Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جرائم کی روک تھام ، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور میرٹ پر بروقت انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے، چوہدری نعمان اقبالبلوچستان کا فخر، تاریخ ساز شخصیت: ڈاکٹر سید معید احمد – بلوچستان کے پہلے نیوناٹولوجسٹیونیورسٹی آف اوکاڑہ کی دو سالہ ترقی کا اعتراف، ہائر ایجوکیشن منسٹر نے کارکردگی کو سراہاکوئٹہ کی ڈبل روڈ پر تین سال سے گندا پانی جمع، شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیںمند میں مینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کے مبینہ اغوا کی تصدیق، وزیر داخلہ ضیا لانگو بھی بول پڑےایران امریکا کشیدگی کے دوران عاصم منیر تہران پہنچ گئے، پاکستان کا اہم سفارتی قدمحب میں صفائی کی ناقص صورتحال پر ڈپٹی کمشنر برہم، افسران کو فوری بہتری کا حکممذہب بھی، سیاست بھی اور کاروبار بھی!کوئٹہ میں صفائی کی ابتر صورتحال پر جمعیت علماء اسلام کا اظہارِ تشویش، ہنگامی صفائی مہم چلانے کا مطالبہاسسٹنٹ کمشنر حب کا سرکاری اسکول اور امتحانی مرکز کا اچانک دورہجرائم کی روک تھام ، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور میرٹ پر بروقت انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے، چوہدری نعمان اقبالبلوچستان کا فخر، تاریخ ساز شخصیت: ڈاکٹر سید معید احمد – بلوچستان کے پہلے نیوناٹولوجسٹیونیورسٹی آف اوکاڑہ کی دو سالہ ترقی کا اعتراف، ہائر ایجوکیشن منسٹر نے کارکردگی کو سراہاکوئٹہ کی ڈبل روڈ پر تین سال سے گندا پانی جمع، شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیںمند میں مینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کے مبینہ اغوا کی تصدیق، وزیر داخلہ ضیا لانگو بھی بول پڑےایران امریکا کشیدگی کے دوران عاصم منیر تہران پہنچ گئے، پاکستان کا اہم سفارتی قدمحب میں صفائی کی ناقص صورتحال پر ڈپٹی کمشنر برہم، افسران کو فوری بہتری کا حکممذہب بھی، سیاست بھی اور کاروبار بھی!کوئٹہ میں صفائی کی ابتر صورتحال پر جمعیت علماء اسلام کا اظہارِ تشویش، ہنگامی صفائی مہم چلانے کا مطالبہاسسٹنٹ کمشنر حب کا سرکاری اسکول اور امتحانی مرکز کا اچانک دورہ

مذہب بھی، سیاست بھی اور کاروبار بھی!

اظہار خیال ۔۔ ایس ایم مرموی

دنیا بڑی عجیب جگہ ہے یہاں عقیدے بھی ہیں، عقیدتیں بھی، مقدس مقامات بھی اور ان مقدس مقامات کے گرد گھومتے ہوئے معاشی مفادات بھی کہیں مذہب انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھاتا ہے اور کہیں اسی مذہب کے نام پر انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا جاتا ہے کہیں شریعت کے نفاذ پر تالیاں بجتی ہیں اور کہیں اسی شریعت کے نام پر ہونے والی زیادتیوں پر زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں سوال یہ ہے کہ ہم مذہب کے پیروکار ہیں یا مذہب کے نام پر قائم کیے گئے اپنے اپنے مفادات کے محافظ؟
سعودی عرب کی مثال لیجیے حرمین شریفین کی موجودگی نے اس ملک کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک خصوصی مقام عطا کیا ہے ہر سال لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمان حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچتے ہیں اس عقیدت کے ساتھ ایک وسیع معاشی سرگرمی بھی وابستہ ہے سیاحت، رہائش، نقل و حمل اور دیگر خدمات سے ایک بڑی معیشت تشکیل پاتی ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مقدس مقامات کی میزبانی سعودی عرب کو ایک غیر معمولی مذہبی اور سفارتی اہمیت دیتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی مذہبی اہمیت اسے تنقید سے بالاتر بھی کر دیتی ہے؟ اگر مذہب کے نام پر کیے جانے والے اقدامات قابلِ تحسین ہیں تو ان کا معیار بھی یکساں ہونا چاہیے اگر کسی اقدام کو اسلامی عدل، شریعت اور اخلاقیات کے پیمانے پر درست قرار دیا جاتا ہے تو پھر یہی پیمانہ ہر جگہ ہر شخص اور ہر ریاست کے لیے استعمال ہونا چاہیے قانون کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ طاقتور کی کارروائی کو مقدس سمجھ لیا جائے اور کمزور کے لیے انصاف کا دروازہ بند کر دیا جائے۔
مسلمان دنیا کی گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ بھی کچھ کم سوالات نہیں اٹھاتی افغانستان کی جنگ، سوویت یونین کے خلاف جہاد، امریکی مداخلت مختلف مسلح گروہوں کی سرپرستی اور بعد ازاں دہشت گردی کے پھیلاؤ نے پورے خطے کو لہولہان کیا اس تاریخ میں امریکہ، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کے کردار مختلف ادوار میں زیرِ بحث رہے ہیں ان کرداروں کی ذمہ داری کا تعین جذبات کے بجائے تاریخی شواہد سے ہونا چاہیے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ریاستیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے مذہبی جذبات کو استعمال کرتی ہیں تو اس کی قیمت اکثر عام انسان اپنی جان، گھر اور مستقبل سے ادا کرتا ہے۔ مذہب کے نام پر مسلح گروہوں کی سرپرستی کا المیہ یہ ہے کہ ابتدا میں انہیں کسی بڑے مقصد کا سپاہی بتایا جاتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی گروہ اپنے معاشروں کے لیے عذاب بن جاتے ہیں پھر ریاستیں ان سے لاتعلقی اختیار کرتی ہیں تاریخ کی نئی تشریح کی جاتی ہے اور نقصان اٹھانے والے عوام سے کہا جاتا ہے کہ ماضی کو بھول جائیں لیکن جن گھروں کے چراغ بجھ چکے ہوں جن بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہو اور جن خاندانوں نے دہشت گردی میں اپنے پیارے کھوئے ہوں ان کے لیے تاریخ محض کتاب کا ایک باب نہیں ہوتی اب ذرا مذہبی تقدس اور مذہبی کاروبار کے اس تعلق کو پاکستان کے تناظر میں دیکھیے یہاں مذہب عوام کی زندگی کا اہم حصہ ہے مسجد، مدرسہ، منبر اور محراب معاشرتی زندگی میں اثر رکھتے ہیں عوام اپنے مذہبی رہنماؤں سے اخلاق انصاف، پاکیزگی اور کردار کی توقع کرتے ہیں لیکن جب کسی مذہبی شخصیت پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا کسی دوسرے سنگین جرم کا الزام سامنے آتا ہے تو سوال صرف ایک فرد کے کردار کا نہیں رہتا سوال اس پورے نظامِ نگرانی کا بھی ہوتا ہے جو مذہبی منصب کو جواب دہی سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے یہاں ایک اصول واضح رہنا چاہیے الزام اور جرم ثابت ہونے میں فرق ہے کسی بھی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر جرم ثابت ہو جائے تو اس کا مذہبی منصب اسے قانون سے استثنا نہیں دے سکتا ایسے جرائم کے خلاف مؤثر تحقیقات، متاثرین کا تحفظ، شفاف عدالتی کارروائی اور قانون کے مطابق سزا ضروری ہیں یہی اصول مسجد کے پیش امام مدرسے کے استاد، سیاست دان، سرکاری افسر اور کسی بھی عام شہری پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی جذبات اکثر انتخابی انداز میں بیدار ہوتے ہیں کہیں کسی معاملے پر پورا معاشرہ میدان میں نکل آتا ہے کہیں کسی ظلم پر مکمل خاموشی چھا جاتی ہے بعض اوقات کسی دور دراز ملک میں ہونے والے واقعے پر جذباتی تقریریں ہوتی ہیں مگر اپنے محلے میں کسی کمزور انسان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر وہی آوازیں سنائی نہیں دیتیں آخر ایسا کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ہمارے ہاں مذہب کو سمجھنے کے بجائے اکثر اسے اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے جہاں مذہب سے طاقت ملتی ہو وہاں مذہبی نعرے بلند ہوتے ہیں جہاں مذہب کا تقاضا اپنے مفاد کی قربانی ہو وہاں تاویلوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ریاست بھی اگر مذہب کو سیاسی جواز کے طور پر استعمال کرے اور مذہبی قیادت بھی عوام کے جذبات کو اپنی طاقت بڑھانے کے لیے بروئے کار لائے تو مذہب اور کاروبار کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگتی ہے اس صورت میں نقصان صرف عوام کا نہیں ہوتا مذہب کی اخلاقی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہ معاملہ سعودی عرب تک محدود نہیں پاکستان تک بھی محدود نہیں دنیا کے مختلف معاشروں میں مذہبی شناخت سیاسی اقتدار اور معاشی مفادات کا تعلق مختلف صورتوں میں موجود ہے فرق صرف یہ ہے کہ کہیں ریاست مذہب کی تعبیر پر اپنی اجارہ داری قائم کرتی ہے کہیں مذہبی گروہ سیاست پر اثرانداز ہوتے ہیں اور کہیں دونوں ایک دوسرے کے لیے طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں لیکن اس ساری بحث میں ایک بنیادی سوال گم نہیں ہونا چاہیے کیا مذہب کا مقصد انسان کو انصاف دینا ہے یا انسان کے ذریعے اقتدار اور دولت حاصل کرنا؟ اگر مذہب عدل کا نام ہے تو پھر عدل صرف مخالف کے لیے کیوں؟ اگر شریعت اخلاقی پاکیزگی کا درس دیتی ہے تو پھر اس کا مطالبہ صرف عوام سے کیوں؟ اگر دین مظلوم کی حمایت کرتا ہے تو پھر طاقتور کے ظلم پر خاموشی کیوں؟ اور اگر کسی معاشرے میں مذہبی تقدس کے نام پر سوال اٹھانے کو گستاخی سمجھ لیا جائے تو پھر احتساب کا راستہ کون کھولے گا ریاستوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی مقامات کی میزبانی احترام کا باعث ضرور ہے مگر احترام اور تنقید سے استثنا دو الگ چیزیں ہیں مذہبی رہنماؤں کو بھی یاد رکھنا ہوگا کہ منبر پر بیٹھنے سے کردار کی ضمانت نہیں ملتی کردار اپنے اعمال سے ثابت کرنا پڑتا ہے اور عوام کو بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ مذہب سے محبت کا مطلب کسی مذہبی شخصیت، جماعت یا ریاست کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت نہیں اصل مذہب فروشی صرف مذہب کے نام پر چندہ جمع کرنے کا نام نہیں یہ اس وقت بھی ہوتی ہے جب مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جب انصاف کے پیمانے طاقتور اور کمزور کے لیے بدل جائیں اور جب مقدس الفاظ کی آڑ میں انسانی حقوق کو نظرانداز کیا جائے۔
معاشروں کی ترقی کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہاں مذہب کے نام پر کتنے نعرے لگتے ہیں کتنے مقدس مقامات موجود ہیں یا کتنے بڑے مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہاں انسان کتنا محفوظ ہے قانون کتنا غیر جانب دار ہے کمزور کو کتنا انصاف ملتا ہے اور طاقتور سے کتنی جواب دہی طلب کی جاتی ہے
کیونکہ مذہب کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ طاقتور کو بھی قانون کے سامنے جھکائے نہ کہ اس وقت جب اس کے نام پر طاقتور کو ہر سوال سے آزاد کر دیا جائے ۔
اور اب ذرا اس بنگلہ دیشی جوڑے کی پھانسی پر غور کیجیے جس کا واقعہ اس پوری بحث کا اصل سوال ہے سوال صرف یہ نہیں کہ انہیں کس جرم میں سزا دی گئی سوال یہ بھی ہے کہ ہم اس سزا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں کیا ہم نے عدل کے تقاضوں، شواہد اور قانونی تقاضوں کو سمجھ کر رائے قائم کی یا محض اس لیے اسے سراہا کہ سزا دینے والی ریاست مذہبی تقدس کی حامل ہے؟ اگر کسی فیصلے پر داد دینے سے پہلے ہم انصاف کے تقاضے نہیں دیکھتے تو پھر ہم قانون کے حامی نہیں، محض اپنی عقیدت کے اسیر ہیں ریاست کی طاقت کا اصل امتحان کسی کی جان لے لینے میں نہیں بلکہ یہ ثابت کرنے میں ہے کہ فیصلہ قانون، شواہد اور انصاف کے مطابق ہوا ورنہ مذہب کے نام پر بجنے والی تالیاں کبھی کبھی ہمیں یہ سننے ہی نہیں دیتیں کہ انصاف کے ایوان میں کون سے سوال ابھی جواب طلب ہیں اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عقیدت اور شعور ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں ایک کہتا ہے فیصلہ درست ہے کیونکہ اسے مقدس ریاست نے کیا دوسرا پوچھتا ہے فیصلہ درست ہے تو اس کے حق میں انصاف کے شواہد کیا ہیں؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *