Banner
Daily Sahafat Quetta
September 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان 16 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطسولر پینلز اور بیٹریز کی مقامی صنعت کے فروغ کی قرارداد منظورنواب ایاز جوگیزئی بلوچ قوم کے ساتھ جرگہ کریں، ہم نے ایک ساتھ چلنا ہے، محمود خان اچکزئیمحمود اچکزئی کا جرگے سے خطاب، پُرامن رہنے کا اعلانملک میں نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں؟ وفاقی وزیر قانون کا اہم بیان سامنے آگیاامریکا کے تازہ حملوں میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا کا دعویٰپیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار مقبول احمد شیخ کی حاجی محمد صالح شیخ سے تعزیتبلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے ،صوبائی وزراءو اراکین صوبائی اسمبلیحکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے ،راحیلہ درانیبھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، ظہور بلیدیپاکستان اور کرغزستان کے درمیان 16 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطسولر پینلز اور بیٹریز کی مقامی صنعت کے فروغ کی قرارداد منظورنواب ایاز جوگیزئی بلوچ قوم کے ساتھ جرگہ کریں، ہم نے ایک ساتھ چلنا ہے، محمود خان اچکزئیمحمود اچکزئی کا جرگے سے خطاب، پُرامن رہنے کا اعلانملک میں نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں؟ وفاقی وزیر قانون کا اہم بیان سامنے آگیاامریکا کے تازہ حملوں میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا کا دعویٰپیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار مقبول احمد شیخ کی حاجی محمد صالح شیخ سے تعزیتبلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے ،صوبائی وزراءو اراکین صوبائی اسمبلیحکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے ،راحیلہ درانیبھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، ظہور بلیدی

نئے صوبے نہیں، پہلے ترقی چاہیے

نئے صوبے نہیں، پہلے ترقی چاہیے

تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ

پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے اور اس کے مختلف صوبے اپنی جغرافیائی، ثقافتی، لسانی اور تاریخی شناخت رکھتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ملک میں نئے صوبے بنانے کی بحث زور پکڑتی رہی ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کو تقسیم کرکے نئے صوبے قائم کیے جائیں تاکہ انتظامی امور بہتر ہوں، عوام کو سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے زیادہ مواقع حاصل ہوں۔ بلاشبہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل ایک قابلِ غور معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن آج سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانا ہی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے؟
میرے خیال میں پاکستان کو اس وقت نئے صوبوں سے زیادہ موجودہ صوبوں کی حقیقی، متوازن اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔
ہم اگر اپنے موجودہ صوبوں کا جائزہ لیں تو حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوجاتی ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی کے کئی علاقوں میں آج بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ سندھ کے اندر شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ترقی کا واضح فرق موجود ہے۔ خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع کو بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پنجاب کے جنوبی اور پسماندہ علاقوں میں بھی ترقی کے ثمرات یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر موجودہ صوبوں کے اندر ہی ترقیاتی وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم نہیں ہو رہے تو نئے صوبے بننے کے بعد کیا واقعی مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے؟
صوبہ چھوٹا ہونا ترقی کی ضمانت نہیں۔
ترقی کا تعلق صرف انتظامی نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف نظام، بہتر منصوبہ بندی، مؤثر بلدیاتی حکومت، تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت، مواصلات اور امن و امان سے ہے۔ اگر ایک علاقے کو صوبے کا درجہ دے بھی دیا جائے لیکن وہاں اسکولوں کی حالت خراب، اسپتالوں میں سہولیات ناپید، سڑکیں خستہ حال، صنعتیں بند اور روزگار کے مواقع محدود ہوں تو صرف صوبے کا نام تبدیل ہونے سے عوام کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
پاکستان میں ترقی کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر استعمال ہے۔ کئی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تو بڑے بڑے ہوتے ہیں، مگر عملی طور پر منصوبے برسوں تک نامکمل رہتے ہیں۔ کہیں سڑک بن جاتی ہے مگر نکاسیٔ آب کا نظام نہیں ہوتا، کہیں اسکول کی عمارت تعمیر ہوجاتی ہے مگر اساتذہ موجود نہیں ہوتے، کہیں اسپتال قائم ہوجاتا ہے مگر ڈاکٹر اور ادویات دستیاب نہیں ہوتیں۔ یہی وہ بنیادی مسائل ہیں جنہیں حل کیے بغیر نئے صوبوں کی بحث عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
خاص طور پر بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وسیع و عریض صوبے میں آج بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں عوام کو معیاری تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی، گیس، سڑکوں اور روزگار کی بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلع سطح پر موجود سرکاری اداروں کو مضبوط بنایا جائے، ضلعی اور تحصیل سطح پر اختیارات منتقل کیے جائیں اور مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار کیا جائے تو دور دراز علاقوں کے عوام کو ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔
اسی طرح سندھ میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ اندرونِ سندھ کے اضلاع کو بھی ترقیاتی عمل میں برابر کا حصہ دیا جائے۔ تھر، بدین، سجاول، دادو، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں کے عوام کو تعلیم، صحت، آبپاشی، زراعت اور روزگار کی وہی سہولیات ملنی چاہئیں جو کسی بھی بڑے شہر کے شہری کا بنیادی حق ہیں۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ ترقی کا مرکز صرف بڑے شہر نہیں بلکہ ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر یونین کونسل ہونی چاہیے۔
اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں تمام اختیارات اپنے پاس رکھنے کے بجائے مضبوط بلدیاتی نظام قائم کریں، منتخب مقامی نمائندوں کو مالی اور انتظامی اختیارات دیں اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی ترجیحات کو اہمیت دیں تو بہت سے مسائل صوبائی تقسیم کے بغیر بھی حل ہوسکتے ہیں۔
نئے صوبے بنانے کے حامیوں کی یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام مشکل ہوتا ہے اور بعض علاقوں کو نظر انداز کیے جانے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس مسئلے کا ایک راستہ انتظامی اصلاحات بھی ہے۔ ہر مسئلے کا حل نئی سرحد نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نظام کی اصلاح، اختیارات کی تقسیم اور احتساب کا مؤثر طریقہ اس سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نئے صوبے بنانے کے عمل میں سیاسی، انتظامی اور مالی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ نئی اسمبلی، نئی بیوروکریسی، نئے محکمے، نئے دفاتر اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے بڑے وسائل درکار ہوں گے۔ اگر یہی وسائل پہلے سے موجود صوبوں کے پسماندہ اضلاع میں اسکول، کالج، اسپتال، سڑکیں، پانی کے منصوبے، صنعتی زون اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیے جائیں تو شاید لاکھوں لوگوں کی زندگی فوری طور پر بہتر ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نئے صوبوں کی ضرورت یا مطالبات کو یکسر مسترد کردیا جائے۔ اگر مستقبل میں کسی علاقے کی آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت اور عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبے کی تشکیل ناگزیر ثابت ہو تو اس پر آئینی اور جمہوری طریقے سے سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ لیکن اس بحث کو سیاسی نعرے کے بجائے عوامی فلاح اور انتظامی بہتری کے معیار پر پرکھنا ہوگا۔
آج پاکستان کو نقشے پر نئی لکیروں سے زیادہ ترقی کی نئی سمت کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بلوچستان کے دور دراز علاقے کا بچہ بھی معیاری تعلیم حاصل کرسکے، سندھ کے دیہی علاقے کا مریض بھی بہتر علاج حاصل کرسکے، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے کے نوجوان کو روزگار کا موقع مل سکے اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع کے کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت مل سکے۔
ہمیں ایسے صوبے چاہئیں جو صرف بڑے شہروں تک محدود نہ ہوں بلکہ اپنے آخری گاؤں تک ریاست کی موجودگی محسوس کرا سکیں۔
آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے کہ نئے صوبے بنانا ایک انتظامی آپشن ہوسکتا ہے، مگر ترقی کا متبادل نہیں۔ اگر ہم موجودہ صوبوں کے اندر تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت، مواصلات، بلدیاتی نظام، شفافیت اور انصاف کو مضبوط بنا دیں تو پاکستان کے بیشتر بنیادی مسائل کا حل اسی موجودہ انتظامی ڈھانچے کے اندر تلاش کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کو مزید صوبوں سے پہلے مزید ترقی یافتہ اضلاع، مضبوط ادارے، بااختیار مقامی حکومتیں اور منصفانہ نظام درکار ہے۔
نقشے پر لکیر کھینچنے سے پہلے ہمیں ترقی کی لکیر آخری شہری کی دہلیز تک پہنچانی ہوگی۔ یہی حقیقی قومی خدمت ہے، یہی متوازن ترقی ہے اور یہی ایک مضبوط، خوشحال اور متحد پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *