Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
طالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زورلورالائی ایرانی پٹرول پمپس، تندور اور گوشت کی دکانوں کے خلاف کارروائی، دو پمپس سیلطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زورلورالائی ایرانی پٹرول پمپس، تندور اور گوشت کی دکانوں کے خلاف کارروائی، دو پمپس سیل

بابائے بلوچستان شہید نواب محمد اکبر خان بگٹی کی 20ویں برسی کے حوالے سے

تحریر: گل محمد خان جکھرانی

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما نواب اکبرخان بگٹی 12 جولائی 1927 کو بلوچستان کے علاقے بارکھان میں نواب محراب خان بگٹی کے گھر میں جنم لیا نواب اکبر خان نے ایچی سن کالج لاہور، گرامر اسکول کراچی اور آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے تعلیم حاصل کی نواب اکبر خان بگٹی اپنے والد نواب محراب خان بگٹی کی انتقال کے بعد چھوٹی عمر میں اپنے قبیلے کے انیسویں سردار مقرر ہوئے، نواب اکبر خان بگٹی پاکستان کے سینیئر سیاستدان اور بلوچ قوم پرست رہنما تھے نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور گورنر بھی رہ چکے ہیں بہرحال آج 26 اگست 2026 کو نواب اکبر خان بگٹی کی 20واں یوم شہادت کا دن بڑے عقیت و احترام سے منایا جا رہا ہے آج سے 20 سال قبل فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے 86 سالہ بزرگ سیاستدان اور بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کو اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت کوہلو کے ایک پہاڑی علاقے “سنگسیلا” میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعے قتل کرواکے شہید کردیا، بہرحال ایک بات واضح ہے کہ بلوچستان کے اندر بغاوت، بد امنی اور قتل و غارت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کے اندر قتل ہونے والے چاہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہوں یا بلوچ جنگجو ہوں یا بے گناہ غریب مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں اس خونریزی کی وجہ سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اور قتل ہونے والے سارے پاکستانی ہیں، بلوچستان کے اندر بغاوت اور بے چینی کی تاریخ بہت پرانی ہے ایک بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر بلوچ باغی کیوں ہوئے؟ اگر بلوچستان کی تاریخی پس منظر پر نظر ڈالا جائے تو سب کچھ واضع نظر آئیگا بلوچستان کے اندر بے چینی اور بغاوت کی شروعات پاکستان کے وجود آنے کے ایک سال بعد اس وقت شروع ہوا جب 1948 میں حکومت پاکستان نے ریاست قلات کے خلاف کاروائی کرکے خاران لسبیلہ اور مکران کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی پاکستان میں شامل کیا گیا اس طرح خان آف قلات اور قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان اختلافات پیدا ہوئیں کچھ عرصے بعد خان آف قلات میر احمد یار خان نے بوجہ مجبوری ریاست قلات کا الحاق پاکستان کے ساتھ کر دیا ریاست قلات کو پاکستان میں شامل ہونے کے بعد ریاست کی کابینہ کو فوری طور پر برطرف کر دیاگیا حکومت پاکستان کی جانب سے مقرر نمائندے محمد ظریف خان نے ریاست قلات کے وزیراعظم کے حیثت سے اپنی ذمیداریاں سنبھالیں پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ نمائندے نے بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس میں قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے رہنماوں کے علاوہ دیگر بلوچ قوم پرست رہنماؤں میر غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر اور مولانا عرض محمد کو بھی گرفتار کیاگیا اس کے علاوہ قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کو غیر قانونی جماعت قرار دیا گیا، پاکستان کے حکمران طبقے کی جانب سے اس قسم کی ظالمانہ کاروائیوں کی وجہ سے خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس عبدالکریم خان بلوچوں کے خلاف ظالمانہ کاروائیوں کو اپنا توہین سمجھتے ہوئے پاکستان کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اس طرح پرنس عبدالکریم خان پاکستان سے ہجرت کرکے افغانستان چلے گئے کچھ عرصے کے بعد پرنس عبدالکریم خان کو پاکستان سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاسی اکابرین اور افغانستان کی سازش کے تحت قلات واپس آنے کے لیے راضی کیا گیا آٹھ جولائی 1948 کو پرنس عبدالکریم خان نے اپنی جلاوطنی کو ختم کرکے افغانستان سے واپس قلات کے سرزمین پر قدم رکھا جب میر عبدالکریم خان قلات پہنچے تو پولیٹیکل ایجنٹ نے فوری طور پر کوئٹہ سے فوج کو طلب کیا جیسے ہی پرنس عبدالکریم خان “ہربوئی” کے پہاڑی علاقے میں پہنچے تو پاکستانی فوج کے دستوں اور پولیٹیکل ایجنٹ خان بہادر شیر زمان خان نے میر عبدالکریم خان سے ملاقات کی اور ملاقات کے دوران مسٹر ڈی وائی فل “D-Y-Phil” نے پرنس عبدالکریم خان کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ اپنے طے شدہ سے معاہدے سے مکر گئے ہیں اس لیے آپ اپنے آپ کو زیر حراست سمجھیں اس طرح معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور دھوکے بازی سے پرنس عبدالکریم خان کو گرفتار کیا گیا اور فوج کی سخت نگرانی میں پہلے انہیں قلات لایا گیا بعد میں ان کو جیل میں بند کر دیا گیا اس طرح چار دسمبر 1948 کو عبدالکریم خان اور ان کے ساتھیوں محمد حسین، مولوی افضل مینگل، ملک محمد سعید، میر عبدالواحد کرد، میر محمد خان رئیسانی، صوبیدار عبدالرحمان مولوی فقیر محمد، مولوی اللہ یار، ٹکری محمد وفا شاہوانی ٹکری پسند خان اور مولوی محمد اسماعیل سمیت کافی رہنماؤں کو اسپیشل جرگے کے ذریعے مختلف سزائیں دی گئیں اور گرفتار شدہ بلوچ رہنماؤں کو مچ جیل میں بھیج دیا گیا بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں فوجی امروں اور غیر جمہوری قوتوں نے ہمیشہ بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں کی اور پاکستان سے محبت کرنے والے بلوچ رہنماؤں کو ملک دشمن، غدار اور ایجنٹ کہا گیا اور زیادتیوں کی انتہا کر دی گئی اس طرح بلوچوں کو باغی بنایا گیا اس کے علاوہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا یا پھانسیوں پہ چڑھایا گیا، پاکستان کے فوجی آمر جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لیڈروں، سیاسی کارکنوں اور عوام کے ساتھ اتنی زیادتیاں کی گئیں جس کی مثال پوری دنیا کے اندر نہیں ملتی جنرل ایوب خان کے دور میں بلوچستان کے بے گناہ عوام پر اسلحہ اور بارود کا بیجا استعمال کیا گیا اصل میں بلوچستان کے عوام پر ظلم اور زیادتیوں کی شروعات جنرل ایوب خان کی ظالمانہ دور میں شروع ہوئے جنرل ایوب خان کے ظالمانہ فوجی کاروائیوں کی وجہ سے نواب نوروز خان اپنے ساتھیوں سمیت پہاڑوں پر چلے گئے، مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ فوجی آمر جنرل ایوب خان اور اس وقت کی فوجی قیادت نے اپنی مکاری اور منافقانہ عمل سے نواب نوروز خان سے بات چیت کی اور قران پاک پر قسم اٹھا کر نواب نوروز خان کو یقین دلایا کہ آپ پہاڑوں سے نیچے آئیں آپ کے تمام مسائل حل کیے جائیں گے اس طرح نواب نو روز خان نے قران پاک کی قسم اٹھانے اور وعدے کی یقین دہانی کرانے پر پہاڑوں سے نیچے اتر ائے پھر جس طرح جنرل ایوب خان نے قران پاک کی قسم اور وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواب نوروز خان کے بیٹوں اور بھتیجوں کو پہلے گرفتار کیا اور پھر بے رحمی سے ان کو پھانسی پر لٹکا کر قتل شہید کیا گیا جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ جنرل ایوب خان کے اس ظالمانہ اور بے رحمانہ کاروائیوں کی وجہ سے بلوچستان کے ایک بہادر اور ضعیف العمر نواب نوروز خان اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کی شہادت پر خون کے آنسو بہاتے رہے آخرکار وہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کی شہادت کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور اسی صدمے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ بہرحال آج 26 اگست 2026 ہے آج کے دن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور 86 سالہ بزرگ بلوچ قوم پرست رہنما اور بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیراعلیٰ نواب محمد اکبر خان بگٹی کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ایک فوجی اپریشن کے ذریعے قتل کرواکے شہید کرا دیا جنرل پرویز مشرف بھی اپنے سابقہ پیشرو فوجی آمروں کہ نقش قدم پہ چلتے ہوئے بلوچستان کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھا فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے سیاسی اور بلوچ رہنما کو قتل کرایا جو پاکستان کا حامی اور وفاق پر یقین رکھنے والا لیڈر تھا نواب اکبر خان بگٹی ایک محب وطن سیاستدان تھا اور وہ بلوچستان کے واحد رہنما تھے جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کا کوئٹہ میں استقبال کیا، شہید نواب اکبر خان بگٹی کا قصور فقط یہ تھا کہ وہ بلوچستان کے حقوق اور وسائل کے لیے بات کرتا تھا اور بلوچستان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے تھے جس کے پاداش میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ایک ظالمانہ فوجی آپریشن کرکے ایک محب وطن پاکستانی سیاستدان اور 86 سالہ بزرگ بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کو اپنے 60 ساتھیوں سمیت کوہلو کے پہاڑی علاقے میں میزائلوں اور بموں کے ذریعے حملہ کرکے بے دردی سے قتل کرواکر ظلم کی انتہا کر دی نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد بلوچستان کے حالات مزید خراب ہوئے جس کا اندازہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو بھی نہیں تھا، بلوچوں کو کچلنے کیلئے انسانیت سوز ظلم ڈھائے گئے اور بلوچستان کے لیڈروں اور کارکنوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا جس میں نواب اکبر خان بگٹی سمیت سردار عطا اللہ خان مینگل کہ بیٹے اسد اللہ خان مینگل نواب خیر بش خان مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ خان مری حبیب جالب بلوچ، غلام محمد بلوچ سمیت سینکڑوں سیاسی کارکن کے علاوہ شہید حیات بلوچ جیسے بے گناہ نوجوان بھی شامل ہیں، بہرحال 26 اگست 2006 کو جمہوری وطن پارٹی کے بانی سربراہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کو شہید ہوئے 20 سال گزر گئے مگر آج بھی وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عوام کے دلوں پر شہید نواب اکبرخان بگٹی راج کر رہے ہیں۔ نواب اکبرخان بگٹی ایک اصول پرست دلیر اور عظیم سیاستدان تھے نواب اکبر خان بگٹی 1958 میں ڈاکٹر خان کے قتل کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی سیٹ سے کامیاب ہوئے اور وزیر مملکت کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے نواب اکبرخان بگٹی اس وقت چھوٹے قوموں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی پارٹی نیشنل عوامی پارٹی نیپ میں شامل ہوئے جس کی وجہ سے فوجی حکمران جنرل ایوب خان ان پر ناراض ہوئے اور ان کو یہ بات پسند نہیں ائی جس کی وجہ سے جنرل ایوب خان نے نواب اکبرخان بگٹی کو 1960 میں گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا اور ایک فوجی ٹریبونل کے ذریعے نا اہل قرار دے دیا، جب 1970 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے نواب اکبرخان بگٹی کو 1973 میں بلوچستان کا گورنر مقرر کیا مگر کچھ عرصے بعد نواب اکبرخان بگٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے نواب اکبرخان بگٹی نے گورنر بلوچستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا بہرحال جب 1988 میں جنرل ضیا کا جہاز ایک حادثے کا شکار ہوا اور وہ طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے اس کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے ملک کے اندر عام انتخابات کروائے اس وقت کے انتخابات میں نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اس طرح نواب اکبرخان بگٹی 1989 سے لے کر 1990 تک بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے بدقسمتی سے 18 ماہ بعد اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد سے 6 اگست 1990 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے دوبارہ عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا جس میں تمام صوبائی حکومتیں بھی ختم ہو گئے کچھ عرصہ بعد نواب اکبرخان بگٹی نے اپنی سیاسی جماعت کا بنیاد ڈالا جس کا نام جمہوری وطن پارٹی رکھا، 1993 کے عام انتخابات میں نواب اکبرخان بگٹی جمہوری وطن پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا اور اس طرح نواب اکبر خان بگٹی 1993 میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ بہرحال نواب اکبر خان بگٹی ایک صاف گو اور سچے محب وطن سیاستدان اور منفرد اسٹائل رکھنے والے بلوچ قوم پرست رہنما تھے مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ فوجی آمر جنرل پر پرویز مشرف نے ایک سفید ریش بزرگ سیاسی رہنما نواب اکبر خان بگٹی کو کوہلو کے پہاڑی علاقے میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعے شہید کیا، 26 اگست 2006 پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن اور سیاہ ترین باب ہے جس دن ٹائیگر آف بلوچستان اور بلوچ کو پرست رہنما اور بابائے بلوچستان کو اپنے ساتھیوں سمیت بیدردی سے قتل کرکے ظلم کی انتہا کر دی گئی نواب اکبر خان بگٹی تو پاکستان سے پیار کرنے والے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ تھے نواب اکبر خان بگٹی کو اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ بلوچستان کےحقوق اور وسائل کیلئے اواز بلند کرتے تھے اور بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کی بات کرتے تھے جو بات فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں تھی جس کی وجہ سے ایک بزرگ سیاست دان کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔،جنرل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کے بعد سارا کھیل ختم ہو جائے گا مگر یہ ان کی بڑی بھول اور غلطی ثابت ہوئی کیونکہ نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے حالات مزید خراب ہوئے بلوچستان کے اندر بغاوت، قتل و غارت اور دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی معشیت کو نقصان پہنچا ہے ہمارے ملک کے اصل حکمرانوں نے 1971 والی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا، حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کو 1971 والی غلطیاں نہیں دہرانی چاہیں اور بلوچستان کے اندر جو آگ لگی ہوئی ہے اب اس پر پانی ڈالا جائے اگر خدانخواستہ حالات کنٹرول سے باہر نکل گئے تو پھر پاکستان کو نقصان کا اندیشہ ہے, تاریخ گواہ ہے کہ زور زبردستی اور جبری طور پر کسی بھی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا بہرحال آج نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت کا دن ہے نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت پر پاکستان کی عوام اور خاص کر سندھ اور بلوچستان کے عوام دکھی اور رنجیدہ ہے نواب اکبر خان بگٹی کا قتل پاکستان کے تاریخ کا ایک سیاہ ترین اور دردناک باب ہے بلوچستان کا عام آدمی آج بھی نواب اکبر خان بگٹی کو اپنا رہبر اور رہنما سمجھتے ہیں اور انہیں بابائے بلوچستان کرکے پکارتے ہیں ایک بات واضح ہے کہ زندہ بگٹی سے مردہ زیادہ خطرناک ثابت ہوا 26 اگست 2006 پاکستان کے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے واضح رہے 26 کا انگ بگٹی خاندان کے لیے نقصان دہ اور صدمے والا ثابت ہوا جس کی واضح مثال 26 جولائی 2025 کو نواب اکبر خان بگٹی کے بھتیجے میر فہد احمد خان بگٹی کو کراچی میں قتل کیا گیا 26 اگست ہو یا 26 جولائی ہو یہ دونوں دن بگٹی خاندان کے لیے دکھ اور درد کے دن ثابت ہوئےہیں حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ جو بلوچستان کے اصل لیڈر ہیں ان کے ساتھ بات چیت کی جائے اور بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جو معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے اس لیے بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے, بلوچستان کی عوام پیار کرنے والے اور محب وطن مہمان نواڑ پاکستانی ہیں، حکومت پاکستان اور اصل طاقتور حلقوں کو چاہئے کہ بلوچستان کے زخموں پر مرہم پٹی رکھیں اور بلوچوں کے جائز حقوق، وسائل اور مسائل کی طرف توجہ دیں بلوچستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے بلوچستان کے عوام کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنا چاہئے اور ان کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے, نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت نے نہ صرف بلوچستان میں بلکہ سندھ میں بھی بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر غم و غصے کی شدید لہر پیدا کی ہے بلوچستان کا مسئلہ آج بھی ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اس لیے بلوچستان کی صورتحال پر غور کرنے کی زیادہ ضرورت ہے بلوچوں کو شر پسند یا باغی قرار دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے واضع رہے کہ بلوچستان 1948 سے بے چینی اور عدم استحکام کا شکار چلا آ رہاہے بلوچستان میں فوجی آپریشن کا سلسلہ 1948 سے لیکر آخری فوجی آمر جنرل مشرف کے دور سے لیکر آج تک جاری ہے بلوچستان کی بیٹیاں آج بھی اپنے گم شدہ پیاروں کیلئے احتجاج کررہی ہیں اور اسلام آباد میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں، بہرحال بابائے بلوچستان شہید نواب اکبر خان بگثی کو ان کی یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *