Banner

کاسہ گدائی کے پیچھے چھپے خونی ہاتھ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

کاسہ گدائی کے پیچھے چھپے خونی ہاتھ

احمدخان اچکزئی

محترم قارئین! پاکستان میں گداگری کے منظم نیٹ ورکس کے متعلق کچھ حقائق پیش ہیں۔
پاکستان میں گداگری اب محض انفرادی ضرورت یا غربت کا شاخسانہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر ارب روپے کی بلیک اکانومی بن چکی ہے جس کی جڑیں منظم جرائم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں پیوست ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ آبادی میں سے 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی صورت میں گداگری سے وابستہ ہیں، جو کہ کل آبادی کا ایک ہولناک تناسب ہے۔ تاریخی طور پر برصغیر میں خیرات اور صدقہ کا تصور مذہبی عقیدت سے جڑا رہا ہے، لیکن اسی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجرمانہ گروہوں نے اسے ایک باقاعدہ صنعت کی شکل دے دی ہے۔ گداگری کے اس گھناؤنے کاروبار میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے میٹروپولیٹن شہر حب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کراچی میں ایک بھکاری کی اوسط یومیہ آمدنی 2,000 روپے، لاہور میں 1,400 روپے اور اسلام آباد میں 950 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ قومی سطح پر یہ اوسط 850 روپے بنتی ہے۔ یہ رقوم براہ راست بھکاریوں کی جیب میں نہیں جاتیں بلکہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعے گینگ لارڈز تک پہنچتی ہیں۔اس نیٹ ورک کی سب سے ہولناک تصویر وہ انسان دشمنی ہے جس کا نشانہ معصوم بچے اور معذور افراد بنتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انکشافات بتاتے ہیں کہ بڑے شہروں کے ٹریفک سگنلز اور گلیوں کو باقاعدہ جغرافیائی بنیادوں پر نیلام یا تقسیم کیا جاتا ہے۔ گینگ مافیاء اغوا شدہ بچوں کو پیشہ ورانہ گداگری کے لیے استعمال کرنے سے قبل ان پر ایسے مظالم ڈھاتے ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھے۔ ان بچوں کے اعضاء جان بوجھ کر توڑ دیے جاتے ہیں یا کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ عوامی ہمدردی کو زیادہ سے زیادہ سمیٹا جا سکے۔ ان مظلوموں کو صبح سویرے مخصوص گاڑیوں کے ذریعے سگنلز پر چھوڑا جاتا ہے اور رات گئے انہیں ہولڈنگ سینٹرز یا خستہ حال ٹھکانوں پر واپس لایا جاتا ہے، جہاں ان کی دن بھر کی کمائی کا حساب لیا جاتا ہے۔ کمائی کا ہدف پورا نہ کرنے والے بچوں اور خواتین کو جسمانی تشدد اور بھوک جیسی کڑی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک جدید دور کی غلامی ہے جہاں انسانی جسم کو محض منافع کمانے والی مشین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ریاستی سطح پر اگرچہ حالیہ برسوں میں کچھ سخت اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن اس ناسور کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ حکومت پاکستان نے حال ہی میں گداگری کے بین الاقوامی نیٹ ورکس (جو بیرون ملک خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بھیک مانگنے کے لیے جاتے ہیں) کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 4,300 سے زائد افراد کے پاسپورٹ بلاک اور انہیں بلیک لسٹ کیا ہے۔ تاہم، مقامی سطح پر موجود مافیاء کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے بعض عناصر کی مبینہ چشم پوشی اور بااثر گروہوں کی پشت پناہی اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، 1958ء کے ویکرنسی ایکٹ (Vagrancy Act) جیسے قوانین موجود تو ہیں لیکن ان کا نفاذ صرف سطحی کارروائیوں تک محدود رہا ہے۔ جب تک گداگری کو محض ایک سماجی برائی کے بجائے منظم دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے گا، تب تک ان معصوم بچوں کو ان خونی پنجوں سے چھڑانا ناممکن ہوگا۔ عوام کو بھی یہ شعور دینا ناگزیر ہے کہ ان کی دی ہوئی بھیک کسی ضرورت مند کی بھوک نہیں مٹاتی، بلکہ ایک مجرمانہ سلطنت کو مضبوط کرتی ہے۔

کاسہ گدائی کے پیچھے چھپے خونی ہاتھ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us