Banner

چمن کے معذور بچے اور تعلیمی سہولیات کا فقدان

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر : حافظ محمد صدیق مدنی

تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کو بلا امتیاز تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ خاص طور پر وہ افراد جو جسمانی یا سماعتی معذوری کا شکار ہوں ان کی تعلیم اور تربیت کے لیے خصوصی توجہ اور سہولیات فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کے لیے خصوصی تعلیمی ادارے، تربیتی مراکز اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ بھی معاشرے کے مفید اور فعال شہری بن سکیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں ابھی تک معذور بچوں کی تعلیم کے لیے مناسب سہولیات موجود نہیں ہیں۔ بلوچستان کے اہم اور تجارتی شہر چمن کی صورتحال بھی اس حوالے سے تشویشناک ہے جہاں سماعت سے محروم اور دیگر معذور بچوں کے لیے کوئی باقاعدہ اسپیشل سکول موجود نہیں ہے۔ چمن بلوچستان کا دوسرا بڑا تجارتی اور سرحدی شہر ہے جہاں مختلف علاقوں سے لوگ آکر آباد ہیں۔ یہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرتا ہے۔ تاہم اس شہر میں ایسے بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو سماعت سے محروم ہیں یا دیگر جسمانی معذوریوں کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں کا نہ ہونا نہ صرف ان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے بلکہ عام سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ حالیہ ہی ضلع چمن میں جاری اساتذہ کے پانچ روزہ تربیتی ریفریشر کورس کے دوران گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع چمن کے ایک ذمہ دار نصراللہ خان اچکزئی نے اس اہم مسئلے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ ضلع چمن میں معذور طلبہ کے لیے کوئی اسپیشل سکول موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے عام سکولوں میں ایسے طلبہ کے داخلے کے بعد تعلیمی عمل میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سکولوں بالخصوص گورنمنٹ ہائی سکول کشتیار چمن میں سماعت سے محروم بچے داخل ہیں لیکن نہ تو اساتذہ کو اس حوالے سے خصوصی تربیت حاصل ہے اور نہ ہی اسکولوں میں وہ سہولیات موجود ہیں جو ایسے بچوں کی تعلیم کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سماعت سے محروم بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی مہارت اور طریقہ تدریس درکار ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کو اشاروں کی زبان (Sign Language) سے واقف ہونا چاہیے اور تعلیمی ماحول بھی ان کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ عام اسکولوں میں اساتذہ کی اکثریت کو اس حوالے سے تربیت حاصل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ایسے بچوں کو مؤثر طریقے سے تعلیم نہیں دے پاتے۔ نتیجتاً یہ بچے تعلیم میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اکثر اوقات تعلیم سے محروم بھی ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا چمن میں اسپیشل اسکول کے قیام کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے کہ یہاں سرحدی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ ان میں سے اکثر کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنے معذور بچوں کو کوئٹہ یا دیگر بڑے شہروں کے اسپیشل سکولوں میں بھیج سکیں۔ اگر چمن میں ہی ایک معیاری اسپیشل سکول قائم کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف چمن بلکہ قریبی علاقوں کے معذور بچوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ دنیا بھر میں معذور افراد کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معذور افراد کو تعلیم کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ پاکستان کے آئین میں بھی ہر شہری کو تعلیم کا حق دیا گیا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بلا امتیاز تعلیمی سہولیات فراہم کرے۔ بلوچستان ایک وسیع اور پسماندہ صوبہ ہے جہاں تعلیم کے شعبے کو پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں معذور بچوں کی تعلیم کا مسئلہ مزید توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر چمن جیسے بڑے شہر میں ایک اسپیشل ہائی سکول قائم کیا جائے تو یہ نہ صرف ایک تعلیمی ضرورت کو پورا کرے گا بلکہ معذور بچوں کے والدین کے لیے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ ایک اسپیشل سکول کے قیام کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہاں تربیت یافتہ اساتذہ تعینات کیے جائیں جو سماعت سے محروم اور دیگر معذور بچوں کو جدید تعلیمی طریقوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ اس کے علاوہ سکول میں ایسے آلات اور سہولیات بھی فراہم کی جائیں جو معذور بچوں کی تعلیم کو آسان بنا سکیں۔ مثال کے طور پر سماعت سے محروم بچوں کے لیے بصری تعلیمی مواد، اشاروں کی زبان کے ماہر اساتذہ اور خصوصی کلاس رومز کی ضرورت ہوتی ہے۔ چمن شہر کے وسط میں ایک اسپیشل ہائی سکول کا قیام اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہاں تک شہر کے مختلف علاقوں سے طلبہ کی رسائی آسان ہو۔ اگر اسکول شہر کے مرکزی مقام پر قائم کیا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ بچے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات بھی فراہم کرے تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے اسکول آ جا سکیں۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان اساتذہ کی ایک مضبوط اور فعال تنظیم ہے جو ہمیشہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ضلع چمن کے اساتذہ نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کر کے ایک اہم سماجی ذمہ داری ادا کی ہے۔ ان کی جانب سے محکمہ تعلیم اور حکومت بلوچستان سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔ اگر حکومت بلوچستان اس مطالبے کو سنجیدگی سے لے اور چمن میں ایک معیاری اسپیشل سکول قائم کر دے تو اس سے نہ صرف معذور بچوں کا مستقبل روشن ہوگا بلکہ معاشرے میں ایک مثبت پیغام بھی جائے گا کہ ریاست اپنے کمزور اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ سماجی تنظیمیں، مخیر حضرات اور مقامی کمیونٹی بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اگر سب مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کوشش کریں تو یقیناً چمن میں معذور بچوں کے لیے ایک بہترین تعلیمی ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کمزور اور معذور افراد کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معذور بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ چمن میں اسپیشل سکول کا قیام نہ صرف ایک تعلیمی ضرورت ہے بلکہ یہ ایک انسانی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ امید ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر جلد از جلد عملی اقدامات کریں گے تاکہ چمن کے معذور بچے بھی تعلیم کی روشنی سے مستفید ہو سکیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔

چمن کے معذور بچے اور تعلیمی سہولیات کا فقدان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us