Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی گرفتارہمارے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوراجن پور مسافر بس حادثہ؛ مزید ایک بچہ دم توڑ گیا، جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی، 30 زخمیجس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہےمدینہ منورہ پر 5 ڈرونز سے حملہ، سعودی اتحادی افواج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیاپختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقابیتیم بچے وسیم کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکتربت: بلیدہ سلو ندی سے مزید دو نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026کوئٹہ: اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی گرفتارہمارے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوراجن پور مسافر بس حادثہ؛ مزید ایک بچہ دم توڑ گیا، جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی، 30 زخمیجس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہےمدینہ منورہ پر 5 ڈرونز سے حملہ، سعودی اتحادی افواج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیاپختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقابیتیم بچے وسیم کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکتربت: بلیدہ سلو ندی سے مزید دو نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026

جس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہے

احمدخان اچکزئی

جس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہے

محترم قارئین، جس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں سمجھ لیں ریاست مر چکی ہے اور اس کی جگہ کمپنی راج نے لے لی ہے۔ فلاحی ریاست کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہاں انسان کی جان اور انسان کی روٹی کاروبار نہیں ہوتی۔ قبرستان کی طرح ہسپتال اور لنگر خانے کی طرح بینک، یہ دونوں ادارے نفع کے لیے نہیں ہوتے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے دونوں ہی سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ سب سے منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ پہلی بات ہسپتال جب کاروبار بنے تو صحت بکتی ہے۔ فلاحی ریاست میں ہسپتال کا تصور عبادت گاہ جیسا ہوتا ہے جہاں منافع کا سوچنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہسپتال سرکار چلاتی ہے تاکہ کوئی غریب علاج سے محروم نہ رہے۔ لیکن ہمارے ہاں ہسپتال ایک فائیو سٹار ہوٹل سے زیادہ مہنگا کاروبار ہے۔ جب ہسپتال کا بورڈ آف ڈائریکٹرز یہ فیصلہ کرے گا کہ اس سال کتنے ارب کا منافع دینا ہے تو پھر وہاں مریض کا علاج نہیں اس کی جیب کا علاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ اس نے مہینے میں کتنے لاکھ کی دوائی لکھنی ہے کتنے ٹیسٹ کروانے ہیں کتنے مریض داخل کرنے ہیں۔ ایک چھوٹے سے بخار کو پانچ ٹیسٹ اور تین دن داخلہ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک عام سے پیٹ درد کو اپینڈکس کا آپریشن بنا کر پچاس ہزار کا بل بنا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی ہسپتال کے گیٹ پر ہی مر جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس پچاس ہزار ایڈوانس نہیں ہوتا۔ اس ملک میں ایک دل کے سٹنٹ کا خرچہ پندرہ لاکھ روپے ہے کینسر کی ایک دوا دو لاکھ روپے کی ہے گردے کا ڈائیلاسز بیس ہزار روپے کا ہے۔ یہ علاج ہے یا نیلامی ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب ہسپتال منافع کمائے گا تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ قوم صحت مند ہو کیونکہ صحت مند قوم اس کے کاروبار کے لیے خسارہ ہے۔ اسی لیے یہ ہسپتال کبھی خالص خوراک پر بات نہیں کریں گے کبھی صاف پانی پر مہم نہیں چلائیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے بیماری ہی ان کی مارکیٹ ہے۔ دوسری بات بینک جب کاروبار بنے تو غربت بکتی ہے۔ فلاحی ریاست میں بینک عوام کے پیسے کا چوکیدار ہوتا ہے۔ وہ غریب کے پیسے کو امانت سمجھ کر اسے کاروبار میں لگاتا ہے تاکہ روزگار پیدا ہو۔ ہمارے ہاں بینک سود کا سب سے بڑا دکاندار ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ دیکھ لیں پاکستانی بینکوں نے تاریخ کا سب سے زیادہ منافع پچھلے دو سال میں کمایا ہے ہزار ارب روپے سے زیادہ۔ یہ منافع کہاں سے آیا ہے؟ یہ منافع کسی فیکٹری لگانے سے نہیں آیا کسی برآمدات سے نہیں آیا۔ یہ منافع تین جگہ سے آیا ہے۔ پہلا غریب کسان کو پچیس فیصد سود پر قرضہ دے کر۔ وہ کسان جو پہلے ہی بارش نہ ہونے سے پریشان ہے اسے بینک مزید مقروض کر دیتا ہے۔ دوسرا مزدور کو چالیس فیصد پر کریڈٹ کارڈ اور ذاتی قرضہ دے کر۔ ایک ہزار روپے کی چیز پر چالیس فیصد سود وصول کرنا کون سی بینکاری ہے یہ تو سیدھا سود خوری ہے۔ تیسرا حکومت کو بائیس فیصد پر قرضہ دے کر۔ یعنی عوام کا پیسہ عوام سے لے کر عوام کی حکومت کو ہی مہنگے داموں بیچ کر اور پھر کہنا کہ ہم نے ترقی کی ہے۔ یہ کون سی ترقی ہے؟ جب بینک کا منافع اس بات پر ہو کہ ملک کتنا مقروض ہے تو بینک کبھی نہیں چاہے گا کہ ملک قرض سے نکلے۔ اسی لیے ہمارے بینک کبھی چھوٹے کاروبار کو قرضہ نہیں دیتے کبھی اسٹارٹ اپ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ انہیں معلوم ہے سب سے آسان کاروبار حکومت کو قرضہ دینا ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست مر جاتی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا تھا دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر ذمہ دار ہے۔ اور آج یہاں کیا ہو رہا ہے؟ یہاں ہسپتال اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ تم بیمار ہو تو وہ کمائے اور بینک اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ تم مجبور ہو تو وہ کمائے۔ ایک تمہاری بیماری پر خوش ہوتا ہے دوسرا تمہاری مجبوری پر۔ جہاں انسان کی بیماری اور مجبوری سب سے بڑا کاروبار بن جائے وہ ملک فلاحی ریاست نہیں رہتا وہ ایک منڈی بن جاتا ہے جہاں انسان بکتا ہے۔ علاج بکتا ہے مجبوری بکتی ہے۔ اس منڈی میں ریاست نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی صرف کمپنی ہوتی ہے اور کمپنی کا اصول ہے کہ گاہک مرے یا جیے کمپنی کو اپنا منافع چاہیے۔ آج پاکستان کو اسی کمپنی راج سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہسپتال کو دوبارہ فلاحی ادارہ بنانا ہوگا اور بینک کو دوبارہ خدمت کا ادارہ۔ ورنہ یہ ملک چلتا رہے گا لیکن اس میں انسان نہیں بکیں گے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *