Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سیوی کے قریب فائرنگ، خاتون اور تین بچے جاں بحقکوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسیں مسلح افراد لے گئےعالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قبضہ ختم کروائے، سید صادق آغااین ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان سے کٹوتی قبول نہیں، پروفیسر حلیم صادقبلوچستان کے تمام ٹرانسپورٹرز نے قلات سنگداس چیک پوسٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیالکپاس کسٹم چیک پوسٹ پر زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، ٹرانسپورٹرزسندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر منایا گیا’ادارے کی نا اہلی ہے ملازم اے سی کمروں میں بیٹھتے ہیں، ‘17 لاکھ روپے کی گیس چوری کیس کی سماعتسپریم کورٹ، 25 سالہ لڑکی کے قتل کا ملزم شک کی بنیاد پر بریکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کا ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا تفصیلی دورہ، طبی سہولیات اور جاری اصلاحات کا جائزہسیوی کے قریب فائرنگ، خاتون اور تین بچے جاں بحقکوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسیں مسلح افراد لے گئےعالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قبضہ ختم کروائے، سید صادق آغااین ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان سے کٹوتی قبول نہیں، پروفیسر حلیم صادقبلوچستان کے تمام ٹرانسپورٹرز نے قلات سنگداس چیک پوسٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیالکپاس کسٹم چیک پوسٹ پر زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، ٹرانسپورٹرزسندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر منایا گیا’ادارے کی نا اہلی ہے ملازم اے سی کمروں میں بیٹھتے ہیں، ‘17 لاکھ روپے کی گیس چوری کیس کی سماعتسپریم کورٹ، 25 سالہ لڑکی کے قتل کا ملزم شک کی بنیاد پر بریکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کا ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا تفصیلی دورہ، طبی سہولیات اور جاری اصلاحات کا جائزہ

’ادارے کی نا اہلی ہے ملازم اے سی کمروں میں بیٹھتے ہیں، ‘17 لاکھ روپے کی گیس چوری کیس کی سماعت

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں 17 لاکھ روپے کے مبینہ غیر قانونی گیس استعمال کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے محکمہ گیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کی نااہلی ہے، ملازمین اے سی کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں، جبکہ غریب عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ محکمہ گیس کو غیر قانونی استعمال کا علم کب ہوا اور اگر 17 لاکھ روپے کی گیس استعمال ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صارف نے گھریلو گیس کنکشن کو تجارتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ محکمے کی جانب سے میٹر کی ریڈنگ کے بعد 17 لاکھ روپے کا بل جاری کیا گیا۔

جسٹس حسن رضوی نے سوال کیا کہ کیا صارف وہاں سی این جی اسٹیشن، تندور یا ہوٹل چلا رہا تھا؟ وکیل نے جواب دیا کہ گھریلو کنکشن کی گیس اسپتال کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

جسٹس حسن رضوی نے مبینہ استعمال کے حوالے سے شواہد طلب کرتے ہوئے کہا کہ چھاپے کے دوران کیا ثبوت حاصل کیے گئے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ پولیس تو بدنام ہے، محکمہ گیس میں بھی بڑے تماشے ہیں۔

جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ گیس کی چوری یا غلط استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے اور اتنے بڑے ادارے کو ایسے معاملات سنجیدگی سے لینے چاہییں۔

محکمہ گیس کے وکیل نے متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ پشاور کے صارف عرفان علی کو محکمہ گیس نے 17 لاکھ روپے کا بل جاری کیا تھا۔ صارف نے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا، جہاں سے اسے ریلیف ملا۔ محکمہ گیس نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ کیس کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *