Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گیریژن سٹیٹ، دفاعی ضروریات اور قومی ترقی کا نادیدہ توازنوزیراعظم شہباز شریف کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسبلوچستان میں گڈ گورننس کی جانب بڑا قدم، 10 محکموں میں سمریز کی ڈیجیٹلائزیشن شروعوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئےکوئٹہ: سبزل روڈ پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحقبرازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گاگیریژن سٹیٹ، دفاعی ضروریات اور قومی ترقی کا نادیدہ توازنوزیراعظم شہباز شریف کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسبلوچستان میں گڈ گورننس کی جانب بڑا قدم، 10 محکموں میں سمریز کی ڈیجیٹلائزیشن شروعوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئےکوئٹہ: سبزل روڈ پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحقبرازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گا

پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلئے امریکی ویزوں کا اجرا معطل کرنے کی پالیسی کالعدم قرار

پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلئے امریکی ویزوں کا اجرا معطل کرنے کی پالیسی کالعدم قرار

امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کا اجرا معطل کردیا گیا تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ پالیسی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مین ہٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے کہا کہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جنوری میں اعلان کی گئی یہ پالیسی واضح طور پر غیر قانونی اور وفاقی امیگریشن قوانین سے متصادم تھی۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار کی قومیت کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزے کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کرنا قانون میں وضع کردہ طریقہ کار کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔

محکمہ خارجہ کی جانب سے جنوری میں نافذ کی گئی اس پالیسی سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک متاثر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ لاطینی امریکا کے برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے، بوسنیا اور البانیہ سمیت افریقہ، مشرق وسطیٰ اور متعدد کیریبین ممالک بھی اس فہرست میں شامل تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان ممالک کے درخواست گزاروں کے امریکا میں حکومت پر مالی بوجھ بننے اور وفاقی، ریاستی یا مقامی سرکاری وسائل سے استفادہ کرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ یہ فیصلہ امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں کیتھولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک اور افریقن کمیونٹیز ٹوگیدر کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں سامنے آیا۔ مقدمے میں ان امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں اور امریکی شہریوں نے بھی حصہ لیا تھا جو مقررہ ممالک سے اپنے اہل خانہ کو امریکا بلانے کے لیے اسپانسر کر رہے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ جج جینیٹ ورگاس سابق ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ جج ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جس کا ان کے مطابق مقصد امریکا کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کارروائیاں آزادیٔ اظہار اور قانونی تقاضوں کے خلاف ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *