Banner
Daily Sahafat Quetta
September 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نوابزادہ میر جمال رئیسانی کی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملوں کی شدید مذمتکوئٹہ جاتے ہوئے کراچی کی فٹبال ٹیم مبینہ طور پر لٹ گئیگھروں میں گیس اب صرف مخصوص اوقات میں ملے گی، نئی پابندی شروعبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن: 96 گھنٹوں میں 71 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاکبجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تکنوابزادہ میر جمال رئیسانی کی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملوں کی شدید مذمتکوئٹہ جاتے ہوئے کراچی کی فٹبال ٹیم مبینہ طور پر لٹ گئیگھروں میں گیس اب صرف مخصوص اوقات میں ملے گی، نئی پابندی شروعبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن: 96 گھنٹوں میں 71 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاکبجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تک

گریٹ گیم کی منصوبہ اور نیم پاگل نسل کا المیہ

محمد نسیم رنزوریار

گریٹ گیم کی منصوبہ اور نیم پاگل نسل کا المیہ

قارئین کرام! سماجی اور سیاسی تقسیم کے اس پرآشوب دور میں اگر ہم 1985 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، جسے شاید کچھ لوگ قومی عذاب قرار دیں، کا بغور مطالعہ کریں تو ایک ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو انفارمیشن وار فیئر کے ملبے تلے دبی ہوئی ہے اور اس کی فکری کجی کا عالم یہ ہے کہ یہ ضیاء الحق اور صدام حسین جیسے جارحانہ شخصیتوں کو مجاہدِ اسلام تسلیم کرتی ہے، حالانکہ عالمی سیاست کے گریٹ گیم میں یہ محض پیادے تھے۔ ضیاء الحق مغرب کے لیے سوویت یونین کے خلاف ایک فرنٹ لائن ہتھیار تھے جنہوں نے خطے میں شدت پسندی کی وہ فصل بوئی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، جبکہ صدام حسین اس منصوبے کی وہ سب سے بڑی عبرت بنے جو پہلے ایران کے خلاف مغرب کے چہیتے رہے اور پھر ضرورت ختم ہوتے ہی عالمی دہشت گرد قرار دے کر عبرت کا نشان بنا دیے گئے۔ اسی طرح جنرل حمید گل، جنہیں یہ نسل جیمز بانڈ سمجھتی ہے، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محض اسٹریٹجسٹ آف جہاد تھے جن کی افغان جنگ میں خدمات تو تسلیم شدہ تھیں مگر وہ بدلتی ہوئی عالمی لہر کو سمجھنے میں ناکام رہے اور ملک کو سفارتی تنہائی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ پرویز مشرف جیسے غاصب کو ہیرو ماننے والی یہ نسل اس حقیقت سے چشم پوشی کرتی ہے کہ انہوں نے اپنی بقاء کی خاطر ملک کو دوسروں کی جنگ میں جھونکا اور آئین شکنی کی ایسی بنیاد رکھی جس نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔
قارئین! اس نسل کے فکری تضاد کا عروج تب نظر آتا ہے جب یہ آصف زرداری کو سینماء کا ٹکٹ بلیکیا اور نواز شریف کو محض ایک مستری کا بیٹا کہہ کر تضحیک کرتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں انہیں اسٹیٹس کو وہ نمائندے سمجھتی ہیں جو عالمی مارکیٹ اور لبرل معیشت کے ذریعے نظام کو چلانے کا فن جانتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ نسل عمران خان کو بھٹو اور قائد اعظم سے بڑا لیڈر مانتی ہے، حالانکہ عالمی تناظر میں وہ ٹرمپ اور مودی کی طرح گلوبل پاپولزم کی ایک لہر ہیں جنہوں نے ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر ایک جذباتی بیانیہ تو تخلیق کیا مگر عملی طور پر عالمی گریٹ گیم کی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خود ہی جھوٹ تخلیق کرتا ہے اور پھر اس پر یقینِ کامل کر لیتا ہے، ان کے نزدیک خان سسٹم کا ابو ہے جو جیل میں بیٹھ کر عالمی بساط الٹ رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نسل ایک ایسی خیالی ریاست کی تلاش میں بھٹک رہی ہے جہاں انہیں ہر وہ شخص مسیحاء نظر آتا ہے جو تلخ زمینی حقائق کو جھٹلانے کا ہنر جانتا ہو۔ یہ دراصل اس اطلاعاتی جنگ کا نتیجہ ہے جہاں سچ سے زیادہ بیانیے اہم ہو چکے ہیں اور دماغ چھٹانک بھر ہونے کے باوجود یہ خود کو کل کائنات کا باشعور ترین طبقہ گردانتے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *