگر شہروں میں بھی مختلف اداروں نے اس مہم میں حصہ لیا۔ لاہور میں جاری پی ایس ایل میچ کے دوران قذافی اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس چند منٹ کے لیے بند کر کے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔

ارتھ آور کا آغاز 2007 میں ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر (WWF) نے کیا تھا اور آج یہ مہم 190 سے زائد ممالک میں منائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات نہایت اہم ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *