Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
N-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رندزندہ اور باشعور قومیں ثقافتی و روایتی اقدار اور تاریخی ورثے کا تحفظ کرتی ہیں،نسیم الرحمان ملاخیلپشتون کلچرل ڈے ہماری شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے، حاجی ولی محمد نورزئیقلات میں نامعلوم مسلح افراد ایدھی ایمبولینس اغوا کرکے لے گئےصبا فیصل کے طلاق اور خواتین سے متعلق بیان پر بحث چھڑ گئینوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریبN-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رندزندہ اور باشعور قومیں ثقافتی و روایتی اقدار اور تاریخی ورثے کا تحفظ کرتی ہیں،نسیم الرحمان ملاخیلپشتون کلچرل ڈے ہماری شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے، حاجی ولی محمد نورزئیقلات میں نامعلوم مسلح افراد ایدھی ایمبولینس اغوا کرکے لے گئےصبا فیصل کے طلاق اور خواتین سے متعلق بیان پر بحث چھڑ گئینوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریب

دھرنے کا مفہوم اور مقاصد، عالمی و پاکستانی آغاز، موجودہ صورتحال اور لیویز کا کردار

تحریر شکیل گوندل

آج کل جماعتِ اسلامی اپنے پورے وسائل اور دستیاب افرادی قوت سے حکومت کے مہنگائی کو تقویت دینے والے اقدامات خصوصاً پٹرول میں لیوی پر قریباً تین ماہ سے سراپا احتجاج ہے۔ اب بذریعہ ٹرین کراچی سے واپس پنجاب ارہی ہے اور مطالبات منظور نہ ھونے کی صورت اسلام آباد دھرنے کے لیے جانے کا عزم کئے ہوئے ہے۔اس دوران اس کے باہمت اور پر جوش امیر جناب حافظ محمد نعیم صاحب ایک دن بھی اپنے گھر نہیں گئے، رات دن دھرنے میں نئے جوش و جذبے اور بھر پور عزم سے حکومت کو للکار للکار کر لیوی کے ظالمانہ نفاذ کے خاتمے پر زور دے ریے ہیں۔بلکہ اب تو انھوں نے ٹرین مارچ کے اغاز میں ببانگ دھل حکومت کو یہ الٹی میٹم بھی دے دیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں دھرنا تحریک لیوی کے خاتمے کے ساتھ حکومت گراؤ تحریک میں بھی تبدیل ھو سکتی ہے۔
دوسری طرف پی ٹی ائی والوں نے بھی احتجاجی تحریک کے لئے اپنے ورکروں کو اپنے مخصوص انداز( مارا ماری اور فضول ہلڑ بازی) میں 27 ستمبر کی کال دے دی ہے۔حکومت نے بھی دھرنے کو روکنے کے کنٹینرز سے راستوں کی بندش اور اھم پی ٹی آئی لیڈران کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔انکی سیاست کا تمام محور بانی کی جیل سے فوراً رھائی ہے۔اس کے لئے وہ ہر جائز و نا جائز اقدام کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں۔جن میں صوبے کے سرکاری وسائل اور زبان سے حکومت اور فوج کے خلاف زہر اگل کر اپنے مطالبے کو مزید ناقابل عمل بنائے جا رہے ہیں۔تمام لیڈران اور ورکرز اس مطالبے کو زندگی موت کا مسلہ بنائے بیٹھے ہیں۔مضحکہ خیز بات اس ضمن میں یہ ہے کہ پہلے وہ اس دانشمندانہ مطالبے کے لئے امریک صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امیدیں لگائے بیٹھے رہے۔وہاں سے جب یقین ہو گیا کہ اب دال نہیں گل سکتی تو پھر اس سلسلے میں فوج سے امیدیں لگا لیں جب یقین ہو گیا کہ فوج اس کام میں ساتھ میں نہیں دے سکتی تو عین قیدی نمبر 804 کے قدموں پر چلتے ھوئے اپنی فوج کے ہی خلاف ہو گئے۔اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی ائی کے ہوش سے بے گانہ جوشیلے اور نا عاقبت اندیش ارکان اور لیڈران ملک دشمن قوتوں کو فائدے پہنچانے والے بیانات گلے پھاڑ پھاڑ کر میڈیا پر دئے جا رہے ہیں۔اب دیکھیے کہ اس تشویشناک صورتحال میں ان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ھے؟؟؟ اسی پس منظر میں جائزہ لیتے ہیں کہ بات بات پر ملک عزیز میں سیاسی قوتوں کا دہرنا کرنے کا مفہوم اور مقاصد کیا ھیں؟
اصطلاحی معنوں میں دھرنے کا مفہوم ہی نہیں اس کے مقاصد کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔دھرنا انگریزی کے لفظ Sit-in کا اردو متبادل ہے۔ سیاسیات میں دھرنا پرامن احتجاج کی وہ شکل ہے جس میں مظاہرین کسی مخصوص جگہ پر بیٹھ کر اپنے مطالبات کے تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد حکومت پر اخلاقی، عوامی اور میڈیا کا دباؤ ڈالنا ہوتا ہے، نہ کہ طاقت سے اقتدار پر قبضہ کرنا۔ ماہرین کے مطابق دھرنے کے تین بنیادی مقاصد ہوتے ہیں:
1۔ عوامی رائے کو متحرک کرنا،
2۔ حکومت کو مذاکرات پر مجبور کرنا،
3۔ اپنے ووٹر کو سیاسی طور پر زندہ رکھنا۔
عالمی سطح پر آغاز

جدید دھرنے کی تاریخ 1936 میں امریکہ میں مزدور تحریک سے شروع ہوتی ہے، لیکن اسے عالمی شہرت 1960 کی دہائی میں امریکی شہری حقوق کی تحریک (Civil Rights Movement) میں ملی جب سیاہ فام طلباء نے نسل پرستی کے خلاف دھرنے دیے۔ 2011 میں وال اسٹریٹ پر قبضہ (Occupy Wall Street) اور 2019 میں ہانگ کانگ کے دھرنے اسی روایت کی جدید شکلیں ہیں۔جب کہ پاکستان میں دھرنے کی سیاست کا باقاعدہ آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا، لیکن اسے بطور ہتھیار ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 کی تحریک نظام مصطفیٰ نے متعارف کرایا۔ 2014 کا پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کا 126 دن کا اسلام آباد دھرنا، 2017 کا تحریک لبیک کا فیض آباد دھرنا اور 2019 میں جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ پاکستان کی تاریخ کے بڑے دھرنے ہیں۔
موجودہ دھرنوں کی صورتحال یہ ھے کہ ستمبر 2026 میں موجودہ دھرنے دو سطح پر ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کا مہنگائی اور بجلی بلوں کے خلاف احتجاج ہے، جس میں جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ دوسری طرف حکومت کے اپنے اتحادی، جیسے ایم کیو ایم پاکستان جو 30 اگست 2026 کو 33 نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے اورنگی ٹاؤن میں احتجاجی ریلی منعقد کر چکی ہے، اپنے مطالبات کے لیے دباؤ کی سیاست کر رہے ہیں۔ آ ئیے دیکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا دیرینہ مطالبہ لیوی کا خاتمہ ہے تو یہ
لیویز کیا ہے؟
لیویز پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کام کرنے والی ایک قدیم نیم فوجی پولیس فورس ہے۔
یہ فورس 1859 میں ملاکنڈ کے علاقے میں برطانوی دور میں قائم کی گئی تھی۔ بلوچستان میں اسے 1883 میں سر رابرٹ سینڈیمین نے قبائلی نظام (سینڈیمین سسٹم) کے تحت قائم کیا تھا۔
لیویز فورس کا بنیادی فرق یہ ہے کہ خاصہ دار قبائلی عمائدین کے ذریعے مقرر کیے جاتے ہیں، جبکہ لیویز اہلکار سیاسی انتظامیہ کی جانب سے میرٹ پر بھرتی کیے جاتے ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں علاقوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اے ایریا جہاں پولیس کام کرتی ہے اور بی ایریا جہاں لیویز کا اختیار ہے۔ لیویز فورس 90 فیصد رقبے پر محیط ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے 48 فیصد حصے کو دیکھتی ہے۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ حکومت کو پٹرول میں لیوی سے کیا فایدہ مل رھا ھے؟ یہ عام ٹیکس نہیں، حکومت کی طرف سے لگایا گیا ایک خاص چارج ہے جو 1961 کے قانون Petroleum Products Levy Ordinance کے تحت لگایا جاتا ہے۔
آسان زبان میں سمجھیں توجب آپ 1 لیٹر پٹرول خریدتے ہیں تو اس کی قیمت میں 3 چیزیں شامل ہوتی ہیں:
1. اصل تیل کی قیمت جو سعودی عرب سے آتا ہے
2. کسٹم ڈیوٹی اور کمپنیوں کا منافع
3. حکومت کے ٹیکس اور لیویز۔اس صورتحال میں پٹرول کاموجودہ ریٹ (ستمبر 2026) ہے۔اس طرح
پٹرول پر کل 114 روپے ٹیکس ہے، جس میں سے
پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر ہے
کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر ہے- باقی کسٹم ڈیوٹی اور مارجن
یعنی غریب عوام 389 روپے کا پٹرول ڈالتے ہیں تو اس میں سے 80 روپے سیدھا حکومت کی جیب میں لیوی کے طور پر جاتا ہے۔
حکومت کو اس سے کیا فائدہ پہنچ رھا ھے؟
یہ حکومت کی سب سے آسان آمدنی ہے۔ حکومت نے اس سال اس لیوی سے1.676 کھرب روپے (1676 ارب)جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ جو عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔
یہ پیسہ وفاقی حکومت کے پاس جاتا ہے، اسے صوبوں میں بانٹنا نہیں پڑتا جیسے سیلز ٹیکس بانٹنا پڑتا ہے۔ اسی لیے IMF بھی حکومت کو یہی لیوی بڑھانے کا کہتا ہے۔
اسی لیے جماعت اسلامی اور دوسری جماعتیں اب اسی 80 روپے لیوی کے خاتمے کے لیے دھرنے دے رہی ہیں۔اللہ رب العزت ھمارے ملک کے بے رحم حکمرانوں اور جنونی نا عاقبت اندیش لیڈروں کو عوام کا حقیقی احساس عطا فرمائیں۔ امین۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *