Banner

بھارتی نجومی اور عالمی عسکری مسخرے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بھارتی نجومی اور عالمی عسکری مسخرے
خواجہ جمشید امام

فتح و شکست جنگ کے منطقی انجام ہوتے ہیں لیکن یہ اہم نہیں ہوتا کہ آپ نے جنگ جیتی یا ہار دی۔ اہم تو یہ ہے کہ کیا جنگ کے وقت آپ اپنے مدمقابل کے مقابل تھے یا نہیں؟ زندگی اتنی اہم شے نہیں کہ اسے بچانے کیلئے عزت و ناموس قربان کردی جائے۔ میدان جنگ کی ہار آپ کی تاریخی فتح بھی ہو سکتی ہے اور میدان جنگ کی فتح آپ کی تاریخی شکست بھی۔ اس کیلئے معرکہء کربلا گزشتہ چودہ سو سالوں سے ہمارے سامنے کھڑا ایک میدانی شکست اور تاریخی فتح پر مسکرا رہا ہے۔ آپ یزید کی صفائیاں پیش کرسکتے ہیں لیکن حسین علیہ سلام کے موقف کی مخالفت کرکے آبرو مند نہیں رہ سکتے۔ ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی زد میں ہے۔ یقینا جنگی وسائل کے حوالے سے ایران اپنے مخالف کھڑی قوتوں کے عشرے عشیرے بھی نہیں لیکن حوصلہ ٗ جرات اور جذبہء شہادت اپنے مد مقابلوں اور اُن کے حمایتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ایران پر اگر امریکہ یا اسرائیل کی سرزمین سے حملہ ہو گا تو یقینا ایران کو جواب بھی انہیں ہی دینا ہو گا لیکن اگر کوئی ایرانی بچوں ٗ بزرگوں ٗجوانوں اور عورت کے قاتل کو اپنے سرزمین دے گا اور وہاں سے ایران پر تواتر اور تسلسل سے حملے ہوتے رہیں گے تو یقینا میزائل پلٹ کر انہیں فوجی اڈوں پر جائیں گے جہاں سے وہ میزائل داغے گئے تھے۔ پاکستان کا تحریک طالبان اور اُن کے حمایتوں کے خلاف جاری آپریشن اس کی زندہ مثال ہے کہ پاکستان میں حملے تو تحریک طالبا ن پاکستان کر رہی تھی لیکن افغان طالبان ہمارے مجرموں کو نہ صرف پناہ دے رہے تھے بلکہ انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے بجائے اُن کی ہر طرح سے مدد کرنے کے علاوہ بھارت اور تحریک طالبان کے درمیان پل کا کردار بھی ا دا کر رہے تھے سو جب افواج پاکستان کا عذاب غضب للحق اُن پر نازل ہو ا تو پھر ہم نے نہ تحریک طالبان دیکھی اور نہ ہی افغان طالبان۔ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک جاری ہے اور جاری رہنا بھی چاہیے کہ کسی کتے بلے کی کیا اوقات ہے کہ وہ پاکستان کے جغرافیے کی طرف آنکھ اٹھا کربھی دیکھ سکے۔ ایران نے یقینا پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اور افغانستان نے پہلے پاکستان کے خلاف اپنا منفی ووٹ استعمال کیا اور ازاں بعد پاکستان کو تسلیم کرلیا مگر پاکستان دشمنی اُن کے خون میں شامل ہے جس کے اظہار کا کوئی موقع انہوں نے اپنے ہاتھ سے آج تک جانے نہیں دیا۔ ایران کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھی ہمیشہ بھارت کی طرف رہا اور کلبوشن کی گرفتاری سے وہ نیٹ ورک بھی سامنے آیا جسے ایران سے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف آپریٹ کیا جا رہا تھا لیکن ایران نے کبھی پاکستان کے خلاف براہ راست جنگ کرنے کی جرات نہیں کی اور پھر ہمارے بہت سے معاہدے بھی اُس کے ساتھ تاحال جار ی ہیں۔
ہمارے خطے میں امریکہ ٗ چین کے مقابلے میں بھارت کی تھانیداری قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے جس کیلئے مودی سرکار نے اسرائیل کو بھارت ماتا کا باپ بھی تسلیم کر لیا ہے لیکن اس علاقائی حاکمیت کا امریکی ٗ بھارتی اور اسرائیلی خواب اتنی دیر تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان ایک بڑی فوج ٗ ایٹمی قوت اور جدید ترین میزائیل ٹیکنالوجی لئے بھارت کے سر پر بیٹھا ہے اور ایک بہادر سپہ سالار پاکستان کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کسی مصلحت اورمصالحت کا شکار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل آرمی چیف حافظ منیر کے خلاف ٹرمپ سے ملاقات کو کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت جیسا قرار دینے والے اُن کی نامزدگی سے پہلے ہی اُن کے خلاف کمپئین کرنا شروع ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران نیازی اور اُس کی سیاسی جماعت نے آج تک اسرائیل اور امریکہ کی بربریت کے خلاف کوئی مذمتی بیان نہیں دیا۔ وہ آج بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ جنگ سے فارغ ہو کرسب سے پہلے عمران نیازی کی رہائی کا پروانہ لہراتا ہوا پاکستان آئے گا او ر اُسے اڈیالہ سے نکال لے جائے گا۔ خوا ب دیکھنا بُری بات نہیں لیکن خوابوں میں رہنا انتہائی بُر ی بات ہے۔ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی پٹائی اور موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل کے کردار نے انہیں مزید باوقار بنادیا ہے۔پاکستانی قوم موجودہ علاقائی معروض میں مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے آرمی چیف کے ساتھ کھڑی ہے اور اُس کی جنگی حکمت ِ عملی کو بہترین تصور کرر ہی ہے۔بھارت کے اخبار ہندو ٹائمز کے مطابق ہندوستانی نجومیوں کا ایک گروہ جو دبئی میں ماہرین ِ فلکیات کی ایک بڑی کانفرنس میں گئے تھے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور حملوں کے باعث فضائی سفر متاثر ہوا اور کئی پروازیں منسوخ ہو گئیں جس کی وجہ سے 28فروری کو کچھ نجومی دبئی میں پھنس گئے۔سوشل میڈیا پر طنز کیا جا رہا تھا کہ جو لوگ مستقبل بتاتے ہیں وہ خود نہیں جان سکے کہ وہ دبئی میں پھنس جائیں گے۔یقینا یہ خبر دلچسپ ہے لیکن ایسا صرف نجومیو ں کے ساتھ نہیں ہوتا عالمی عسکری مسخروں کو بھی یہی زعُم ہوتا ہے کہ وہ دنیا پر مسلط کی گئی جنگ کے منطقی انجام بارے جانتے ہیں یقینا یہی زعم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی ٗپہلی افغان وار میں روس اوردوسری افغان جنگ میں امریکہ کو بھی تھا لیکن جنگ کے منطقی نتائج اُن کے توقعات کے برعکس نکلے اور انہیں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ گو کہ افغانستان میں روس اور امریکہ کی شکست کے پیچھے بھی پاکستان کے عسکری ذہن ہی کارفرما تھے لیکن نمک حراموں کو بھی زعم ہو گیا تھاکہ اُنہوں نے دنیا کی دو سپر پاورز کو شکست دی سو اب وہ بھاگتے ہوئے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھ رہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں مجھے یہ لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آ رہی کہ امریکہ یہاں سے جلد بھاگ جائے گا کہ دوسپر پاورں کے درمیان یہ جنگ جاری رکھنا اُس کیلئے کوئی بہتر تجربہ ثابت نہیں ہو گا۔ تاخیر کی صورت میں ٹرمپ کو اپنے اداروں اورامریکی عوام کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ جائے گا سو اُسے جلد ہی کوئی ثالثی ڈھونڈ لیناچاہیے جو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا ورنہ کچھ بعید نہیں کہ کچھ عرصہ بعد امریکہ اور اسرائیل ثالثی سے بھی محروم ہو جائیں کہ دنیا جنگ نہیں امن چاہتی ہے۔ اس کی خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

بھارتی نجومی اور عالمی عسکری مسخرے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us