Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پانی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، سیاسی دباؤ کیلیے ہتھیار بنا لینا قابلِ قبول نہیں، وزیراعظمسندھ حکومت کا بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور، انتخابات سے متعلق اہم فیصلہکوالالمپور میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، روح پرور محفل کا انعقادبلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حلنوشکی واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،پروفیسر حلیم صادق27 ستمبر کا لانگ مارچ سیاست کا رخ بدل دےگا،سید صادق آغاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدمپانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، وزیراعظماسپتال کی تعمیر پر تنازع ، ہنگو میں جے یو آئی کے سابق تحصیل ناظم سمیت 3 افراد قتلطوفانی بارش سے راولپنڈی، اسلام آباد کے کئی علاقے زیر آب، 2 افراد جاں بحقپانی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، سیاسی دباؤ کیلیے ہتھیار بنا لینا قابلِ قبول نہیں، وزیراعظمسندھ حکومت کا بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور، انتخابات سے متعلق اہم فیصلہکوالالمپور میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، روح پرور محفل کا انعقادبلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حلنوشکی واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،پروفیسر حلیم صادق27 ستمبر کا لانگ مارچ سیاست کا رخ بدل دےگا،سید صادق آغاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدمپانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، وزیراعظماسپتال کی تعمیر پر تنازع ، ہنگو میں جے یو آئی کے سابق تحصیل ناظم سمیت 3 افراد قتلطوفانی بارش سے راولپنڈی، اسلام آباد کے کئی علاقے زیر آب، 2 افراد جاں بحق

بلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حل

بلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حل
تحریر، ناصر شاہوانی
انتظامی تقسیم قومی کمزوری نہیں، عوامی سہولت اور مضبوط وفاق کی ضمانت ہے۔ بلوچستان میں نئے صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا مسئلہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے، عوامی سہولیات اور دور دراز علاقوں کی ترقی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً نئے صوبوں کے قیام کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں، لیکن اگر اس معاملے کو خالصتاً جغرافیائی وسعت، انتظامی ضروریات، عوامی رسائی اور ترقیاتی مشکلات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بلوچستان اس بحث میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل صوبہ نظر آتا ہے۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی جغرافیائی وسعت، دشوار گزار علاقے، طویل فاصلے، منتشر آبادیاں، سرحدی خطے اور قومیتی تنوع اسے ملک کے دیگر صوبوں سے مختلف بناتے ہیں۔ یہی خصوصیات اس سوال کو مزید اہم بناتی ہیں کہ کیا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو ایک ہی صوبائی دارالحکومت اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ذریعے مستقبل میں بھی مؤثر انداز میں چلایا جاسکتا ہے یا وقت آگیا ہے کہ انتظامی ضروریات کے مطابق نئی صوبائی یا علاقائی اکائیوں کے قیام پر سنجیدہ قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔بلوچستان کے مسئلے کو صرف آبادی کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ بعض حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ بلوچستان کی آبادی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے، اس لیے یہاں مزید صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی ضرورت نہیں، لیکن یہ دلیل بلوچستان کی اصل جغرافیائی حقیقت کو نظر انداز کردیتی ہے۔ حکمرانی صرف آبادی کے اعداد و شمار کا نام نہیں بلکہ جغرافیہ، فاصلے، مواصلات، ریاستی رسائی اور عوامی سہولت کا نام بھی ہے۔ ایک چھوٹے رقبے اور گنجان آبادی والے صوبے کے انتظامی مسائل اور ہوتے ہیں، جبکہ ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے، پہاڑی سلسلوں، صحرائی علاقوں، ساحلی پٹی اور دور دراز بستیوں پر مشتمل خطے کو چلانے کے مسائل بالکل مختلف ہوتے ہیں۔بلوچستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کیلئے طویل سفر درکار ہوتا ہے اور بعض علاقوں کے شہریوں کیلئے صوبائی دارالحکومت تک رسائی آسان نہیں۔ یہی جغرافیائی فاصلہ حکومتی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری نگرانی اور عوامی مسائل کے فوری حل میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔بلوچستان کا موجودہ انتظامی نظام بڑی حد تک کوئٹہ مرکز ہے۔ صوبائی اسمبلی، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، اہم سرکاری محکمے اور فیصلہ سازی کے بڑے مراکز کوئٹہ میں موجود ہیں۔ کوئٹہ کی تاریخی، سیاسی اور انتظامی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، مگر بلوچستان صرف کوئٹہ کا نام نہیں۔ گوادر بھی بلوچستان ہے، تربت بھی بلوچستان ہے، خضدار بھی بلوچستان ہے، ژوب بھی بلوچستان ہے، سبی، نصیرآباد، جعفرآباد، چمن، قلات، لورالائی، بارکھان، پنجگور، خاران، دالبندین اور دیگر دور دراز علاقے بھی اسی صوبے کا حصہ ہیں۔ ان تمام علاقوں کے مسائل، ضروریات اور جغرافیائی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ساحلی علاقوں کو ماہی گیری، پانی، سمندری وسائل اور بندرگاہوں سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، سرحدی علاقوں کے اپنے معاشی اور انتظامی مسائل ہیں، زرعی علاقوں کو پانی اور آبپاشی کی مشکلات درپیش ہیں، معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کے مسائل اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہیں جبکہ پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت، تعلیم، سڑکوں اور مواصلاتی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ایسے متنوع اور وسیع خطے کو ایک ہی انتظامی مرکز سے یکساں طور پر چلانا عملی طور پر انتہائی مشکل کام ہے۔ بلوچستان کے عوام کی ایک بڑی شکایت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ دور دراز علاقوں کے مسائل کے حل میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ ایک عام شہری کا مسئلہ مقامی دفتر سے شروع ہوکر ضلعی انتظامیہ، ڈویژنل حکام اور پھر صوبائی دارالحکومت تک پہنچتا ہے۔ اس طویل انتظامی عمل میں بعض اوقات ایک معمولی مسئلہ بھی برسوں تک حل نہیں ہوپاتا۔ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، فنڈز کی فراہمی، سرکاری نگرانی اور عملی تکمیل میں بھی اسی قسم کی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ جب ایک حکومت کو وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے درجنوں اضلاع اور ہزاروں بستیوں کے مسائل دیکھنے ہوں تو ہر علاقے تک فوری اور مؤثر رسائی ممکن نہیں رہتی۔ کوئٹہ میں بیٹھ کر کسی دور افتادہ علاقے میں قائم ہونے والے اسکول، ہسپتال، سڑک، ڈیم، واٹر سپلائی اسکیم یا کسی دوسرے ترقیاتی منصوبے کی حقیقی صورتحال کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ سرکاری رپورٹیں اور فائلیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر زمینی حقائق کو براہ راست دیکھنے کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی مراکز کو عوام کے قریب لانے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ بلوچستان صرف ایک وسیع جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ مختلف قومیتی، لسانی اور ثقافتی شناختوں کا مشترکہ گھر بھی ہے۔ بلوچ، پشتون، براہوی، ہزارہ اور دیگر قومیتی و لسانی گروہوں نے اس خطے کی تاریخ، تہذیب اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شمالی بلوچستان کی جغرافیائی اور سماجی صورتحال جنوبی بلوچستان سے مختلف ہے۔ مکران کے ساحلی علاقوں کی معیشت شمالی سرحدی علاقوں سے الگ ہے۔ وسطی بلوچستان کے مسائل مشرقی میدانی علاقوں سے مختلف ہیں۔ بعض علاقوں کی معیشت زراعت اور مویشی بانی پر قائم ہے جبکہ بعض علاقوں میں معدنی وسائل، تجارت، ماہی گیری اور سرحدی کاروبار اہم معاشی ذرائع ہیں۔ اس تنوع کو انتظامی منصوبہ بندی میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر علاقے کیلئے ایک جیسی پالیسی ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔ ساحلی علاقے کیلئے جو ترقیاتی ترجیحات ضروری ہیں، وہ پہاڑی یا زرعی علاقے کیلئے کافی نہیں ہوسکتیں۔ یہی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل کو زیادہ مقامی اور علاقائی سطح تک منتقل کیا جائے۔بلوچستان میں نئے صوبوں کی بحث کو سب سے زیادہ حساس بنانے والا مسئلہ قومیتی شناخت ہے۔ بعض حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئی انتظامی تقسیم سے بلوچستان کی تاریخی شناخت متاثر ہوسکتی ہے یا مختلف قومیتی گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ خدشات اپنی جگہ قابل توجہ ہیں اور کسی بھی انتظامی اصلاحات کے عمل میں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قومیتی شناخت اور انتظامی حدود ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کسی علاقے کی انتظامی سرحد تبدیل ہونے سے وہاں بسنے والے لوگوں کی زبان، ثقافت، تاریخ اور قومیتی شناخت ختم نہیں ہوجاتی۔ انتظامی اصلاحات کا مقصد کسی قوم کو تقسیم کرنا یا کسی شناخت کو نقصان پہنچانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت کو عوام کے قریب لانا اور ریاستی سہولیات تک رسائی آسان بنانا ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی اکائی کی بحث کو بلوچ اور پشتون یا کسی دوسرے قومیتی گروہ کے درمیان تقسیم کے طور پر پیش کرنا نقصان دہ ہوگا۔اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو کس قسم کے انتظامی نظام کی ضرورت ہے اور کس طرح عوام کو زیادہ بہتر حکمرانی فراہم کی جاسکتی ہے۔ نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا ایک اہم فائدہ سیاسی اور عوامی نمائندگی میں بہتری بھی ہوسکتا ہے۔ جب ایک صوبہ بہت وسیع ہو اور اس کے مختلف علاقے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور ہوں تو بعض علاقوں کے لوگوں کو یہ احساس پیدا ہوسکتا ہے کہ ان کی آواز فیصلہ سازی کے مرکزی حلقوں تک پوری طرح نہیں پہنچ رہی۔ چھوٹے اور قابل انتظام صوبوں میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہوسکتا ہے۔ صوبائی اسمبلی اور سرکاری ادارے لوگوں کے زیادہ قریب آسکتے ہیں۔ وزراء اور انتظامی حکام اپنے علاقوں کے مسائل سے زیادہ براہ راست واقف ہوسکتے ہیں۔شہریوں کیلئے سرکاری دفاتر تک رسائی آسان ہوسکتی ہے اور ترقیاتی ترجیحات مقامی ضروریات کے مطابق طے کی جاسکتی ہیں۔جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ عوام کو حکومت تک آسان رسائی فراہم کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر شہری ووٹ تو دے لیکن اپنے روزمرہ مسائل کے حل کیلئے حکومت کے دروازوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو تو جمہوری نظام کی افادیت محدود ہوجاتی ہے۔بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں حکومت اور عوام کے درمیان اس فاصلے کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ترقی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ سرکاری ادارے، بڑے ہسپتال، یونیورسٹیاں، عدالتی سہولیات اور انتظامی دفاتر محدود شہروں میں مرکوز رہتے ہیں۔ اگر مختلف علاقوں میں مضبوط انتظامی مراکز قائم ہوں تو ترقیاتی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ نئے سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، عدالتیں، مواصلاتی منصوبے اور کاروباری سرگرمیاں ان علاقوں میں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایک انتظامی مرکز کا قیام صرف سرکاری عمارتوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ روزگار، تجارت، رہائش، تعلیم اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ بلوچستان کے مختلف خطوں میں ترقی کا یہ توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ صوبے کی تمام ترقی ایک یا دو بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔اگر شمالی، جنوبی، وسطی یا مشرقی بلوچستان کے مختلف علاقوں کو اپنی ضروریات کے مطابق مضبوط انتظامی اختیارات حاصل ہوں تو مقامی مسائل کے حل میں بہتری آسکتی ہے۔ ساحلی بلوچستان کی اہمیت پاکستان کے مستقبل میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گوادر اور مکران کا پورا ساحلی خطہ جغرافیائی، اقتصادی اور بین الاقوامی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ بندرگاہیں، سمندری تجارت، ماہی گیری اور علاقائی رابطے اس خطے کو ایک خاص حیثیت دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ساحلی علاقوں کے عوام کو پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود مقامی آبادی کی ضروریات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ ایسے علاقے کیلئے مقامی سطح پر مضبوط انتظامی اختیار اور مؤثر حکمرانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر فیصلے ہمیشہ ایک دور دراز مرکز سے ہوں گے تو مقامی مسائل اور ترجیحات کو مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح شمالی بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے مسائل اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ وہاں سرحدی تجارت، آمدورفت، زراعت، روزگار اور علاقائی امن و امان کے مسائل اہمیت رکھتے ہیں۔ مشرقی بلوچستان کے کئی علاقوں کی معیشت زراعت اور آبپاشی سے وابستہ ہے جبکہ وسطی اور مغربی بلوچستان کے علاقوں کو پانی کی قلت، خشک سالی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کے مختلف خطوں کیلئے ایک ہی انتظامی پالیسی کافی نہیں ہوسکتی۔ بلوچستان کے بارے میں شاید سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اس کا رقبہ بہت بڑا ہے اور بہت سے علاقوں میں حکومت عوام سے دور محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوری صرف میلوں اور کلومیٹروں کی نہیں بلکہ انتظامی، ترقیاتی اور فیصلہ سازی کی دوری بھی ہے۔جب کسی دور دراز علاقے کے شہری کو یہ محسوس ہو کہ اس کے مسائل حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں یا اس کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچنے میں بہت وقت لیتی ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہوسکتا ہے۔ حکومت کو صرف اپنے دفاتر اور قوانین کے ذریعے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور عملی رسائی کے ذریعے بھی اپنی موجودگی ثابت کرنا ہوتی ہے۔ نئے صوبوں یا مضبوط انتظامی اکائیوں کا بنیادی تصور بھی یہی ہے کہ حکومت کا دائرہ اس انداز میں منظم کیا جائے کہ اس کی رسائی زیادہ مؤثر اور عوام کے قریب ہو۔ انتظامی بوجھ تقسیم ہو، فیصلوں میں تاخیر کم ہو اور مقامی مسائل کا حل مقامی سطح پر تلاش کیا جاسکے۔
نئے صوبوں کے مخالفین کی ایک اہم دلیل یہ ہوتی ہے کہ مزید صوبوں کے قیام سے سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ نئے سیکریٹریٹ، اسمبلیاں، سرکاری دفاتر اور انتظامی ادارے قائم کرنا پڑیں گے، جس کیلئے وسائل درکار ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ ابتدائی مرحلے میں نئے انتظامی ڈھانچے کیلئے مالی وسائل کی ضرورت ہوگی، لیکن اس معاملے کو صرف اخراجات کے نقطہ نظر سے دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ اگر ایک نیا انتظامی مرکز مستقبل میں لاکھوں شہریوں کیلئے صحت، تعلیم، انصاف اور روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے تو اس کے طویل المدتی فوائد بھی سامنے رکھنے چاہئیں۔ اگر دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے معمولی سرکاری کاموں کیلئے سینکڑوں کلومیٹر سفر نہیں کرنا پڑے گا تو ان کا وقت اور مالی وسائل بچیں گے۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مقامی سطح پر بہتر ہوگی تو سرکاری وسائل کے ضیاع میں بھی کمی آسکتی ہے۔اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے حوالے سے ایک جامع معاشی اور انتظامی جائزہ ضروری ہے جس میں اخراجات کے ساتھ عوامی اور معاشی فوائد کو بھی شامل کیا جائے۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے، مگر اس کے باوجود صوبے کے متعدد علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی تضاد انتظامی نظام اور وسائل کی تقسیم پر سوالات پیدا کرتا ہے۔ جن علاقوں سے قدرتی وسائل حاصل ہوتے ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کو ترقی کے کتنے مواقع ملتے ہیں؟ جن علاقوں میں بڑے منصوبے جاری ہیں، وہاں کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے کیا امکانات پیدا ہوتے ہیں؟ کیا مقامی لوگوں کو صحت، تعلیم، پانی اور بنیادی سہولیات میں مناسب حصہ ملتا ہے؟ یہ سوالات مستقبل کی انتظامی اصلاحات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اختیارات اور وسائل کا استعمال زیادہ مقامی سطح پر ہوگا تو عوامی نگرانی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مقامی ضروریات کے مطابق طے کی جاسکتی ہیں۔ تاہم کسی بھی نئے انتظامی نظام سے پہلے وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے واضح اور قابل قبول اصول طے کرنا ضروری ہوگا تاکہ کسی علاقے کو دوسرے علاقے کے مقابلے میں محرومی کا احساس نہ ہو۔یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو صرف صوبائی سطح تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر بلوچستان میں مستقبل میں نئی صوبائی یا علاقائی اکائیاں قائم بھی ہوجائیں لیکن اختیارات پھر بھی صرف نئے دارالحکومتوں میں محدود رہیں تو عام شہری کو مطلوبہ فائدہ نہیں ملے گا۔ اصل اصلاحات کا عمل صوبائی سطح سے نیچے تک جانا چاہیے۔ مضبوط بلدیاتی نظام، بااختیار ضلعی حکومتیں، فعال تحصیلیں اور وسائل سے مستحکم مقامی ادارے ہی حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کا حل فراہم کرسکتے ہیں۔ یونین کونسل اور ضلعی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے بغیر نئے صوبوں کا تصور ادھورا رہے گا۔بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام بہت سے ایسے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرسکتا ہے جن کیلئے آج صوبائی دارالحکومت تک فائلیں اور درخواستیں بھیجنی پڑتی ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام قومی یکجہتی کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن اس کے برعکس یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا محرومی، عدم نمائندگی، ترقیاتی عدم توازن اور طویل انتظامی فاصلے قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں؟ ایک مضبوط وفاق کی بنیاد صرف ایک طاقتور مرکز نہیں بلکہ ایسی مضبوط انتظامی اکائیاں بھی ہوتی ہیں جن کے عوام خود کو ریاستی نظام کا برابر حصہ محسوس کریں۔ جب لوگوں کو اپنے علاقوں میں بہتر نمائندگی ملتی ہے، جب ان کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے ہیں اور جب ترقی کے مواقع ان کے دروازے تک پہنچتے ہیں تو ریاست پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کو اگر دانشمندی، عوامی مشاورت اور آئینی طریقہ کار کے تحت تشکیل دیا جائے تو وہ قومی کمزوری کے بجائے قومی استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔بلوچستان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بھی بڑا فیصلہ وہاں کے عوام کی رائے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کا معاملہ بند کمروں میں بیٹھ کر طے نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر وسیع عوامی مکالمہ ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنا واضح مؤقف دینا چاہیے، دانشوروں اور ماہرین کو تحقیق کی بنیاد پر تجاویز پیش کرنی چاہئیں، صحافیوں کو دور دراز علاقوں کے عوام کی آواز سامنے لانی چاہیے اور نوجوانوں سمیت تمام قومیتی گروہوں کو اس بحث میں شامل کیا جانا چاہیے۔ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت اور قومیتی تنوع کو دیکھتے ہوئے کسی بھی انتظامی تبدیلی کیلئے مکمل مشاورت اور اعتماد سازی ناگزیر ہوگی۔ ایک ایسا آزاد اور بااختیار کمیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں ماہرین قانون، جغرافیہ دان، معاشی ماہرین، انتظامی افسران، سیاسی نمائندے، دانشور، سماجی رہنما اور مختلف علاقوں کے نمائندے شامل ہوں۔ یہ کمیشن بلوچستان کے موجودہ انتظامی نظام کا تفصیلی جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ کن علاقوں میں حکومتی رسائی کم ہے، کہاں ترقیاتی محرومی زیادہ ہے، کون سے علاقے انتظامی طور پر دور ہیں اور مستقبل میں کس قسم کی انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ کمیشن صرف نئے صوبوں کے قیام کے مسئلے تک محدود نہ ہو بلکہ تمام ممکنہ متبادل انتظامی نظاموں کا جائزہ لے۔ بعض علاقوں کیلئے مکمل صوبائی حیثیت مناسب ہوسکتی ہے، بعض کیلئے مضبوط علاقائی حکومت یا بااختیار انتظامی زون زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں اور بعض علاقوں میں بلدیاتی و ضلعی نظام کو مضبوط بنا کر بھی عوامی مشکلات کم کی جاسکتی ہیں۔ اصل مقصد کسی پہلے سے طے شدہ نقشے کو نافذ کرنا نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کیلئے بہترین انتظامی نظام تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ ہر اصلاح کا مرکز عوامی سہولت، ترقی، نمائندگی اور حکومتی رسائی ہونی چاہیے۔ بلوچستان کے مستقبل کا سوال صرف موجودہ سیاسی حالات کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آج یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آنے والے بیس یا تیس سال بعد بلوچستان کی انتظامی ضروریات کیا ہوں گی؟ کیا بڑھتی ہوئی ضروریات کے باوجود تمام بڑے فیصلے ایک ہی مرکز سے ہوتے رہیں گے؟ کیا دور دراز علاقوں کے شہری اسی طرح بنیادی سرکاری سہولیات کیلئے طویل سفر کرتے رہیں گے؟ کیا ترقی کا عمل چند بڑے شہروں تک محدود رہے گا یا پھر مختلف خطوں میں نئے ترقیاتی اور انتظامی مراکز قائم ہوں گے؟ یہ سوالات آج سنجیدہ جواب چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے انتظامی مستقبل کا فیصلہ صرف آج کے سیاسی فائدے اور نقصان کو دیکھ کر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں نئے صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کی بحث کو تقسیم کے لفظ سے جوڑنا درست نہیں۔ اصل مسئلہ تقسیم نہیں بلکہ بہتر انتظام ہے۔ اصل مسئلہ نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ عوامی سہولت کو بہتر بنانا ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی عہدوں میں اضافہ نہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اصل مسئلہ کسی قوم کی شناخت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ تمام قومیتی گروہوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے بہتر حکمرانی فراہم کرنا ہے۔بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کا وسیع رقبہ، دشوار گزار جغرافیہ، طویل فاصلے، منتشر آبادیاں، قومیتی تنوع اور مختلف معاشی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ مستقبل کے انتظامی نظام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ یہ ممکن ہے کہ موجودہ صوبائی نظام میں بڑی اصلاحات کرکے عوامی مشکلات کم کی جائیں، یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف خطوں میں مضبوط علاقائی انتظامی مراکز قائم کیے جائیں اور یہ امکان بھی موجود ہے کہ مستقبل میں عوامی ضرورت اور وسیع اتفاق رائے کی بنیاد پر نئی صوبائی اکائیاں تشکیل دی جائیں۔ لیکن کسی بھی صورت میں بلوچستان کے موجودہ انتظامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ صوبے کے عوام کو ایسی حکومت درکار ہے جو ان کے قریب ہو، ایسا نظام چاہیے جو فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کو کم کرے، ایسی ترقیاتی پالیسی درکار ہے جو ہر علاقے کی الگ ضرورت کو سمجھے اور ایسی سیاسی و انتظامی نمائندگی ضروری ہے جس میں دور دراز علاقوں کی آواز بھی برابر سنی جائے۔
نئے صوبوں کا قیام اگر مکمل تحقیق، آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت اور تمام قومیتی گروہوں کے اعتماد کے ساتھ کیا جائے تو یہ پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی انتظامی مضبوطی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ خصوصاً بلوچستان کے حوالے سے یہ بحث مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کرے گی، کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو صرف رقبے کے اعتبار سے بڑا سمجھنا کافی نہیں بلکہ اس کے انتظامی مسائل کو بھی اسی وسعت کے ساتھ سمجھنا ہوگا۔ بلوچستان کے ایک دور افتادہ ضلع میں بسنے والے شہری کو بھی وہی ریاستی سہولت حاصل ہونی چاہیے جو صوبائی دارالحکومت کے قریب رہنے والے شہری کو دستیاب ہے۔ دور دراز علاقے کے نوجوان کو بھی تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔مریض کو علاج کیلئے غیر ضروری طور پر طویل سفر نہ کرنا پڑے، طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کیلئے اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور کسان، ماہی گیر، مزدور اور عام شہری کے بنیادی مسائل ان کے اپنے علاقوں میں حل ہوں۔ایک جدید اور مضبوط ریاست کی اصل پہچان یہی ہے کہ اس کی حکومت عوام سے دور نہیں بلکہ ان کے قریب ہو۔ اس لیے بلوچستان میں نئے صوبوں یا متبادل انتظامی اکائیوں کے مسئلے پر بحث کو روکنے کے بجائے اسے علمی، آئینی اور قومی سطح پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اختلاف رائے ضرور ہونا چاہیے، مگر مکالمہ بھی ہونا چاہیے۔ تحفظات ضرور سامنے آئیں، مگر ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔قومیتی اور تاریخی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، مگر انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان کی وحدت، اس کی تاریخی اہمیت اور تمام قومیتی گروہوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے ایک ایسا انتظامی مستقبل تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں حکومت کے دفاتر اور فیصلے صرف ایک شہر تک محدود نہ ہوں بلکہ پاکستان کے اس وسیع ترین صوبے کے ہر خطے تک ریاست کی مؤثر رسائی ممکن ہو۔مضبوط بلوچستان صرف بڑے رقبے کا نام نہیں بلکہ ایسا بلوچستان ہے جہاں ریاست ہر شہری تک پہنچے، جہاں ترقی ہر ضلع اور ہر علاقے تک جائے، جہاں اختیارات چند ہاتھوں اور محدود مراکز میں جمع ہونے کے بجائے عوام کے قریب ہوں، جہاں جغرافیائی دوری محرومی کا سبب نہ بنے اور جہاں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے ہر شہری کو یہ احساس ہو کہ حکومت اس سے دور نہیں بلکہ اس کے مسائل کے حل کیلئے اس کے قریب موجود ہے۔ یہی نئے انتظامی صوبوں اور اکائیوں کی بحث کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے وسیع رقبے اور پیچیدہ جغرافیائی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اب وقت آگیا ہے کہ انتظامی اصلاحات کے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، کیونکہ بہتر حکمرانی، فوری فیصلہ سازی، متوازن ترقی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کیلئے مستقبل کا بلوچستان شاید ایک زیادہ مربوط، زیادہ بااختیار اور عوام کے قریب انتظامی نظام کا تقاضا کررہا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *