Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہےمدینہ منورہ پر 5 ڈرونز سے حملہ، سعودی اتحادی افواج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیاپختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقابیتیم بچے وسیم کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکتربت: بلیدہ سلو ندی سے مزید دو نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسیجس ملک میں ہسپتال اور بینک منافع بخش کاروبار بن جائیں وہاں ریاست مر جاتی ہے اور کمپنی راج شروع ہو جاتا ہےمدینہ منورہ پر 5 ڈرونز سے حملہ، سعودی اتحادی افواج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیاپختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقابیتیم بچے وسیم کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاکتربت: بلیدہ سلو ندی سے مزید دو نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدبازار میں دوسرا روز تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، مستقل و عارضی تجاوزات کا خاتمہ، کارروائی جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1952/20-10-2026وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی کا دورہذوالفقار احمد چیمہ کی تین تازہ تصانیف کی تقریبِ پذیرائی، ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کی شرکتعالمی رہنماؤں کی بے حسی اور عالمی قوانین کی بے بسی

پختونخوا؛ پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن بے نقاب

پشاور: خیبر پختونخوا میں معدنیات کے شعبے سے متعلق سرکاری آڈٹ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کے بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی خزانے کو ایک سال کے دوران 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ آڈیٹر جنرل نے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں غیر قانونی کان کنی، ٹھیکے داروں سے واجبات کی عدم وصولی، رائلٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی عدم ادائیگی سمیت متعدد مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق 2022 اور 2023 کے دوران غیر قانونی کان کنی سے 8 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی کی روک تھام میں ناکامی، شاہراہوں اور اسمال ڈیمز کے لیے ریت اور بجری کے غیر قانونی اخراج، معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی عدم وصولی اور مختلف معدنی کانوں کے واجبات معاف کیے جانے سے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پشاور میں محکمہ معدنیات کی زمین مقررہ نرخوں کے بجائے کم قیمت پر لیز پر دینے، مختلف اضلاع میں اسمال ڈیمز کے واجبات وصول نہ کرنے اور مردان میں رائلٹی کی رقم کی عدم وصولی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

آڈیٹر جنرل نے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے۔ تاہم رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات اور الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *