Banner
Daily Sahafat Quetta
August 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
طالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زورلورالائی ایرانی پٹرول پمپس، تندور اور گوشت کی دکانوں کے خلاف کارروائی، دو پمپس سیلطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زورلورالائی ایرانی پٹرول پمپس، تندور اور گوشت کی دکانوں کے خلاف کارروائی، دو پمپس سیل

خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خان

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )سکینہ عبداللہ خان
چیئرپرسن، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ بلوچستان
PPP، DGS، ویمن ونگ بلوچستان
سیاستدان | ماہرِ تعلیم | سماجی و انسانی حقوق کی کارکن آئی ٹی، ٹی وی ای ٹی، ڈیجیٹل و ای گورننس کنسلٹنٹ | پالیسی بورڈ ممبرنے بلوچستان کی خواتین، ماؤں اور بیٹیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد، ہراسانی، اغوا اور دیگر جرائم پر خاموش رہنے کے بجائے سب کو مل کر آواز اٹھانا ہوگی، کیونکہ خاموشی سے ظلم ختم نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات متاثرہ افراد کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا تحفظ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، سماجی کارکنان، سیاسی و مذہبی رہنما، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں خواتین اور بچے خود کو محفوظ سمجھیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں بلاخوف متعلقہ اداروں سے رابطہ کر سکیں۔سکینہ عبداللہ خان نے کہا کہ خواتین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے مسائل میں اکیلی نہیں ہیں۔ ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے فورمز سے مدد لی جا سکتی ہے۔ خواتین کو تشدد، ہراسانی یا کسی بھی قسم کے استحصال کو برداشت یا چھپانے کے بجائے بروقت شکایت درج کرانی چاہیے تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکے۔
انہوں نے خواتین کے لیے پولیس سہولتی مراکز اور ویمن ڈیسک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اپنی شکایات درج کرانے کے لیے دستیاب قانونی اور ادارہ جاتی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہراسانی یا تشدد کے واقعات کو معمول سمجھنا بہت نقصان دہ ہے، اس لیے ہر واقعے کو سنجیدگی سے لینا اور متعلقہ اداروں تک پہنچانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے متاثرین کو طبی، قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ون اسٹاپ سہولیات اور دیگر مراکز کے ذریعے متاثرین کو ایک ہی جگہ پر مختلف نوعیت کی مدد دی جا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے مراکز کی سہولت بلوچستان کے تمام اضلاع تک پہنچائے تاکہ دور دراز علاقوں کی خواتین اور بچے بھی بروقت مدد حاصل کر سکیں۔
سکینہ عبداللہ خان نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق بنیادی حفاظتی آگاہی دیں۔ بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص انہیں غیر محفوظ محسوس کرائے یا ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ فوراً اپنے والدین، استاد یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں اعتماد اور کھلی گفتگو کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بچے کے لاپتہ ہونے، اغوا یا کسی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں اور واقعے کو چھپانے یا دیر کرنے سے گریز کریں۔ بروقت اطلاع اور فوری کارروائی ممکنہ نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے عوام کو پولیس ایمرجنسی 15، وزارتِ انسانی حقوق کی ہیلپ لائن 1099 اور چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق دستیاب ہیلپ لائن 1121 کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں متعلقہ سرکاری اداروں سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے۔ تاہم، ہیلپ لائن نمبرز اور ان کے دائرۂ کار کے بارے میں سرکاری ذرائع سے تازہ معلومات کی تصدیق بھی کرتے رہنا ضروری ہے۔سکینہ عبداللہ خان نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں جو بچوں کو تشدد، استحصال، اغوا اور دیگر جرائم سے بچانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب ان پر بلاامتیاز عملدرآمد ہو اور متاثرین کو فوری انصاف ملے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے قوانین، جووینائل جسٹس کے نظام اور بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے بارے میں والدین اور معاشرے کو مزید آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور اداروں کے بارے میں ضلعی سطح پر آگاہی مہمات کو مزید بڑھایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمری کی شادی بچیوں کے مستقبل، تعلیم، صحت اور تحفظ سے جڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس کے حل کے لیے قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ساتھ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ بچیوں کو تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر مستقبل کے مواقع مل سکیں۔
سکینہ عبداللہ خان نے کہا کہ ایک شکایت نہ صرف متاثرہ فرد کو انصاف دلانے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ مستقبل میں کئی دوسرے لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ تشدد یا ہراسانی کو اپنی قسمت سمجھ کر برداشت نہ کریں، اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہوں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ خاندان ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد ہے، جبکہ محفوظ ماں اور محفوظ بچہ محفوظ بلوچستان کی ضمانت ہیں۔ حکومت، پولیس، عدلیہ، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور عوام کو مل کر خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول بنانا ہوگا۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ بلوچستان کی چیئرپرسن نے یقین دلایا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے تمام ذمہ دار حلقے متاثرین کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور قانون کے مطابق انصاف دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ فرض ہے۔
انہوں نے آخر میں بلوچستان کی خواتین، ماؤں اور بیٹیوں سے اپیل کی کہ ڈرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، ظلم اور ہراسانی کو چھپانے کے بجائے رپورٹ کریں اور اپنے بچوں کو تحفظ، اعتماد اور بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی شعور، بروقت اطلاع اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے بلوچستان کو خواتین اور بچوں کے لیے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *